آل عرب آل نائطہ کے دیڑھ ہزار سال قبل بحری تجارت شروع کئے جانے کی یادیں
ابن بھٹکلی
. ×966563677707
ہمارے ایک عزیر ارشاد جوکاکو کے آپنے آل عرب جد امجد کے بادبانی کشتیوں میں, عرب کھاڑی سے خلیج عرب سمندری موجوں کے دوش پر اپنی بادبانی کشتیوں سے ھند کی مختلف ندیوں کے راستے ہندستانی آبادیوں تک تجارت کرتے دکھائی اور درشاتی جاتی کلپ نے ہمیں, ماقبل رسالٹ مآب حضرت محمد مصطفہ ﷺ, عالم کے ایک طرف والے روم وفارس مملکتوں و یورپی عوام کے اوراسمانی وید گرنتھ صہوف اولی اور زبرالاولین والے حضرت آدم و حضرت نوح علیہ السلام والی آسمانی سناتن دھرمی ابتدائی امت, ھند و ملائشیا انڈونیشیا چائینا جاپان کے درمیان سمندری تجارتی پل بنائے, عالمی سطح بحری تجارتی راہ گزر کے سرتاج و بادشاہ آل عرب آل نائطہ کی حسین یادیں تازہ دم گر گئیں
بھٹکل کرناٹک پرانے اہل نائطہ اقدار کے,ایک محلے میں ڈونی کسکٹ, ایندلو چلمن یا ٹٹی اور دھمسو,وسرو سے, گھرکی ابتدا ہوتے, باورچی خانہ حمامات نیز ورک ایریا سے گزرتے, دوسرے محلے تک, گھرکے پچھواڑے کھلے صحن والے بغیچے کے ساتھ بیت الخلاء والے, تین دیواروں پر پرانے دو گھر, چوتھے پانچویں گھروالی لائن, پہلے دوسرے گھرکی دیوار کے ساتھ ایک دیوار پر گھر تعمیر کا چلن, ایسے ہی نمونے والی تامل ناڈ کلیکیرے,گجرات احمد آباد کھمبات, مہاراشٹرا کونکن علاقوں میں ایسے آل عرب اہل نائطہ گھر اور محلے دیکھنے کو ملتے تھے۔ اور امبٹ لوخا موٹا چاول کھانا,(کھرچے ناریل پیس کھٹہ مچھلی سالن) بریانی چاول کی طرح خالی دم دیا بخار چاول (خوشخا) کھانا بھی ان آل عرب اہل نائطہ علاقوں میں ہر وقت دستیاب ہوا کرتا تھا۔ کھاڑی کے عرب اقوام کی طرح ان علاوں میں بھی اذان فجر کے ساتھ دن کی شروعات کئے سات بجے ناسٹہ کئے دن کی سرگرمیاں اپنی تجارت جاری رکھے زوال شمس سے قبل دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوئے اور بعد ظہر تھوڑی سنت قیلولہ کے مزے لوٹتےاپنی تجارتی مصروفیات جاری رکھے اور ماقبل غروب آفتاب شام کے کھانے سے فراغت پائے, ذکر و اذکار میں مصروف رہتے,بعد المغرب کچھ بچے کام نمٹائے
,بعد العشاء اپنے۔کو حوالہ بستر کئے شب کا خیر مقدم کیا جاتا تھا۔صبح کا ناشتہ بھی عموما” چاول پسے آٹے والے نت نئے اقسام ناشتے, دوپہر و شام کے کھانے میں بھی چاول ہی کھائے, سر شام چاء کے ساتھ کھانے کے لئے چاول یا میدا ہلکی مٹھاس کے ساتھ گوندھے پتلی روٹیاں بیلے, اسکے چوکور ڈائمنڈ شیپ ٹکڑے کاٹے براہ راست یا اسے پھول کی شکل دئیے ناریل نیل میں فرائے کئے, کئی کئی دنوں مہینوں محفوظ رکھے کھائے جاتے تھے۔ہلکی مٹھاس کے ساتھ گیہوں آٹے کی روٹی پکائے ہفتوں سفر میں کھائے جانا,آج کے آل یمن کلچر۔
علاقے کی موسلا دھار بارش میں سمندری طوفانی موجوں کے چلتے مچھلی عدم دستیابی کے اوقات میں استعمال کے لئے موسم برسات سے پہلے سمندری مچھلیوں کی قاشیں,کچے پپیتے,کچے آم کی قاشییں اور میٹھے پانی والی ندی کنارے مخصوص درختوں پر, اگ آنے والےجنگلی انجیر جیسے پھل رمبٹ,بڑے مٹی کے مرتبان برنی یا بویام میں نمک آلود پانی میں جدا جدا محفوظ رکھے جاتے تھے۔ جو برساتی موسم میں کھانے کے ساتھ استعمال کئے جاتے تھے
۔کئی صد قبل والے نمک پانی میں محفوظ رکھی مچھلی کی قاش سے پکائے اور کھائے کھان پان کی یاد میں, ان ایام پکائے جانے والا کھرچے ناریل پیس بنایا جانے والا کھٹہ سالن خارے مھاورا امبٹ لوخا (کونٹی نینٹل مشہور گوا فش کری) یا ہلدی رنگ والا رس لوخا سالن کی یاد اس تمدنی عصری ترقی پزیر زمانے والی شادیوں کی شروعات, شادی گھروں میں, قریبی رشتہ دار خویش و اقارب کو جمع کئے, موٹے ابلے چاول کے ساتھ رس لوخا نام سے صرف مختلف اقسام مچھلی سالن کھائے اپنوں کی شادیاں شروع کی جاتی ہیں۔
ان ایام خلیج میں مصروف معاش رہتے ساتھ میں مصروف معاش ٹملناڈ کلیکیرے,کیرالہ ماپلاس , گجرات میں احمد آباد آل نائطہ اور مہاراشٹڑا کونکن واسی اہل نائطہ یا ہم اہل نائطہ کے جد امجد اہل عرب آل یمن میں کچھ یہی اقدار اور کھان پان چلے آرہے ہیں اس کی آگہی ہمیں ملتی رہی ہے۔ اللہ کرے آگلے آنے والے ہزاروں سال تک آل عرب آل نائطہ ہم بھٹکل و اس پاس بھٹکل سمیت ھند کے مختلف چاروں صوبوں کے ساحل سمندر پر آباد آل نائطہ قبیلہ نہ صرف اپنے دیں اسلام آثاث پُر قائم رہے بالکہ ہمارے اطراف بسنے والے آج کے مشرکین, آسمانی سناتن دھرمیوں کو اپنے حسن اخلاق سے, دین اسلام کی دعوت دینے والے عملی داعی مسلمان بن کر تاقیامت اس چمنستان میں امن و چین آشتی کے ساتھ رہیں۔ومالتوفئق الا باللہ