کرناٹکا اسیٹ لیول صحافی کانفرنس و ریاستی ایوارڈ تقریب بھٹکل
نقاش نائطی
۔ +966562677707
ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے والی استعداد کے ساتھ “ناگ یوکتےدھرمارتھ سبھا بھون” آڈیٹوریم میں کرناٹکا اسٹیٹ لیول صحافتی کانفرنس اور ریاستی ایوارڈ تقریب کا افتتاح ایک ننھی بچی کے ھندو ریجول کلاسکل مسحور کن ڈانس کے ساتھ شروعات ہوئی ۔ ڈائیس پر پوری ریاست سے آئے مختلف ضلعی صحافی ذمہ داروں کے ساتھ مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر خادم قوم جناب عنایت اللہ شاہ بندری صاحب, سابق ریاستی صدر شیوانند نائک, ہائی کورٹ وکیل شری ناگیندر نائک مہمان خصوصی کی حیثیت, شریمتی رادھا ھریگوڈر مہمان اعزازی کی حیثیت, اور ھندو گرو شری شری ماروتی مہاراج صدر جلسہ کی حیثیت جلوہ افروز تھے
۔ اس کانفرنس کی افتتاح کرنے خصوصی بلائے گئے سپریم کورٹ ریٹائرڈ جج, نیز سابق لوک ایوکت جج اور ڈسٹرکٹ وزیر حکومت کرناٹکا منکل ویدیہ, ہمیں لگتا ہے بعض مجبوریوں کی وجہ دونوں مہمان شریک جلسہ نہ ہوسکے البتہ مہمان افتتاح سپریم کورٹ جسٹس سنتوش ھیگڈے نے آن لائن فون پر سامعیں جلسہ سے خطاب کئے جلسے میں شرکت نہ کرسکتے کے لئے معذرت کی۔ آج کی اس کانفرنس نما میڈیا جلسے کے لئے پوری ریاست سے کئی سو نمائیندکان پر مشتمل ریاستی سطح کا اتنا بڑا جلسہ بھٹکل تعلقہ میں اہتمام کیا جانا, پوری ریاست میں شہر بھٹکل کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے
وہ بھی ایسے سنگھی منافرتی دور میں,جہاں کسی نہ کسی بہانے, اس دیش کے امن پسند باشندے ہم مسلمانوں کو اور بھٹکل جیسے مشہور مسلم علاقوں کو,کسی نہ کسی بہانے نفرتی انداز بدنام و رسوا کئے, اسے معاشرتی طور یک و تنہا رکھنے کی سازش صدا رچی جاتی ہے اس کے لئے ہمیں بھٹکل تعلقہ صحافتی انجمن کے صدر شری سریش نایک آور انکے ریاستی صدرشری ملکا ارجن بنگلے کی مثبت سوچ اور انکےایسے پروگرام منعقد کرنے کی صلاحیت درشانے کافی ہے۔اس میڈیا کانفرنس میں جہاں پورے ریاستی میڈیا نمائندوں پر مشتمل بیسیوں مرد ونساء مسلم و ھندو نمائیندوں کو سرٹیفیکیٹ ٹرافی و گلپوشی کئے انکی تہنیت کی گئی وہیں
ضلعی و یونیورسٹی سطح نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے مرد و نساء طلباء و طالبات کی بھی گلپوشی و تہنیت کی گئی وہیں شہر بھٹکل کے مشہور سماجی ورکر صحت عامہ انکی ہاسپٹل رضاکارانہ خدمات کے لئے جواب قاسمجی نذیر کی گلپوشی شالپوشی تہنیت کی گئی, وہیں خلیج میں مصروف معاش منطقہ شرقیہ جماعت کے سابق جنرل سکریٹری و سابق صدر مجلس اصلاح و تنظیم کے سابق نائب صدر المحترم محمد فاروق شاہ بندری المعروف نقاش نائطی ابن بھٹکلی کو 2005 مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ اس کے اپگریڈیشن کے لئے تارکین وطن مملکت سعودیہ میں وجود میں لائے گئے ویسٹ کوسٹ این آئی آر فارم کے صدر رہتے مینگلور ایرپورٹ عالمی اڑان کے لئے لائق بنائے جانے, انکی خدمات کے پیش نظر, انکی سراحنا کرتے ہوئے, ان کی بھی گلپوشی و شال پوشی تہنیت کی گئی۔
