83

سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات !

سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات !

ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہی جارہا ہے ، یہ داخلی سیاسی بحران معاشی بحران کو سنگین بنا رہاہے اور معاشی بحران سماجی بحران کو جنم دے رہاہے ،اس طرح کے حالات میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے ’فورس‘ بنانے کا اعلان کر کے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان میںسٹریٹ موومنٹ اور رہائی فورس جیسا بیا نیہ ظاہر کررہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی راستوں کی ناکہ بندی اور دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ والی پرانی حکمت عملی پر کاربند رہتے ہوئے معاملات کو سڑکوں پر حل کرنے کے خواہاں ہیں‘ لیکن کیا اس سے پہلے معاملات سڑکوں پر حل ہو پائے ہیں ، جو کہ آئندہ حل ہو پائیں گے ،سیاسی تنازعات مل بیٹھ کر مذاکرات سے ہی حل ہو پائیں گے۔
اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن متعدد بار ایسی احتجاجی سر گر میوں میں ناکام ثابت ہو چکی ہے، اس کے باوجود اپنی ناکام حکمت عملی کو ہی بار بار دہرایا جارہا ہے اور ایک بار پھر باور کرایا جارہا ہے کہ ہم اپنے معاملات پا رلیمان کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حل کرائیں گے ، وزیراعلیٰ کا عہدہ ایک آئینی منصب ہے، جوکہ پورے صوبے کی نمائندگی کرتا ہے، کسی بھی وزیراعلیٰ کے لیے قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے ،اگر کسی صوبے کا انتظامی سربراہ سیاسی مقاصد کے لیے جتھوں یا نجی فورسز کی تشکیل کی بات کرتا ہے تو لاشعوری طور پر ریاست کی رِٹ کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے،ریاست کبھی اپنی رٹ کمزور ہونے نہیں دیے گی اور اپنی پوری طاقت کا استعمال کر ے گی ، اس سے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں، اس لیے ہی جمہوری معاشروں میں سیاسی مطالبات کا حل سڑکوں پر فورسز بنانے کے بجائے پارلیمان اور عدالتوں میں تلاش کیا جاتا ہے۔

اس وقت پہلے ہی ملک دہشت گردی کی لہر میں اضافے کی صورت میں گونا گوں مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور مزید سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے،اس لیے سیاسی مسائل کے حل کیلئے ایک ایساراستہ اختیار کرنا چاہیے، جوکہ مسائل کو بڑھانے کے بجائے سلجھانے کا ذریعہ بنے، اس کیلئے افہام وتفہیم اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہے کہ جس سے نا صرف سیاسی بحرانوں کا حل تلاش کیا جا سکتا ، بلکہ بند دروازے بھی کھولے جا سکتے ہیں،لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات نہ صرف وفاق اور صوبے کے مابین خلیج کا تاثر بڑھا رہے ہیں، بلکہ اس سے اُن عناصر کو بھی شہ ملنے کا خدشہ ہے، جو کہ پہلے ہی صوبے کے امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی تاک میں بیٹھے ہیں،ہمیں اپنے کسی بیا نیہ یا کسی رد عمل سے ملک دشمن عناصر کو تقویت دیناہے نہ ہی انہیں کو ئی ایسا موقع فراہم کر نا ہے کہ جس سے اتفاق میں کوئی نفاق ڈالنے میں کا میاب ہو سکیں ،آپس کا اتحاد ہی ملک دشمن کی ہر سازش کو ناکام بناسکتا ہے ۔

خیبر پختونخوا دو عشروں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے عفریت سے نبرد آزما ہے‘ ایسے میں سکیورٹی فورسز کی معاونت اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے داخلی امن وامان کو بہتر بنانے کے بجائے سیاسی کارکنوں کو ’فورس‘ کا نام دے کر میدان میں اتارنا انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے اور سیاسی کارکنوں کو اطمینان دلانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے، اگرچہ احتجاج اور سیاسی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، مگر اس حق کو ریاست اور انتظامیہ کے خلاف استعمال کرنا درست نہیں ہے،اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک نیا سیاسی محاذ کھولنے کے بجائے وزیراعلیٰ کے پی کو اپنی توجہ عوامی فلاح اور صوبے کے سنگین انتظامی مسائل پر مرکوز کرنی چاہیے اوراپنے ماضی کے تجزبات سے جان لینا چاہیے کہ جتھہ بندی اوراحتجاج اور دھرنے کا راستہ کبھی بھی پائیدار سیاسی حل کی طرف نہیں جاتا ہے ، اس کے لیے کوئی جمہوری افہام و تفہیم کا راستہ ہی اختیار کرنا ہوگا ۔
یہ بات حکو مت اور اپوزیشن دونوں ہی جانتے ہیں ،اس کے باوجود دونوں ہی عمل پیراں نہیں ہے، ایک دوسرے کو گرانے اور ایک دوسرے کو ہٹانے کی تکو دو میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ فیصلہ ساز اپنے ایجنڈے پر گامزن ہیں،اس کے تحت ہی بنایا گیا نظام ہی چلانا چاہتے ہیں اور اس کو کا میاب بھی بنانا چاہتے ہیں ، جبکہ ایسا پہلے ہو پایا نہ ہی آئندہ ہو پائے گا ،اس لیے ایسی کسی خوش فہمی سے سب کو ہی باہر نکل آنا چاہئے کہ یہ ہائبرڈ نظام کامیاب ہو جائے گا اوراس کے زیر اثر لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے ، ہمیںایک نارمل طریقے سے سیاست و جمہوریت کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہو گا اورایک ا یسی جمہوریت کو فروغ دینا ہو گا کہ جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور لوگوں کی بنیادی آزادیوں کو تسلیم کیا جائے،ان کے ووٹ کے حق کو نہ صرف مانا جائے ، بلکہ ان کے ہی فیصلے پر منوعن عمل بھی کیا جائے ، اس کے بغیر ملک میں سیاسی استحکام لایا جاسکتا ہے نہ امن و امان قائم کیا جاسکتا ہے نہ ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں