شیطان قید ہے چیلے آزاد
تحریر نعیم الحسن نعیم
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جب اپنی رحمتوں کی چادر اوڑھے ہمارے درمیان آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی فضا بدل گئی ہو۔ سحری کی ساعتوں میں گلیاں خاموش مگر دل بیدار ہوتے ہیں افطار کے لمحات میں دعاؤں کی سرگوشیاں آسمان تک پہنچتی ہیں اور تراویح کی راتوں میں قرآنِ کریم کی تلاوت سے روحوں کو تازگی ملتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے ربِّ کریم نے اپنے خاص فضل و کرم کا مظہر بنایا
جس میں رحمت کے دروازے کھلتے ہیں مغفرت کی ہوائیں چلتی ہیں اور جہنم سے آزادی کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔ رمضان محض عبادت کا موسم نہیں بلکہ باطن کی اصلاح نفس کی تربیت اور کردار کی تعمیر کا عملی کورس ہے۔اس مہینے کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے اپنی کمزوریوں کو پہچانے اپنے گناہوں پر نادم ہو اور اپنے رب کے حضور عاجزی سے جھک جائے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں
بلکہ خواہشات کو قابو میں رکھنے زبان کو لغویات سے بچانے نگاہ کو پاک رکھنے اور دل کو کینہ و حسد سے صاف کرنے کا نام ہے۔ روزہ انسان کے اندر ایک ایسی قوت پیدا کرتا ہے جو اسے اپنے نفس کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں عبادات کا ذوق بڑھ جاتا ہے خیرات و صدقات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دلوں میں ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔لیکن اسی کے ساتھ ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے
اگر یہ مہینہ اتنی برکتوں اور فضیلتوں کا حامل ہے اگر اس میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے تو پھر معاشرے میں برائی کیوں باقی رہتی ہے؟ کیوں ظلم ناانصافی جھوٹ فریب اور خود غرضی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا؟ کیا واقعی شیطان قید ہے یا پھر اس کے چیلے آزاد گھوم رہے ہیں؟ انسان کو گناہ کی طرف لے جانے والے دو بڑے محرکات ہیں ایک نفس کی سرکش خواہشات اور دوسرا شیطان کا وسوسہ۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے
جس نے روزِ اول سے انسان کو گمراہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ دلوں میں شکوک پیدا کرتا ہے برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور انسان کو آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں اتار دیتا ہے۔ رمضان المبارک کی فضیلتوں میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اس مہینے میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی آزمائش ختم ہو گئی۔ نفس کی خواہشات تو بدستور موجود رہتی ہیں اور وہ لوگ بھی موجود رہتے ہیں جو شیطانی صفات کو اپنائے ہوئے ہیں۔
ایک بار میرے ایک دانشمند دوست نے نہایت فکر انگیز بات کہی۔ وہ کہنے لگے ہم یہ سن کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ رمضان میں شیطان قید ہو جاتا ہے
مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر شیطان قید ہے تو پھر بازاروں میں بے ایمانی کیوں جاری ہے؟ ظلم اور استحصال کیوں ختم نہیں ہوتا؟ کیا ہم نے اپنے اندر کے شیطان کو بھی قید کیا ہے؟ ان کی یہ بات دل میں تیر کی طرح لگی۔ واقعی اگر ہم اپنے نفس کی اصلاح نہ کریں تو بیرونی شیطان کے قید ہونے کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے معاشرے میں ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔
اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ اس قدر اوپر چلے جاتے ہیں کہ ایک غریب مزدور کے لیے افطار کا سادہ انتظام بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ وزن میں کمی ناپ تول میں ہیرا پھیری ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی جیسے ہتھکنڈے عام ہو جاتے ہیں۔ گویا کچھ لوگوں نے اس مقدس مہینے کو دولت سمیٹنے کا بہترین موقع سمجھ لیا ہو۔
کتنی دردناک بات ہے کہ جس مہینے میں ہمیں بھوک اور پیاس کا احساس دے کر دوسروں کی تکلیف سمجھنے کی تعلیم دی جاتی ہے اسی مہینے میں کچھ لوگ دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جو سارا دن دھوپ میں محنت کرتا ہے شام کو بازار جاتا ہے تو قیمتیں اس کے حوصلے توڑ دیتی ہیں۔
اس کے بچوں کی آنکھوں میں فروٹ اور اچھے کھانے کی خواہش ہوتی ہے مگر اس کی جیب اجازت نہیں دیتی۔ یہ منظر کسی بھی صاحبِ دل انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔افسوس کی انتہا تو یہ ہے کہ بعض تاجر جو پورا مہینہ ناجائز منافع خوری میں مصروف رہتے ہیں رمضان کے آخری عشرے میں عمرے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مقدس سرزمین پر حاضری ان کی تمام کوتاہیوں کا ازالہ کر دے گی۔ مگر کیا عبادت صرف ظاہری اعمال کا نام ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لیے بندوں کے حقوق پامال کرنا جائز ہو سکتا ہے؟ حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر عبادت کی عمارت ادھوری رہتی ہے۔
جب انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو بعض تاجر احتجاج پر نکل آتے ہیں۔ بازار بند نعرے بلند اور خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف عوام جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہوتی ہے انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہنے لگتی ہے۔ یوں اصل مجرم پس منظر میں چلا جاتا ہے اور شور شرابا سچ کو دبا دیتا ہے یہاں ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم واقعی رمضان کی روح کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہماری عبادات کا تعلق مہنگے فروٹ مرغ اور گوشت سے ہے؟ یقین جانیے اگر رمضان المبارک میں ہم فروٹ نہیں کھائیں گے مرغ اور گوشت نہیں لیں گے
تب بھی ہماری عبادات قبول ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دسترخوان کی رنگینی نہیں بلکہ ہمارے دل کی کیفیت دیکھتا ہے۔ اگر ہم سادگی اختیار کریں اسراف سے بچیں اور ان اشیاء کا بائیکاٹ کر دیں جو بلاجواز مہنگی کی گئی ہیں، تو یقیناً بازار میں اعتدال پیدا ہو سکتا ہے۔رمضان ہمیں قناعت کا سبق دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل دولت دل کا سکون ہے نہ کہ پلیٹ کی بھرمار۔ اگر ہم اجتماعی طور پر فیصلہ کر لیں کہ ناجائز منافع خوروں کا ساتھ نہیں دیں گے تو مصنوعی مہنگائی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ خاموش بائیکاٹ ایک طاقتور پیغام ہوتا ہے۔ یہ پیغام کہ ہم اپنی عبادت کو اخلاص کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں،
نہ کہ نمود و نمائش کے ساتھ۔ شیطان کی مثال اس بھونکتے ہوئے کتے کی مانند ہے جو صرف اسی وقت تک خوف پیدا کرتا ہے جب تک ہم اس سے ڈرتے رہیں۔ اگر ہم ثابت قدمی اختیار کریں تو اس کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔ اسی طرح جب ہم حرص و لالچ کے سامنے جھکنے کے بجائے صبر اور قناعت کا راستہ اپناتے ہیں تو برائی کمزور پڑ جاتی ہے۔ روزہ ہمیں یہی تربیت دیتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو لگام دیں
اور اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔اگر رمضان میں بھی ہم نے اپنی روش نہ بدلی اگر ہم نے اپنے اندر کے شیطان کو آزاد چھوڑ دیا تو بیرونی شیطان کے قید ہونے کا فائدہ کیا ہوگا؟ اصل کامیابی یہ ہے کہ یہ مہینہ ہماری سوچ بدل دے ہمارے معاملات بدل دے اور ہمارے معاشرے میں انصاف، ہمدردی اور دیانت کو فروغ دے۔
آئیے اس رمضان عہد کریں کہ ہم سادگی کو اپنائیں گے ناجائز منافع خوری کا حصہ نہیں بنیں گے اور ضرورت سے زیادہ مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کر کے یہ ثابت کریں گے کہ عبادت اخلاص سے ہوتی ہے تعیش سے نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو بھی یہ سبق دیں گے کہ رمضان کا اصل حسن سادگی، ہمدردی اور ایثار میں ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارے نفس کو پاکیزگی بخش ہمیں شیطانی وسوسوں اور حرص و لالچ سے محفوظ رکھے، اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی ہمت دے جہاں رمضان صرف عبادات کا مہینہ نہ ہو بلکہ عدل و احسان کا عملی نمونہ بن جائے۔ آمین۔