اس صحافتی کانفرنس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی جناب عنایت اللہ شاہ بندری نے کہا کہ سابقہ دو دہے سے سازشتا” شہر بھٹکل کے خلاف نفرتی نیوز اچھال اچھال پوری ریاست و ملک بھر میں بھٹکل کو بدنام کئے جاتے پس منظر میں, ریاست گیر صحافتی کانفرنس بھٹکل میں منعقد کئے جانے پر ریاستی صحافتی بزم کے صدر ملکا ارجن بنگلے اور سریش نائک کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فرد یا اس کی قوم و برادری کو تعریف کئے, سر پر اٹھانے اور بیکار بدنام کئے, اسے زمین پر پٹخنے لائق چھوڑنے کا گر, میڈیا والوں کو بخوبی آتا ہے, انہوں نے ریاست بھر سے بھٹکل اس صحافتی کانفرنس میں تشریف لائے
متعدد صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آب چونکہ وہ بھٹکل تشریف لاچکے ہیں اس پروگرام کے بعد بھٹکل و اطراف بھٹکل مرڈیشور مندر خوب اچھی طرح گھومیں پھریں لوگوں سے ملیں اور انہیں بھٹکل کی فضاء پرآمن نظر آتی ہے اور یہاں کے لوگ سنجیدہ اور معاونت والے نظریات کے لگتے ہیں تو پھر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جانے کے بعد میڈیا پر دانستہ پھیلائے گئے
منفی رجحان صفائی پیش کئے, عوام میں بھٹکل کے تئیں منفی تاثرات کو زائل کرنے کی سعی کریں۔ اور آئیندہ ایسی ریاست گیر یاکہ ملک گیر صحافتی کانفرنس بھٹکل میں منعقد کرنا بھی ہوتو وہ بحیثیت بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم صدر کہا کہ خیر کے کام میں ہر قسم کا تعاون پیش کرنے ہمہ وقت تیار رہنے کا اعلان کیا۔ آج کے جلسہ کے ایک اور مہمان خصوصی سابق ریاستی وزیر شیوانند نائیک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا
آج کے اجلاس کی صدارت کرنے والے گیروے لباس پہنے ھندو سوامی شری شری ماروتی مہاراج نے, اپنے پرمغز سبز ذہنی تفکرات سے, خطاب کرتے ہوئے ریاست بھر کےصحافیوں سے مخاطب کئے کہا کہ بحیثیت ایک ذمہ دار صحافی آپ لوگوں کا دھرم ہے, پھر رک کر کہا کہ دھرم سےمیری مراد ھندو مسلمان نہیں, بحیثیت صحافی آپ لوگوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ آپنےفائیدے کے لئے, حکومتی چاٹو کرتا, وقتی فائیدہ اٹھانے کے بجائے, عوامی فلاح و بہبود, کے لئے پوری ایمان داری سے کام کریں چاہے
اس کے لئے آپ صحافیوں کو حکومت وقت کی ناراضگی ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ اتنی بڑے مجمع کی ذہنی تسکین کے لئے دو مختلف موقوع پر ایک لڑکی نے ٹیپیکل مذہبی اندار مختلف شمعون سے ھندو ریچول کلاسیکل مسحور کن ڈانس اور شیطانی اثرات سے متاثرہ لڑکی نرتکیہ ھندو مذہبی ڈانس سے کیسے اپنے آپ کوبچا پاتی ہے, بڑے ہی خوبصورت ڈانس سے سامعین کو جھومنے مجبور کیا ۔اور داد تحسین حاصل کی۔
