60

وینز ویلا کے بعد کس کی باری!

وینز ویلا کے بعد کس کی باری!

امریکا نے اپنی جارحانہ اور غاصبانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے،یہ امر یکہ کی جانب سے پہلی بار ہواہے نہ ہی آخری بار ہو گا ، لیکن اس بار امر یکہ کو دوسروں کے ساتھ اپنے شہروں کی نفرت کا بھی سامنا کر نا پڑرہا ہے ،دنیا بھر میں جہاں پرزور احتجاج ہورہے ہیں ، وہیں امر یکہ کی اپنی تین ریاستوں ،وشنگٹن ،نیویارک ،شکاگوکے علاوہ نہ صرف مختلف شہروں میں مظاہرے کیے جارہے ہیں،بلکہ امر یکی صدر ٹرمپ کی گرفتاری کے مطالبے بھی کیے جارہے ہیں

،اس بڑھتی ہوئی عالمی تشویش پر اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل نے ہنگامی طور پر اجلاس طلب کر لیا ہے ،اُدھر چین نے امر یکی کار وائی کو بین الا قوامی قوانین کی صر یحاََ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے گر فتار کیے گئے وینزویلا کے صدر نکو لس مادرود اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے ،لیکن امر یکہ اپنی کھلی جارحیت کے خا تمہ پرآمادہ ہے نہ ہی کوئی مطالبہ مان رہا ہے۔
امر یکی صدر ٹرمپ قیام امن کے دعوئوں کے ساتھ بر سر اقتدار آئے تھے اور بر سراقتدار آنے کے بعدایک کے بعد ایک جنگ بند کرانے کے نت نئے دعوئے بھی کرتے رہے ہیں ، لیکن وینز ویلا پر چڑھائی کے بعد سے ان کا سار ہی بیانیہ دھر کا دھرا رہ گیا ہے

، اس کے خلاف ہر طرف سے نہ صرف آوازیں اُٹھ رہی ہیں ، بلکہ اس جارحیت کے خلاف چاروں اطرف مظاہرے ہورہے ہیں ، وینز ویلا کے خلاف امر یکہ کی غاضبانہ کاروائی سے جہاں دنیا بھر میں اشتعال پھیلا ہے ، وہیں امر یکہ کو اپنے ہی شہریوں کی نفرت کا سامنا بھی کر نا پڑرہا ہے،امر یکی میڈ یا کے مطابق شکا گو سمیت متعدد شہروں میں عوامی مظاہرے ہورہے ہیں ،امر یکہ کے اپنے ہی لوگ وینزیلا میںامر یکی کاروائی کوغیر قانونی ،کھلی جارحیت قرار دیے رہے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے ، کیا صدر ٹر مپ کو قانوں کے کٹہرے میں لایا جاسکے گا اور جوابد ہ بھی بنایا جاسکے گا؟
یہ سب کچھ ہوتا کہیںدکھائی نہیں دیے رہا ہے ، لیکن امر یکہ کے اندر اور باہر لوگوں کا صبر لبر یز ہوتا جارہا ہے اور امر یکہ کی پا لیسیوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے،اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھی ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے ،اس اجلاس میں وینز ویلا میں امریکا کی فوجی کاروائی پر بڑھتی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے گا ،لیکن اس سے قبل ہی اقوام متحدہ کے سیکر یٹری جنرل انتونیو گو ترس نے خبر دار کیا ہے کہ وینزویلا میں کی گئی کاروائی ، بین الا قوامی قانون کیلئے نہ صرف ایک خطر ناک مثال بن سکتی ہے ، بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے ، کیو نکہ اس جارحیت سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو پھر قصوار کو سزابھی ملنی چاہئے ، لیکن اقوام متحدہ جیسا ادارہ ،سب کچھ جانتے ہوئے بھی پہلے کچھ کر پایا نہ ہی اس بارکچھ کر پائے گا ، ایک دفعہ پھر مٹی ڈال دی جائے گی ، ایک دفع پھر آگے بڑھا جائے گا۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ امریکا نے ایک طرف بین الاقوامی دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہوئے وینزویلا پر حملہ کیا ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ایران سمیت دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو اگلی باری اُن کی ہو گی ، اس کے جواب میں ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے جھکے گانہ ہی پیچھے ہٹے گا، ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے،

اس بار امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور ایران کے ساتھ دیگر ممالک کو دی جانے والی دھمکیاں واضح کررہی ہیں کہ امر یکہ ایک شر پسند ملک ہے، جو کہ کسی بھی صورت میں امن و استحکام کا حامی نہیں ہو سکتا ہے،صدر ٹرمپ کے جنگیں رکوانے اور قیام امن لانے کے سارے ہی دعوئے جھوٹے ہیں،امر یکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد سے اب تک جتنے ممالک پر حملے کیے ہیں اور جتنے بے گناہ افراد کو قتل کیا ہے، اگر ان جرائم کی ایک فہرست تیار کر کے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں مقدمہ چلایا جائے تو اس بنیاد پر امریکا کی پوری قیادت کو عالمی دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس تشویش ناک صورتحال میں اقوامِ متحدہ ہو یا دوسرے عالمی ادارے ،سارے ہی بے بس ہیں اور سارے ہی صرف ا مریکا اور مغرب کے مفادات کا ہی تحفظ کررہے ہیں، یہ سارے زبانی کلامی بین الا قوامی قوانین اور انصاف کی باتیں کرتے ہیں ، لیکن عملی طور پر کچھ کر نے کیلئے تیار ہیں نہ کچھ کر سکتے ہیں، اس لیے ان اداروں سے کوئی بہتر توقع وابستہ کی جاسکتی ہے نہ ہی اعتبار کیا جاسکتا ہے ، لہٰذا اس موقع پر تمام اہم ممالک کو اکٹھے ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ دنیا پر قائم امریکی تسلط کے خاتمے کے لیے کیا کچھ مل کر اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور کیا کچھ کرنے چاہئیں، اگر اب بھی ہر کوئی خود کو بچانے کیلئے خا موش رہے اور دوسروں کی بر بادی کا تماشا دیکھتے رہے تو پھر ایک کے بعد ایک کی باری آئے گی او ر ہر ایک کے ساتھ وہی کچھ ہو گا ، جو کہ دوسروں کے ساتھ ہو تا آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں