یہ کیسی جمہوریت ہے !
اس ملک میں طاقت کا سر چشمہ عوام ،محض ایک نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، اس ملک میں طاقتور چند خاندان ہیں ،جو کہ ہر دور اقتدار کی ناصرف باریاں لے رہے ہیں، بلکہ اس اقتدار کی اپنی منشا ،اپنی مرضی کے مطابق بند بانٹ بھی کررہے ہیں ،وہ اپنی کا بینہ کی اہم وزارتوں سے لے کر اعلی عہدوں تک میں اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو لا رہے ہیں اور اپنوں کو ہی نواز ے جارہے ہیں،انہیں کوئی پو چھنے والا ہے نہ ہی کوئی روکنے والا ہے ، جبکہ عوام خاموش ان کی منشاء کے مطابق چلنے اور غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور نظر آتے ہیں، یہ کو نسی جمہوریت اور کیسی جمہوریت ہے؟
اس ملک میں ایسی ہی جمہوریت ہے کہ جس میں اقتدار میں آنے اور اس کو چلا نے کاحق صرف اشرافیہ کا ہی رہ گیا ہے اور یہ حق نسل در نسل چلا جارہا ہے ،ا قتدار کے ایوانوں میں دور تک کہیں عوام کی حقیقی نمائندگی نظر ہی نہیں آرہی ہے ، سیاست سے لے کر اقتدار تک باپ ،بیٹا ،بیٹی، داماد ہی بر جمان ہیں،رہی سہی کسر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد، علی مصطفی ڈار نے باقاعدہ طور پر سیاست میں داخل ہوکر پوری کردی ہے،
انہیں آتے ہی پنجاب میں صوبائی وزیر کا درجہ دے دیا گیا ہے، اس کے تحت وہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھنے اور ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا اختیار رکھیں گے۔یہ علی مصطفی ڈار کو عام آدمی نہیں ہیں ، یہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چھوٹی اور اکلوتی بہن عاصمہ کے شوہر ہیں، جو دبئی میں مقیم ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے علی ڈار کو ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’خصوصی اقدامات کا مشیر مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک نیا محکمہ بھی قائم کیا گیا ہے کہ جس کا مقصد صوبے میں جدت پسندی، ٹیکنالوجی کا فروغ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ منصوبے ہوں گے ،یہ تقرر فوری طور پر نافذ العمل ہے
اور اس نئے کردار میں علی ڈار مستقبل کے ایسے منصوبوں کی تیاری اور نفاذ پر توجہ مرکوز کریں گے کہ جن کا مقصد گورننس میں بہتری، روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور ابھرتی ہوئی نئی ٹیکنالوجی AI کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔اس اہم عہدے کیلئے وزیر اعلی پنجاب کو کوئی دوسرا اہلیت کا حامل قابل دکھائی ہی نہیں دیا ہے
، کیو نکہ علی مصطفی ڈارایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 2000ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے،وہ بین الاقوامی سطح پر دو دہائیوں سے زائد کام کرنے کے بعد 2024ء کے انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کے بعد سے ہی ملک کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، پس پردہ ان کے کردار میں اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی ملاقاتوں میں سہولت کاری اور ٹیک ورئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیات کو اپنے ملک کا دورہ کرانے اور سرمایہ کاری کرانے پر آمادہ کرنا شامل ہے۔
یہ سب کچھ کوئی پہلی بار نہیں ہورہا ہے ، ہر دور اقتدار میں ایسا ہی کچھ ہوتا رہا ہے اور اس بار بھی ہورہا ہے، اس ملک کے ایک بڑے خاندان شریف خاندان کے موجودہ سربراہ میاں محمد نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، با اختیار اور فیصلہ ساز قوتوں کے عدم اتفاق کے سبب وہ چوتھی بار ملک کے وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے، تاہم اس وقت بھی ملک کی برسراقتدار پارٹی مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں اور ان کے برادر خورد محمد شہباز شریف وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں، جب کہ ان کے سمدھی محمد اسحق ڈار نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی اہم ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہیں،
میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کی انتہائی با اختیار وزیر اعلیٰ ہیں، ان کے ہی بھتیجے اور شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز رکن اسمبلی ہیں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں،قبل ازیں ان کے تیسرے بھائی عباس شریف مرحوم، ان کی اہلیہ کلثوم نواز مرحومہ اور ان کی والدہ مرحومہ بھی مختلف مواقع پر اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں،اس کے علاوہ بھی ان کے داماد، بھانجے، کزن اور دیگر رشتے دار مختلف سرکاری مناصب اور اسمبلیوں کی رکنیت سے سرفراز ہو چکے ہیں۔
یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی ہے ،یہ بات کھلی ہے تو بہت دور تک جائے گی ،اگر آج بھی مختلف اداروں اور سرکاری محکموں کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو شریف خاندان کے دور و نزدیک کے قرابت دار ایک خاصی بڑی تعداد میں مختلف عنوانات کے تحت سرکاری مراعات سے استفادہ کرتے ہوئے پائے جائیں گے
،اس ملک میں کوئی اہم وزارت یا اعلی عہدا خالی ہو سب سے پہلے اپنے رشتہ دار اپنے عزیز ،اقارب پر ہی نظر جاتی ہے ، یہ سارے میرٹ کی باتیں کر نے والے خود ہی میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہیں، انہیں عوام میں کوئی قابل اہلیت کا حامل دکھائی ہی نہیں دیتا ہے،اس پر سوال تو ہر ذہن میں ضرور اُٹھتا ہے کہ اگر یہ حکومت جمہوری ہے تو پھر بادشاہت کسے کہتے ہیں؟