منجملہ یہ صحافتی کانفرنس اپنے اعتبار مختلف المذہبی ہم ہندستانیوں کے درمیان بھائی چارہ امن و سکوں قائم رکھنے کے اعتبار ایک بہترین کامیاب کانفرنس رہی۔ بھٹکل ہی کے کراولی نیوز کے شاہ بندری نسیم الغنی سریش نائک اور انکی پوری صحافتی ٹیم اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں
ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ امید واثق ہے جب تک میڈیا سے تعلق خاص رکھنے والے یہ نامہ گار مذہبی منافرت سے ماورائیت اختیار کئے,اپنے دھرم گرو ماروتی سوامی ہی کی ہدایت پر عمل پیرا رہتے,بغیر تفاوت مذہب غیر جانبدارانہ (نشپکتاسے)اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے وہ ایشور اللہ ہم ھندو مسلمانوں کے درمیان محبت اخوت ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کے جذبے کو جگائے رکھے, “سب کا ساتھ اور سب کا وکاس” ہوتے بھارت کو وشؤگرو بنانے ممد و مددگار ثابت ہوتے رہیں گے۔وماالتوفیق الا باللہ
ان شخصیات کا شکریہ جنہوں نے منگلور – خلیجی ممالک براہ راست پرواز کے لئے محنت, کوششیں کی
*کوسٹل ڈائیجسٹ ڈاٹ کام اپریل 2011 پر پوسٹ ہوا مضمون*
ساحلی کرناٹک کو عرب ممالک سے براہ راست جوڑنے کے لئے, اپنے تین سالہ کامیاب کیمپنگ کے ساتھ جو پروجیکٹ ایک سنگ میل تک پہنچ گیا ہے۔ اب ایئرانڈیا ایکسپریس 3,اپریل 2011 کو منگلور سے دمام کے لئے اپنی پہلی براہ راست پرواز شروع ہونے جارہی ہے۔ اس اعلان کے بعد، اظہار تشکر کے طور پر، ہم نے(کوسٹل ڈایجسٹ) مملکت کے مشرقی صوبے میں منگلور کے کچھ لوگوں سے ملنے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے شروع سے ہی اس مقصد کے لئے کام کیا تھا۔
ہم ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کی کوشش کو نہیں بھول سکتے، جو 2005 میں منگلور کو سعودی عرب سے براہ راست جوڑنے کے واحد مقصد کے ساتھ وجود میں لایاگیا تھا۔
فورم کے بانی صدر محمد فاروق شاہ بندری کے مطابق، یہ سعودی عرب میں منگلور کے باشندے تھے جنہوں نے اپنے وطن کے لئے براہ راست پرواز کے خیال کو اس وقت پروان چڑھایا، جب منگلور ایئرپورٹ کسٹم ایئرپورٹ نہیں بنا تھا۔ درحقیقت، فورم نے ابتدائی دنوں سے ہی اس وقت کے ڈومیسٹک ایئرپورٹ کو کسٹم ایئرپورٹ میں اپ گریڈ کرنے کے معاملے کی کوشش کی تھی۔
“جب فورم کے ممبران نے شروع میں منگلور ہوائی اڈے کے اس وقت کے ڈائریکٹر ایم آر واسودیوا کے ساتھ اس معاملے پر بات کی، تو بعد میں اس نے اس خیال کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپسی ملاقاتی نشستوں میں دیکھے گئے خیالی خواب کو, حقیقت کا رنگ بھرنے,عرب ممالک یا سعودیہ سے مینگلور ایرپورٹ پر براہ راست اترتے خواب کو پورا کرنے کے ساتھ بین الاقوامی پروازوں کو مینگلور ہوائی اڈے پر خوش آمدید کہنے, اس مسئلے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ اس سمت مسٹر محمد فاروق شاہ بندری نے یاد کیا۔
“متعلقہ حکام کو میمورنڈم،” حکام کو اس سلسلے میں میمورنڈم پہنچانے,انکے ساتھ ویسٹ کوسٹ این آرآئی فورم کے ذمہ دار وشواناتھ کامتھ، جو ان دنوں بہت سی میٹنگوں میں مسٹر محمد فاروق شاہ بندری کے ساتھ رہے تھے، ابتدائی مرحلے میں مسٹر شاہ بندری اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی ستائش کرتے ہیں۔ تاہم، جب منگلور ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کو خوش آمدید کرنا شروع کر دیا گیااور متحدہ عرب امارات براہ راست بندرگاہی شہر منگلور سے منسلک ہو گیا، تو انہیں واجب الادا کریڈٹ نہیں دیا گیا اور چند لوگوں نے اپنے فائدے کے لئے پورے معاملے کو ہی ہائی جیک کر لیا تھا
محمد علی، فورم کے کوآرڈینیٹر مینگلور ہوائی اڈے کو اپ گریڈ کرنے اور منگلور اور خلیجی ممالک کے درمیان براہ راست فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لئے ان کی ٹیم کی طرف سے کی گئی بات چیت اور فالو اپ کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
اس سے پہلے، 2009 میں بھی، AIE نے منگلور دمام براہ راست پرواز کے لئے ایک شیڈول تجویز کیا تھا، لیکن، بعد میں اسے کچھ مفاد پرستوں کی لابنگ کی وجہ سے رد کر دیا گیا۔ وہاں کے بعد سے معاملات سست ہو گئے اور تباہ کن منگلور ہوائی حادثہ، جس نے 2010 میں جہاز میں 158 لوگوں کی جانیں لے لیں، چیزوں کو مزید مشکل بنا دیا۔ تاہم، Coastaldigest.com ابتدائی مرحلے میں فورم کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
کوسٹل ڈائجسٹ ڈاٹ کام
Coastaldigest.com
کے نمائندے نے الجبیل کے ایک مشہور ومعروف ریسٹورنٹ “تندوری نائٹ” میں ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کے عہدیداروں سے ملاقات کی تاکہ نئی پیشرفت کے بعد فیڈ بیک اور ان کے پیغامات اکٹھے کئے جائیں
میٹنگ میں محمدفاروق شاہ بندری، وشوناتھ کامتھ، محمد علی، فاروق پورٹ فولیو، نارائنا بھٹ، شیورام اور تندوری نائٹ جناب فاروق شاہ بندری کے شریک تجارت حبیب الدین شیخ بھی موجود تھے۔
ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کے صدر محمد فاروق شاہ بندری کے مطابق منگلور ایرپورٹ کو انٹرنیشنل کسٹم ایرپورٹ کے طور ترقی پزیر بنانے والا یہ پروجیکٹ آسان نہ تھا۔ اس کے لئے سب سےزیادہ تعاون اس وقت کے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ کے ڈائرکٹر ایم آر واسو دیوا کا بڑا اہم رول رہا ہے۔
دراصل بمبئی سے مینگلور ڈومیسٹک پرواز کے دوران ایرپورٹ پرخاص ملاقات میں سب سے پہلے ڈومیسٹک مینگلور ایرپورٹ, اس کی تاسیس پر پچاس سال گزرنے کے باوجود اسے عالمی اڑان لائق ترقی پزیر نہ کئے جانے اور کیرالہ میں پہلے سے تین عالمی معیار ایرپورٹ رہتے کنور میں چوتھے عالمی معیار ایرپورٹ تعمیر کئے جانے والی کیرالہ عوام کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے, تازہ ترکاری فروٹ سمیت بہت ساری اشیاء مینگلور سے بیروں ممالک ایکسپورٹ کئےجانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے,
شہری ہوا بازی منسٹر, حکومت ھند کے سامنے رکھنے کی ضرورت کو سب سے پہلے کوسٹل علاقے کے مصروف معاش خلیجی ممالک ہم تارکین وطن کے اذہان میں ڈالی گئی تھی۔ اس سلسلے میں سعودیہ کے سب سے بڑے صنعتی شہر الجبیل میں مختلف مصانع میں مختلف بڑے عہدوں پر مصروف معاش ہم تارکین وطن کوسٹل کرناٹکا کو 2005 سال کے درمیانی حصے میں فاروق شاہ بندری نے اپنے ہوٹل,سی اینڈ شورمیں تفکراتی نشست دعوت پر بلائے,انکے سامنے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ کو ترقی پزیرکئےجاتے,
اسےعالمی کسٹم ایرپورٹ میں تبدیل کئے جانے کی ضرورت محسوس کروائی تو تمام حاضرین نے بیک آواز مینگلور ایرپوٹ اپ گریٹ کئے جاتے اسے عالمی کسٹم ایرپورٹ میں منتقل کئے جانے کی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے, ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کی بنیاد رکھی گئی تھی اور چونکہ اپنے مقصد حصول اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے اور احقر کےذاتی تجارت منسلک رہتےمسلسل سفر ھند کے پیش نظر اس نومولود ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کی صدارت ہمارے ہی ناتواں کندھوں پر رکھی گئی تھی
۔ چونکہ یہ دستخطی مہم عرب کھاڑی کے تمام عرب ممالک میں مصروف معاش کوسٹل کنڈیگاس ہم تاریک وطن کو شامل کرنا تھا اور ان ایام واٹس آپ سہولیات عدم دستیابی والے پس منظر میں, ایک فورمیٹ ترتیب دئیے,ای میل پراسے تمام کوسٹل کنڈیگاس تک پہنچاتے ہوئے, اپنے ترتیب دئیے حکومتی میمورنڈم کے لئےدستخطی مہم شروع کی گئی۔ مینگلور ایرپورٹ اپگریڈیشن منصوبے کو پائے تکمیل پہنچانے میں امارات دوبئی میں مصروف معاش مشہور ڈائجی ورلڈ ڈاٹ کام کے ذمہ دارراجیش سیکویرا کے تعاون کو ہم فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔
الغرض خلیج کے کھاڑی ملکوں کے کوسٹل کرناٹکا ہم تارکین وطن کےنام و پتہ خلیج و ھند و پاسپورٹ نمبر مع دستخط شدہ فارم پر مشتمل تمام صفحات کو ایک کتابی شکل دئیے, ہمارے میمورنڈم کو لئے ہم جب مینگلور ایرپورٹ ابتدا میں اترے تھے تو مینگلور ایرپورٹ کے اس وقت کے ڈائرکٹر واسودیوا نے ایرپورٹ پر نہ صرف ہمارا پرتپاک خیر مقدم کیا تھا بالکہ ہمارے تصورات سے اوپر مینگلور ہماری رہائش پذیر ہوٹل پر ہم سے مسلسل رابطہ قائم رکھے
مینگلور میڈیا منسلک افراد سے ہمارا غائبانہ تعارف کروائے ایرپورٹ اپگریڈیشن پروجیکٹ کو عوام تک پہنچائے عوامی ساتھ حاصل کرنے کے لئے ان ایام ہمارا انٹرویو لینے کا خاطر خواہ انتظام بھی کیا تھا جو ہماری غیر شستہ کنڑا ھندی مکس زبان لئے گئے انٹرویو کو ان ایام مسلسل کئی روز تک متعدد دفعہ مقامی کنڑا چینل پر براڈکاسٹ بھی کیا گیا تھا اور واسو دیوا ہی کی کوششوں سے چیمبر آف کامرس مینگلور کے ذمہ داروں سے ہماری ایک نشست رکھے مینگلور ایرپورٹ ترقی پزیری کو عوامی مہم میں تبدیل کرنے کی سعی کی گئی تھی۔
گو ان ایام چیمبر آف کامرس مینگلور کے ذمہ دار مینگلور ایرپورٹ ترقی پزیر کئے جاتے عالمی معیار ایرپورٹ بنانے جانے والے پروجیکٹ کو ناممکنات نصور کرتے تھے۔ انہی ایام مینگلور سائیبین کمپلیکس کے سامنے کارپوریشن بلڈنگ میں ہمارے ہردلعزیز دوست محترم عبدالرحمن جان کی موجودگی میں ہوئی, پریس میٹ میں,مینگلور ایرپورٹ اپگریڈیشن پروجیکٹ کو جس بہتر انداز عوامی ضرورت کے طور پیش کرتے ہوئے اس منصوبے کو عوامی رنگ دینے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کے شاہد عبدالرحمن جان ہمارے درمیان موجود ہیں۔اللہ انکو صحت کاملہ والی زندگانی عطا کرے یہی ہم انکے لئے دعا کرسکتے ہیں۔
2005 جولائی اگست شہر بھٹکل میں تعلیمی ترقی پزیری کے لئے منعقد کئے جانے والے سب سے بڑے عوامی پروگرام رابطہ تعلیمی ایوارڈ میں مہمان خصوصی کی حیثیت شریک جلسہ ہونے ڈسٹرکٹ منسٹر دیش پانڈے بھٹکل آرہے تھے۔ اس موقع کو غنیمت جانے اس وقت کے خلیجی ممالک بھٹکل کی بااثر شخصیت متوفی محترم خلیل الرحمن سے اے صاحب سے مل کر ہمیں دو چار منٹ ڈسٹرکٹ منسٹر سے تبادلہ خیال کے لئے وقت دینے کے درخواست کی تھی لیکن اس وقت انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ منگلور ایرپورت عالمی معیار کا بنایا ہی نہیں جاسکتا
ہمیں منسٹر سے ملنے وقت دینے سے معذرت کرلی تھی لیکن اللہ بھلا کرے المحترم متوفی ڈاکٹر بدرلحسن معلم صاحب کا جنہوں نے ڈسٹرکٹ منسٹر سے اپنا مدعا رکھنے چند منٹ کا وقت نکلواکے دیا تھا۔اس وقت اس لحاظ سے خوشی ہوئی جب ڈسٹرکٹ منسٹر نے یہ کہتے ہوئے کہ اس وقت کے مرکزی ہوا بازی منسٹر پرفل پٹیل سے چونکہ انکی رشتہ داری ہونے جارہی ہے اسلئے وہ ہمارے مینگلور ایرپورٹ اپگریُیشن پروجیکٹ کو پرفل پٹیل کے سامنے موثر انداز رکھ سکتے ہیں ۔
بھٹکل سیاسی افق پر تیزی سے اپنے اثر رسوخ چھوڑتے آج کے خادم قوم عنایت اللہ شاہ بندری کے ساتھ اپنے میمورنڈم کو لئے ہم بنگلور گئے تھے
دیوے گوڈا سے ہماری مفصل ملاقات ہوئی اور اس وقت دیوے گوڈا ہی نےجنتا دل سے ملکر مخلوط چلائی جاری ایس ایم کرشنا والی کرناٹک حکومت کے وزیر خزانہ سے اپوائنمنٹ نکلوا کردیا دیا تھا تاکہ اگر وہ قائل ہوجائیں توایرپورٹ اپگریڈیشن کے لئے, رن وے توسیعی منصوبہ مقامی رہایشی لوگوں کو کہیں اور بسانے, ریاستی سرکاری بجٹ سے رقم تفویض کرسکیں۔ الحمد للہ بنگلور پریس کلپ ہماری پریس میٹ اور مختلف وزیروں سے ملاقات نے منگلور ایرپورٹ اپگریُیشن پروجیکٹ کو تقویت پہنچائی تھی۔ بنگلور پریس کلپ پریس میڈ ہمارے برملا اظہار خیال بعد کہ پڑوسی چھوٹا ساصوبہ کیرالہ پہلے ہی تین عالمی معیار ایرپورٹ موجودگی
باوجود کنور چوتھے ایرپورٹ افتتاح کی تیاریوں میں مصروف ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال اتنا بڑا صوبہ کرناٹک ابھی تک ایک بھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے محروم ہے( 2005 تک بنگلور ایرپورٹ بھی انٹرنیشنل ایرپورٹ نہ ہوتے فقط عالمی معیار کا ایرپورٹ تھا) ہمیں یاد پڑتا ہے اس بنگلور پریس میٹ کی خبر دوسرے دن کے مقامی کنٹرا انگلش اخبارات کی زینت بننے کے بعد دوسرے یا تیسرے دن کے مقامی اخبار میں شہری ہوابازی منسٹر پرفل پٹیل کی طرف سے مینگلور ایرپورٹ عنقریب افتتاح کئے جانے کا اعلان کیا تھا
اس وقت کے اخبارات تراشےہماری بات تصدیق کے لئے ہمارے پاس موجود ہیں۔ اور یوں فرزند بھٹکل کے اپنے مینگلور, برادران وطن ساتھیوں کے باہمی تعاون سے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ اپگریٹ کئے جاتے خلیجی پروازوں کے لئے کھول دئیے جانے کےلئے بڑا اہم کرداررہا ہے۔ بالآخر 3 اکتوبر 2006 دوبئی سے پہلی ایر انڈیا ایکسپریس فلائیٹ مینگلور رن وے پر اترتے ہوئے, مینگلور ایرپورٹ کو انٹرنیشنل کسٹم ایرپورٹ ڈکلیر کیا گیا تھا۔
22 مئی 2010 دوبئی سے مینگلور رن وے پر اتر رہے ہوائی جہاز کے حادثہ کا شکار ہوئے بھٹکل کے کئی مسافروں کے ساتھ 158 مسافروں کے دم توڑتے پس منظر میں, مینگور دمام سعودیہ مجوزہ اڑان تاخیر کا شکار ہوگئی تھی۔
اس کے باوجود غالبا” سال 2011 ابتدائی مہینوں میں مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر متوفی ڈاکٹر بدرالحسن معلم اور جماعت المسلمین صدر عبدالرحمن جان کے ساتھ احقر بھی بھٹکل ہائی وے توسیعی منصوبے کے سلسلے میں ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا سے ملاقات کئے بھٹکل شاہراہ پر فلائی اوؤر کا متجوزہ منصوبہ پہلی دفعہ ہم ہی نے منظر عام پر لایا تھا۔جسے 25 دسمبر 2014 اس وقت اختتامی فنکشن کے مہمان خصوصی چیف منسٹر کرناٹک شری سرارامیا کے کھانے دوران انکے سامنے رکھتے ہوئے, عوامی اجلاس ان کے خطاب دوران, انہوں نے بھٹکل کے لئے فلائی اوؤر دینے کا بیسیوں ہزار عوام کے سامنے وعدہ بھی کیا تھا یہ اور بات ہے کہ صدا کروڑوں کے پروجیکٹ کے سہانے خواب قوم کو دکھلانے والے ہمارے اہل تدبر و تفکر خلیجی رہبران نے, چیف منسٹر سے براہ راست ملتے رہے
بھٹکل کے لئے فلائی اوؤر حاصل کرنے ناکام رہے ہیں اب حالیہ دنوں متعدد ہوتے ہائی وے حادثات قومی نوجوانوں کی مکرر ہوتی اموات, چیف منسٹر سدارامیا کے بھٹکل والوں کو بھٹکل ہائی وے پر فلائی اوؤر تعمیر کئے جانے کے انکے وعدے کو یاد دلاتا رہتا ہے۔ اسی دہلی سفر دوران ہم نے شہری ہوابازی منسٹری میں گئے حکام سے ملاقاتیں کئےانہیں دمام سعودی براہ راست ہوائی پرواز شروع کرنے کی درخواست کی تھیں
اور یوں 31 مارچ 2013 دمام سے براہ راست مینگلور پہلی پرواز سے ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم نامی این جی او قائم کرنے کے اپنے منصوبے کو پورا کرتے ہوئے خلیجی ممالک سے بغیر ممبئی رکے مینگلور براہ راست اترنے کی سہولیات فراہم کرنے کامیاب ریے ہیں۔الحمدللہ۔ہماری ان کاوشوں کی پوری تفصیل مینگلور سے نشر ہونے والے عالمی معیار کنڑا انگلش نیوز ویپ پورٹل ڈائجی ورلڈ ڈاٹ کام اور کوسٹل نیوز داٹ کام پر موجود ہے۔