تیمور دفاعی نظام سے اُنچی اُڑان !
دنیا بھر میں جس طرح پاک افواج اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہے اور اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنارہی ہے، اس طرح سے ہی اسلحہ سازی اور دفاعی ٹیکنالو جی میں بھی پاکستان کا شمار سرفہرست ممالک میں کیا جانے لگاہے ،ملک کا دفاعی مواصلاتی نظام اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے ،اگرپاک افواج کی دفاعی صلاحیت کی بات کی جائے تو ہم نے بہت قلیل عرصے میں اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنالیا ہے ،پاکستان میں تیار کردہ اہم دفاعی مصنوعات پاکستان کی سالمیت کے ضامن ایٹم بم،جدیدمیزائل ٹیکنالوجی،الخالد اور ضرار ٹینک کی تیاری،براق ڈرون اور مقامی طور پر تیار کردہ بکتربند اور بلٹ پروف گاڑیاں، یہ سب ایسی کامیابیاں ہیں
کہ جنہیں اسلحہ بنانے والے بڑے ممالک بھی رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، پاکستان کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا دفاعی مصنوعات کا بہت بڑا مرکز بن گیا ہے کہ جہاں جدید ترین اسلحے کی تیاری اور معیار کو ہر سال ہونے والی دفاعی نمائش میں بھی بے حد سراہا جارہاہے۔پا کستان اسلحہ سازی میں جہاں اپنا الگ مقام بنارہا ہے، وہیں جوہری ٹیکنالو جی میں بھی خود کو منوارہا ہے،پاکستان نے اپنا جوہری پروگرام 1970ء کی دہائی میں شروع کیا اور آج پاکستان نہ صرف ایک جوہری طاقت ہے، بلکہ اس کے جوہری میزائل دنیا میں بہترین مانے اور جانے جاتے ہیں، پاکستان کا37میل (60کلومیٹر) تک مار کرنے والا ’نصر‘ نامی ٹیکٹیکل میزائل ایک ایسا جوہری میزائل ہے، جو کہ امریکا کے پاس بھی نہیں ہے،
اس کے علاوہ حتف میزائل (ملٹی ٹیوب بلیسٹک میزائل)، غزنوی ہائپر سانک میزائل، غزنوی (بیلسٹک میزائل)، ابدالی سوپر سانک میزائل، غوری Iمیزائل، شاہین I(بلیسٹک میزائل)، غوری II، شاہین II اور شاہین IIIمیزائل شامل ہیںاور اب تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ ،ملکی دفاعی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر دیکھا جائے توتیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے لیے مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، اس میزائل سسٹم کی 600کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت‘ جدید نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم‘ کم بلندی پر پرواز اور دشمن کے فضائی و میزائل دفاعی نظام سے مؤثر طور پر بچ نکلنے کی صلاحیت اسے جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ایک انتہائی مؤثر ہتھیار بناتی ہے
،یہ کامیابی اس حقیقت کوبھی اجاگر کرتی ہے کہ مقامی سائنسدانوں‘ انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی محنت‘ مہارت اور لگن کے باعث پاکستان دفاعی خود انحصاری کی منزل کی جانب مسلسل پیشرفت کر رہا ہے، تیمور میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے سے نہ صرف ملکی دفاع مزید مضبوط ہوا ہے، بلکہ قوم کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔
پا کستانی قوم ہمیشہ پاک افواج کے ناصرف شا نہ بشانہ کھڑی رہی ہے ، بلکہ اس پر مکمل ااعتماد کا اظہار بھی کرتی رہی ہے ، اس تیمور ویپن سسٹم کے کا کامیاب تجربہ بھی جہاں قوم مسرت کا اظہار کررہی ہے ، وہیںصدرِ مملکت اور وزیر اعظم کا بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مقامی سطح پر جدید ہتھیاروں کی تیاری قومی صلاحیت، عزم اور ادارہ جاتی مہارت کی واضح عکاس ہے، پاک فضائیہ کی اس کامیابی سے ملکی دفاع مزید مضبوط اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی ذمہ دارانہ دفاعی پالیسی کو تقویت ملی ہے ،یہ کامیابی قومی دفاع میں خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے،اس بدلتے علاقائی سکیورٹی ماحول میں خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا وقت کا اہم تقاضا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کی مضبوط دفاعی صلاحیت ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔
یہ امر خاص طور پر حوصلہ افزا ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کیساتھ ساتھ پاکستان روایتی ہتھیاروں کے میدان میں بھی اپنے انجینئرز کی تکنیکی مہارت اور سائنسی جدت کے سبب دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں میں نا صرف اپنی شناخت منوا رہا ہے، بلکہ اس جدید ٹیکنا لو جی کا بروقت استعمال کر کے دیکھا بھی رہا ہے،اس طر ح کی ایک ایسی مضبوط دفاعی صلاحیت نا صرف عالمی سطح پر ملک کے وقار میں اضافہ کرتی ہے، بلکہ دوست ممالک کیساتھ تزویراتی اور دفاعی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے،اس پرپاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا با لکل بجا ہے کہ پاکستان یہاں سے ہی اونچی اڑان کی طرف جائے گا۔