76

فی زمانہ انسانی معاشرے میں کینسر جیسے مہلک اسقام تیزی سے کیوں پھیل رہے ہیں؟

فی زمانہ انسانی معاشرے میں کینسر جیسے مہلک اسقام تیزی سے کیوں پھیل رہے ہیں؟

نقاش نائطی
۔ ×966562677707

فون ٹاورز (موبائل کے ماسٹ) سے نکلنے والی ریڈیو فریکوئنسی شعاعوں کے سامنے آنے والے درختوں میں واضح نقصان دیکھا گیا ہے۔ محققین نے پایا کہ جب یہ شعاعیں *50 مائیکرو واٹ فی مربع میٹر* سے زیادہ ہو جائیں تو ٹاور کی طرف والے حصے کے درختوں میں شاخیں سوکھنے لگتی ہیں اور پتوں کا رنگ بدل جاتا ہے۔

سائنس جریدہ Science of the Total Environment میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 60 درختوں کی نشاندہی کی گئی جو متاثر ہوئے تھے، جبکہ کم شعاعوں والے علاقوں کے درخت صحت مند رہے۔ وقت کے ساتھ یہ نقصان صرف ایک طرف سے بڑھ کر پورے درخت کے اوپر (کاؤن) تک پھیل جاتا ہے۔یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برقی مقناطیسی شعاعوں کی کم مقدار بھی آہستہ آہستہ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اسلامی ایمان و یقین, رب کائینات کے, ہر ذی روح کو اس کے لئے رزق لکھ دئیے جانے اور رزق پہنچانے کے اسکے وعدے باوجود, سوائے تمام جانداروں کے اشرف المخلوقات لقب دئیے گئے ہم انسان اپنے لئے رزق حصول کی جو جدو جہد کرتے پائے جاتے ہیں وہ اس بات کے ضامن و شاھد ہے کہ انکے لئے قدرت کی طرف سے رزق متعین کئےگئے حکم ربانی کا گویا انہیں یقین کامل ہی نہیں ہے۔ برقی مقناطیسی شعاعوں کے درختوں پر اثرات بد کا یہ حال ہے تو پھر ان موذی خطرناک شعائیں انسانی جسم کو کس قدر متاثر کرتی ہونگی؟ پھر کیوں یہی برقی مقناطیسی شعاعیں پھیلانے والے قوی الحبثہ ٹاورز انسانی بستیوں میں رہائشی عمارتوں کے اوپر کیا کررہے ہیں؟ وہ درخت تو مجبور ہیں، خالق کائینات نے انہیں تو یہ اختیار نہیں دیا ہوا ہے

کہ انہیں سقم زد مائل موت کی طرف لیجاتے انسانی ان حرکتوں پر احتجاج کرسکیں, لیکن ہم تمام جانداروں میں, خالق کائینات ہی کی طرف سے, سب سے بہترین مخلوق قرار دئیے گئے ہم جدت پسند اعلی تعلیم یافتہ انسان, آخر کیوں کچھ ہزار روپیوں کے لئے، ہم انسانوں کو کینسر جیسے سقم کا شکار کئے تل تل مرتے ہلاکت کی طرف بڑھتے قدموں سے مائل موت سفر کرتے دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ ہر انسانی جسم میں مختلف بیماریوں سے لڑنے والی قوت مدافعت سیلف ایمیون سسٹم جدا جدا ہوتی ہیں۔ کسی کو معمولی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مائل بخار و زکام کیا کرتا ہے لیکن انکے اطرف کے بہت سارے انسان اسی ماحول و پس منظر میں بھی صحت یاب رہتے ہیں، بالکل اسی طرح اپنے گھروں پر ایسے موبائل ٹاور لگائے

انسان, اس لگے ٹاور سے ملنے والی رقوم سے قوت مدافعت افضاء اغذیہ کھائے یا مخصوص دوائی استعمال کئے خود کو کینسر جیسے خطرناک سقم سے محفوظ رکھتے ہونگے لیکن اس ٹاور لگے گھر کے آس پاس آباد عام انسان اپنی کمزور قوت مدافعت جسم میں , کینسر جیسے موذی سقم سے لڑنے اور انہیں کینسر سے بچانے میں ناکام, کینسرجیسے موذی اسقام سے شکار ہوتے تل تل مر رہے ہیں۔
پرندوں میں چالاک پرندہ مشہور کوا جب اپنے برداری کے کسی کوئے کو بظاہر کسی ظاہری سبب کے مردہ حالت میں پاتا ہے تو کیوں ‘کائیں کائیں’

آواز دئیے,کوئے فیملی کے اور کوؤں کوجمع کئے,اس مرے ہوئے کوے کے مرنے کے اسباب کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں؟ تاکہ اس کوئے کے مرنے والے سبب موت سے, کوئے نسل کو بچائے رکھ سکیں؟ ہم اعلی تعلیم یافتہ انسانوں کو اپنی آل کی پرورش کرنے میں اتنی فرصت کہاں؟ کہ وہ اپنے ساتھی انسان کے مرنے کے اسباب کینسر جیسا سقم اس انسان میں آیا کیسے؟ یہ تحقیق کرسکیں۔ان موبائل ٹاورز کے علاوہ تادیر سوپر مارکیٹ شیلف زندگانی بڑھائی ہوئی دیدہ زیب اغذیہ بھی تو انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا ایک بڑا سبب ہیں

,اسی لئے تو اعلی تعلیم یافتہ تجربہ کار ڈائیٹیشین, امراء و شرفاء قوم کو دوائی صنعت مافیا کی طرف سےدیدہ زیب خوبصورت انداز پیش کی جانے والی تمام اغذیہ, غرباء کی شکر مشہور گڑ کے مقابلے چمکتے ذراتی سفید تر شکر, خالص قدرتی مختلف تیل و گھی کے مقابلے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی شہادتی سرٹیفیکیٹ کے ساتھ اسواق میں بیچی جانے والے مختلف اقسام پالمولین ریفائینڈ آئل اور زیادہ پیسے کمانے کی ہوڑ میں اجناس کو سوپر مارکیٹ شیلف لمبی زندگانی بخشتے کیمیکل سے گزارے کئے پیک فوڈ نیز جینیاتی تبدیل شدہ ترکاری و فروٹ بھی انسانی معاشرے میں کینسر, تھائیروایڈ, ہیپیٹائیتس جیسے مہلک تر اسقام پھیلانے والے تمام اغذیہ استعمال سے بچاتے پائے جاتے ہیں۔
کوئے نسل کو انہیں متنبہ کرنے والے اعلی تعلیم یافتہ بڑے کالجز یونیورسٹیز اورتحقیقی ادارے تو مہیا نہیں ہیں پھر بھی وہ ارتقائی صلاحیت خداد داد سے, اپنی نسل کو بچاتے پائے جاتے ہیں۔ بنسبت ان کوؤں کے ہم انسانوں کے اعلی تعلیم یافتگان سائینس دان طبقہ, ہر اچھی بری چیز پر تحقیق کئے ہم انسانون کو وقت وقت سے متنبہ کرتے رہتے ہوئے بھی ہم کچھ زیادہ عقل و فہم کا اظہار کئے,وقت فائیدے کے کچھ ہزار روپئیے ہر ماہی آمدن کے لئے مضر صحت انسانی موبائل ٹاورز کو اپنے گھروں کے اوپر لگائے پائے جاتے ہیں اور سائیندانون ڈائستیشین کی طرف سے متنبہ فرمودات اعلانات باوجود وقتی سہل پسندی کی وجہ یا کچھ پیسے بچانے کے چکر میں, ان مہلک اغذیہ کو مستقل استعمال کئے سقم زد ہوئے ڈاکٹروں کے پیچھے اہنی گاڑھی کمائی صرف کر رہے ہوتے ہیں اللہ ہی سے دعا کہ وہ ہم اشرف المخلواقات انسانوں کو صحیح معنوں عقل و فہم ادراک بخشے۔ وما التوفیق الا باللہ۔

اپنے برادری کے کوئے کے اچانک مردہ پائے جانے پر, سبب موت تلاشتی کوا نسل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں