66

بورڈآف پیس ، طاقت کا نیا نظام !

بورڈآف پیس ، طاقت کا نیا نظام !

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کو غزہ کی تعمیرِ نو اور وہاں امن برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دی ہے ،تاہم دونوں ہی ممالک کے وزرائے اعظم نے تاحال تصدیق نہیں کی ہے کہ وہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہورہے ہیں،گزشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی

دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے حل اور غزہ میں امن کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کا حصہ رہے گا،لیکن یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس بورڈ میں وزیر اعظم شہاز شریف نے شامل ہونے پر رضا مندی ظاہر کی ہے،اس پر پہلے سے ہی پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان صرف اسی صورت میں شمولیت اختیار کرے گا، اگر اس کا مقصد آزاد فلسطین کاقیام اور حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہو گا۔
اگر دیکھا جائے توامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینا ایک اچھی پیش رفت ہے، لیکن اس دعوت نا مہ پر بورڈ آف پیس میںشمولیت کا فیصلہ پار لیمان میں باہمی مشاور سے ہی ہو نا چاہئے ،اس بارے ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی کا بھی کہنا ہے کہ ہم غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور انداز میں شامل رہیں گے، لیکن ہم1967 ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہیں، اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو گا ،

وہ سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر ہی کیا جائے گااور اس میں قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔اگر چہ بظاہر صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، غزہ میں قیام ِ امن کے لیے ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیس نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہی محسوس ہوتا ہے، تاہم مغربی سفارت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ ایک ایسا نیا ادارہ بنانا چاہتے ہیں، جو کہ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر کام کر ے گا، کیو نکہ صدر ٹرمپ پہلے بھی کئی بار اقوامِ متحدہ پر تنقید کر چکے ہیں

اور انہیں اس کی کارکردگی پر بھروسا نہیں ہے ،ابتدا میں ٹرمپ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کے تحت بورڈ کی تجویز دی تھی، اس کا مقصد غزہ میں استحکام، حکمرانی اور تعمیر ِ نو میں مدد دینا تھا، لیکن اب سامنے آنے والے نئے منشور میں غزہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم قرار دیا گیا ہے، جوکہ دنیا کے ان تمام علاقوں میں امن و امان اور قانونی نظام کی بحالی کے لیے کام کرے گی، جہاں تنازعات کا خطرہ ہوگا۔
اس حوالے سے نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بورڈ کے لیے جو مینڈیٹ منظور کیا تھا، وہ صرف غزہ تک اور 2027 کے آخر تک محدود تھا، لیکن ٹرمپ کا نیا منشور نئے خدشات کو جنم دے رہا ہے ، اس پرتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ پیس بورڈدوسری جنگ ِ عظیم کے بعد بننے والے عالمی نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے حریف کے طور پر ابھر کر سامنے آسکتا ہے،

اس پر اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے بھی محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے رکن ممالک کسی بھی گروپ میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ اپنا کام جاری رکھے گی،جبکہ دوسری جانب فلسطینی تنظیم ’’اسلامی جہاد‘‘ نے اسے اسرائیلی مفادات کا تحفظ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے داخلی معاملات ایک آزاد فلسطینی ادارے کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں، لیکن اس منصوبے میں قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے بجائے صرف ’’بزنس مینجمنٹ‘‘ پر زور دیا گیا ہے، اس کی وجہ سے عوامی سطح پر اس پر بھروسا کرنا مشکل ہے۔
اگردنیا میں امن کے قیام اور علاقائی تنازعات کے حل کیلئے اقوامِ متحدکے نام سے ایک ادارہ موجود ہے تو پھر غزہ میں قیام امن کے نام پر بورڈ آف پیس نامی نئے ادارے کے قیام کی ضرورت کیا ہے؟اگر امریکا سمجھتا ہے کہ اقوامِ متحدہ امن کے قیام اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے تو اس امر کا برملا اعلان ہونا چاہیے، لیکن اس کے بر عکس مد مقابل ایک نیا ادارہ پیس آف بورڈ بنایا جارہا ہے

، اس بورڈ آف پیس کو کتنی کامیابی ملتی ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا، تاہم صدر ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارتی مدت میں جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور جس لب ولہجے میں بات کر رہے ہیں،وہ کسی بھی طور ایک مہذب اور بھر پور عسکری صلاحیتوں کے حامل ملک کے صدر سے کسی طور ہم آہنگ نہیں ہے، وہ ایک طرف امن کے نوبل انعام کے آرزو مند ہیں ، جبکہ دوسری جانب فوجی کارروائی کے ذریعے ایک آزاد اور خودمختار ملک وینزویلا کی آزادی و خود مختاری کو پامال کردیا،

ایران میں مداخلت کی دھمکی دی، گرین لینڈ پر قبضے کا عندیہ دیا، حماس پر قیامت ڈھانے کے بیانات دیے رہے ہیں، اس طرز عمل اور اس نوع کے عزائم کے ساتھ بورڈ آف پیس کا قیام، ایک سعی لاحاصل اور پانی پر لکیر کھینچنے کے ہی مترادف ہے،یہ امن کے نام پر طاقت کا نیا نظام ، طاقت کے ہی زور پر لایا جارہا ہے ، اس سے خیر کی کوئی اُمید نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں