خاموش ظلم سہنا بھی ظالم کے ظلم سے زیادہ خطرناک ہوا کرتا ہے،
نقاش نائطی
. +966562677707
ظلم ڈھاتے پارلیمنٹ پاس مختلف بلوں پر، ہم دیش واسیوں کی خاموشی نے ہی، ان سنگھیوں کو ہم پر مزید ظلم کرنے کی ہمت بخشی ہے
کورونا قہر کہرام ابتدائی دنوں میں جب بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد کچھ ہزار تک ہی پہنچی تھی اور دیش میں کورونا پھیلانے کے سلسلے میں دیش کے سنگھی پرائم منسٹر مودی جی کے امریکی صدر کے اعزاز میں گجرات احمد آباد موٹورا اسٹیڈیم میں منعقد ایک لاکھ گجراتیوں کا نمستے ٹرمپ پروگرام اور ٹرمپ کے ہزاروں محافظ دستوں کا گجرات آگرہ دہلی دورہ تھا اور بعد کے دنوں میں گجرات احمد آباد آگرہ دہلی ہی میں کورونا کے پھیلاؤ سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی تھی۔شاید اسی لئے سنگھی حکومت کے اشارے پر، بھونپو بکاؤ میڈیا نے، ایک منظم سازش کے تحت کورونا پھیلاؤ انکی لغزشوں کو زبردستی مسلم تبلیغی جماعت کے متھے پر ڈال تبلیغی جماعت کے بہانے دیش کے 25 کروڑ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دیش کی اکثریت ھندو بھائیوں کے قلب و اذہان میں مسلم منافرت بٹھانے ہی کی نیت سے نہ صرف تبلیغی جماعت پر الزام تراشی لعن طعن کیا گیا تھا
بلکہ باقاعدہ بھارت کا ویزہ حاصل کر بھارت آئے14دیشوں کے مسلم مہمان زائرین کو غلط الزامات میں مختلف کیسز میں پھنسانے ہوئے، کئی مہینوں سے انہیں ہراساں کئے ہوئے تھے۔ بعد میں دہلی ہائی کورٹ کے ان تمام تبلیغی زائرین کو بھارت میں کورنا پھیلانے کے الزام سے بری کئے فیصلے اور دہلی نظام الدین پولیس اسٹیشن انسپیکٹر کو اس کے لئے لتاڑنے کے فیصلے نے، ایک حد تک دیش کی نچلی عدالتوں میں انصاف کے تاحال زندہ رہنے کی نوید نؤ سنائی ہے۔ دیش کی عدالت سے باعزت ان تبلیغیوں کی آزاد کئے جانے کے بعد، اب کوئی مسلم این جی دیش کی طرف سے تبلیغی جماعت کو بدنام کئے جانے کا ہتک عزت کا دعوہ، دیش کی عدالت میں گودی میڈیا کے خلاف دائر کر، گذشتہ کئی مہینوں سالوں سے سنگھی حکومت کا ظلم سہہ رہے ان غیر ملکی مہمانوں کو خاطر خواہ معاوضہ دلوانے کی سعی کرتا اور انہیں بدنام کر ہراسان کرنے والی گودی میڈیا کو سزا دلواتا پایا جائیگا؟
یہاں معاملہ صرف ہتک عزت کا دعوہ دائر کر معاوضہ حاصل کرنا ہی مقصد نہیں, بلکہ ایک مرتبہ ہم ایسے غلط الزام تراشی پر ہتک عزت کا دعوہ دائر کر معاوضہ حاصل کرنے میں یا بیکار بدنام کرنے والی گودی میڈیا کو سزا دلوانے میں کامیاب رہتے ہیں تو مستقبل میں کوئی بھی، ہم مسلمانوں کو لقمہ تر سمجھ، گاہے بگاہے ہمارے ساتھ ہی کھلواڑ کرنے کی ہمت جٹا نہیں پائیگا
1977 بعد ایمرجنسی آزاد بھارت پر زمام حکومت سنبھالنے والے پرائم منسٹر مرارجی دیسائی کی حکومت میں فائر برانڈ سنگھی لیڈر ایل کے ایڈوانی کے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ منسٹر اور سافٹویئر ھندتوا کے چہرے شری آٹل بہار واجپائی کے ایکسٹرنل ایفیر منسٹر بنتے ہوئے, پہلی دفعہ زمام اقتدار حکومت ھند کے مزے چھکنے والی سنگھی پارٹی بی جے پی کواقتدار کا مزہ لگتے ہوئے اور اپنے اقتدار کے توسط حکومتی اہم عہدوں پر اپنے کٹر سنگھی ذہنیت کاریہ کرتاؤں کی بھرتی کرتے ہوئے اور 16مئی 1996 کو فقط 16دن کےپرائم منسٹر رہتے اور 19 مارچ1998 کو 13 ماہ کے لئے پی ایم بنتے ہوئے
اور آخر میں 10اکتوبر 1999 سے 22 مئی 2004 تک لاشرکست غیرے دیشن کے سنگھی پرائم منسٹر رہتے اور فائر برانڈ نفرتی سنگھی ایل کے ایڈوانی کے دیش کے وزیر داخلہ رہتے منظم حکمت عملی کے ساتھ اپنے سخت مزاج مسلم دشمن سنگھی ذہنیت ارایس ایس کیڈر کو نہ صرف دیش کے اعلی سرکاری عہدوں پر بالکہ سرکاری انٹیلجنس ایجنسیوں میں آرایس ایس سخت مزاج مسلم۔لیڈر کو اہم عہدوں پر براجمان کرنے کامیاب رہے تھے۔اس حساب ہی 1977 سے 2004 سابقہ 25 سالوں کے دوران دیش کی نامور انٹیلجنس ایجنسیز میں گھسے سنگھی ذہنیت آفیسزز کی سازشوں کے چلتے اور آرایس ایس بی جے پی سے ساز باز کئے، ھندو دہشت گرد تنظیم ابھینو بھارت کی سادھوئی پرتگیہ سنگھ ٹھاکور کرنل پروہت اقر سوامی اسیمانند کی طرف سے منظم انداز کئے ہوئے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ، حیدر آباد مکہ مسجد بم دھماکہ مالیگاؤں قبرستان بم دھماکہ، بنارس مندر بم دھماکہ الزامات میں مسلم تعلیم یافتہ ہزاروں نوجوانوں کو دس دس بیس بیس سال جیلوں میں ٹھونس ٹھونس کر، انکی زندگیاں برباد کرکے انہیں دیش کی عدالتوں سے باعزت بری کئے جانے کے باوجود ان پر غلط الزامات لگا انکی زندگیاں برباد کرنے والے سنگھی انٹیلجنس آفیسرس کو سزا دلوانے میں ہم مسلمانوں کی ناکامی ہی کا نتیجہ ہے
کہ دیش کے 30 کروڑ مسلم اقلیت کے خلافت اس سنگھی مودی جی کے تین ایک سال قبل پارلیمنٹ پاس، سی اے اے ،این پی آر کالے قانون کے خلاف دہلی شاہین باغ طرز پورے دیش میں ہوریے کروڑوں دیش واسیوں کے پر امن احتجاج کو,کورونا قہر کہرام دیش بھر مودی جی کے لاگو کئے کرفیو نما لاک ڈاؤن نفاذ کے بہانے ختم جہاں کیا گیا وہیں پر کورونا لاک ڈاؤن باوجود شاہین باغ اور جامعہ ملیہ احتجاج کرنے والے کئی سو رضا کاروں کو گرفتار کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔اگر کسی بھی غلط الزام سے کئی سال جیل میں رہے کسی بھی بھارت واسی کو عدالت سے باعزت بری کرائے جانے کے بعد، اس کو گرفتار کرانے والے آفیسرز پر عدالتی گاز گرائی جاتی تو سی اے اے احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ اور شاہین باغ بے قصور احتجاجی نوجوانوں کو حراست میں لینے کی سنگھی پولیس کو ہمت نہ ہوتی اور 2019 منظم سازش کے تحت سنگھیوں کے کئے کرائے دہلی مسلم مخالف فساد کا الزام مسلم ایکٹیویسٹ عمر خالد اور شرجیل امام پر لگائے بغیر ضمانت سابقہ چھ سالوں سے جیل میں رکھے,
دیش کی اعلی عدالت سپریم کورٹ تک پر دباؤبرقرار رکھے اس عالم کی سب سے بڑی سیکئولر جمہوریت میں انہیں ضمانت تک سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ بھارتیہ دلت ابلا ناری کا ساموک بلاتکار کرنے والے اور اسے اور آنکے رشتے داروں نیز وکیل تک کا مرڈر کرنے کرانے والے سزا یافتہ مجرم کو ہزار بہانوں سے ضمانت دی جاسکتی ہے تو بے قصور یا قصور وار عمر خالد اور شرجیل امام کو بغیر سزا سنائے سابقہ چھ سال سے جیل میں سڑائے جانے کے باوجود سپریم کورٹ آخر کیوں کر ضمانت سے محروم کئے ہوئے ہے؟ کیا یہ خود ساختہ ایشور کے اوتار وشوگرو مہان مودی جی کا مسلمانوں کو صدا مدافعتی پالے میں رکھنے والا جھوٹا آہنکار ہے؟ یا انہیں ڈر ہے کہ ان بے قصور عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت پر رہا ہھی کیا گیا
تو سنگھیوں کے دہلی فساد, کئے کرائے جانے کی سازشوں سے پردہ اٹھائے جانے کا خطرہ ہے؟ بابری مسجد کیس میں عدلیہ پر دباؤ برقرار رکھے مسلم مخالف آئے فیصلوں میں سابقہ ججز کے مشکوک کردار دیش واسیوں کے سامنے آئے جیسا ہی, اب کی عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت سے محروم کئے جانے والے ججز پر, سنگھی حکمرانوں کی طرف سے کس اقسام کے دباؤ ڈالے گئے ہیں یہ آج نہیں تو کل بھارت واسی جنتا کے سامنے حقیقت آہی جائیگی۔
” چوڑے سینے والے سنگھی مودی جی کے، اپنے آپ کو سیکولر اور مسلم دوست کہلوانے والی نام نہاد مختلف سیکولر پارٹیوں سے اندرون خانہ ساز باز سے، ڈنکے کی چوٹ پر دستور ھند میں موجود آرٹیکل شق 370 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے،80 لاکھ نہتےکشمیری مسلمانوں کو، دنیا کی آٹھ سے دس لاکھ ہتھیار بند افواج والی، دنیا کی سب سے بڑی جیل نما قید میں رکھنے کے درد کو خاموش سہنے اور مسلم نساء ہمدردی کے بہانے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرتے ٹرپل طلاق پر بھی ہم 30 کروڑ مسلمانوں کی خاموشی نے، ان سنگھی حکمرانوں کو دیش کے نصف سے زائد آبادی والے مسلم دلت کے خلاف سی اے سے اور این پی آر بل پارلیمنٹ میں پاس کروانے کی ہمت وساہس ان سنگھی حکمرانوں کو ہم ہی نے بخشی ہے
آرٹیکل 370 کی منسوخی بل، ترپل طلاق بل، اور سی اے اے این پی آر بل پر ہم دیش واسیوں کے ایک حد برداشت کرنے کے ساہس ہی نے،ای وی ایم پروگرامنگ مدد سے اور آرڈیننس پاس کئے,الیکشن کمیشن کو حد سے زیادہ بااختیار کئے کرائے, اپنے ایس آئی آر سر الیکشن قانون کو ہتھیار بنائے,ایک طرف اپوزیشن سیکیولر پارزتیوں کی۔طرف داری کرنے والے لاکھوں پہلے سے موجود ووٹروں کو ہزار بہانوں سے ووٹر لسٹ سے خارج کئے اور اپنے لاکھوں فرضی سنگھی ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں غیر قانونی داخل کئے,انتخابات جیتتے آئے ان سنگھی حکمرانوں کو، پہلے مسلم دلت اور اب کسانوں کے بہانے سکھ فرقے کو معشیتی طور برباد کرتے کسان سدھار بل لانے کی ہمت عطا کی ہے
۔ دو ایک سال قبل دیش کے کروڑوں کسان جس انداز سے کسان سدھار کے بہانے دیش کے سب سے بڑے کرشی سیکٹر کو دیش کے چند برہمن گجراتی پونجی پتیوں کے حوالے کرنے کے خلاف لاکھوں کسان جس طرح صف بند تھے اور دیش کے کروڑوں کسانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے سنگھی جتن کئے جارہے تھے۔اگر اب کی بار ان سنگھی حکمرانوں کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا گیا اور کرشی بل واپس لینے پر مجبور نہیں کیا گیا تو پھر ان نازی ہٹلر ٹائیب سنگھی حکمرانوں کے ہاتھوں بھارت کے کروڑوں مسلم دلتوں کی تاراجی و بربادی سے روکنا ناممکن ہو جائیگا۔
دیش کے ریزور بنک, دیش کی سب سے بڑی انشورنس کمپنی ایل آئی سی, دیش کے بڑے نیشنلائز بنکوں میں 140 کروڑ دیش واسیوں کی جمع پونجی لاکھوں کروڑ ہزار حیلے بہانوں سے ہم دو ہمارے دو سنگھی گجراتیوں کی طرف سے اڑائے جانے کے بعد,اور سابقہ پینسٹھ سالہ آل انڈیا کانگرئس راجیہ میں عوامی ٹیکس پیسوں سے, کھڑے کئے گئے بیسیوں ایرپورٹ و ریلویز اپنے دو سنگھی برہمن گجراتیوں کے حوالے کئے دونوں ہاتھوں دیش کے من و سلوی لوٹتے جانے کے بعد اب کی مسلم اوقاف لاکھوں کروڑ کی ذاتی وقف املاک کو ہتھیانے کی سازش کے طور اوقاف بل لائے جاتے پس منظر میں اب بھی کیا دیش کے پانچویں حصے کی 30 کروڑ مسلم آبادی یونہی خاموش تماشائی بنے بیٹھی رہے گی
تو برہمنی رام راجیہ میں فلت شودروں کو تمام تر معاشرتی حقوق سے ماورا کئے جیسا، ان سنگھی حکمرانوں کی ہمت بڑھتے بڑھتے ہم 30 کروڑ مسلمانون کو دوسرے درجہ کا شہری بنائے، ہم اپنے وقت کے شاہان بھارت مسلم امہ کو مستقبل کے سنگھی رام راجیہ میں دلت شودروں سے گئے گزرے ہوئے جینے مجبور کیا جائیگا۔ اب بھی وقت ہی مسلم امہ کے بڑے سیاسی و سماجی لیڈران علماء ھند کی سرپرستی میں دیش کے دلتوں کے ساتھ مل کر ایک نئی سیکیولر دلت مسلم پچھڑی جاتی آویواسی سیاسی پارٹی تشکیل دئیے ان سنگھی برہمنی نفرتی قوتوں کا مقابلہ ہمیں کر نا پڑیگا۔ وما التوفیق الا باللہ