60

کیا اب دیش کی عدالت آزاد ہیں؟

کیا اب دیش کی عدالت آزاد ہیں؟

۔ ابن بھٹکلی
۔ +966562577707

دیش کے قابل آئی اے ایس آفیسر آخر کس قانون کی دفعات کے تحت سابقہ 24 لمبے سالوں سے گجرات جیل میں بند سڑائے جارہے ہیں؟ کیا اس مہان دیش میں ایشور کے خود ساختہ اوتار کے خلاف قانون وعدلیہ اندھی ہوچکی پے؟ 

سو سالہ مسلم دلت دشمن آرایس ایس اپنے “حصول مقصد اقتدار ھند” میں ہزار حیلے بہانوں سے کامیاب ہوتی نظر آتی ہے

افسوس کا مقام انہیں اپنے گھناؤنے مقاصد “حصول اقتدار ھند” میں درپرہ ملک و وطن کو سازشانہ الام و مصائب سے صدا بچانے والی, دیش کی عدلیہ و قانون ساز ادارے بھی, ان دلت مسلم , اب تو دیش دشمن سیاسی قوتوں کو اقتدار سازشتا” قائم رہنے ممد و مدگار ثابت ہورہے ہیں۔ 68 سالہ کانگرئس راجیہ میں قائم ملک و وطن کو اقتدار پر قابض ٹولے سے عتاب سے بچانے ھند بھر میں مصروف عمل بیسیوں اعلی تعلیم یافتہ سول سوسائیٹی این جی اوز سنگھی عتاب سے گویا اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔

بعد آزادی ھند, اس وقت کے اندرا والے ایمرجنسی دور خوف سے ڈرائے جانے والے کانگرئس راجیہ 2004 سے 2014 والا کانگرئس حکومتی من موہن سنگھ والا دس سالہ دور حکومت, آزادی ھند والا سب سے سنہرا تیز تر ترقی پزیر مگر خاموش مون برت والا کانگرئس راجیہ تھا, جسے اس وقت کی کانگرئسی حکومت کے دئیے چھوٹ و آزادی کے چلتے,اس وقت سول سوسائیٹی این جی اوز کے دھرنوں احتجاجوں ہی کی وجہ سے,

اچھے دن والے بے بنیاد سنگھی نعروں کے جھوٹے اور بناوٹی مفروضے والے اعداد وشمار وائبرنٹ گجرات کودیکھے اور بھروسہ کئے, مہان مودی جی کو اقتدار حصول میں مدد دی تھی۔ اب تو دیش وادی ہی نہیں اندھ بھگت مودی بھگت بھی, مسلمان دلتوں کے سامنے دکھائے جانے والے غبارہ مانند پھولے ہوئے 56″ چوڑے سینے کی حقیقت چائینیز حکمرانوں اور ٹرمپ کے سامنے بھیگی بلی بنتی میان دیش کو انکی جھولی میں ڈالٹی ڈرپوک حیثیت و وقعت کا بخوبی احساس ہوچلا ہے

مسلم دشمنی درشا دیش واسی ھندوؤں کی جی حضوری کرتے اپنے قابو میں رکھنے والی ار ایس ایس گجرات لیبارٹری میں ہوئے سازشانہ خود ساختہ گودھرا کانٹ بعد, کئی ہزار گجراتی مسلم نرسنگہار سازشانہ قتل عام اپنی گھناؤنی گجرات فائل کو (مسلمانوں کو بدنام کرتی, کیرالہ فائل اور کشمیر فائل سے بھی خطرناک) 140 کروڑ دیش واسیوں سمیت عالم انسانیت کے سامنے آنے سے روکنے ہی کے لئے, کس قدر یہ سنگھی ٹولہ عدلیہ و قانون ساز محافظ دستہ پولیس کو اپنے ساتھ ملائے, کیسے اپنے وقت کے ایک ذمہ دار آئی اے ایس آفیسر سنجیو بھٹ کو, آخر کس قانون کی دفعات کے تحت سابقہ 24 سالوں سے جیل کی تاریکیوں زندہ درگور رکھا ہوا ہے

دیکھا جاسکتا ہے؟ اپنے 12سنگھی رام راجیہ میں اندرا گاندھی والے ایمرجنسی دور کےخلاف صدا رطب اللسان رہتے, بھارت کو انگریزی انبساط سے آزادی دلوانے والے آل انڈیا کانگریس کو یہ اس وقت کے انگریزوں کے تلوے چاٹے انکی غلامی کرنے والے سنگھی, 140 کروڑ دیش واسی کانگرئس کے خلاف بہکارہے ہیں اور ہم 140 کروڑ دیش واسی ان سنگھی لٹیروں پر بھروسہ کئے انہیں اقتدار ھند پر بیٹھائے جارہے ہیں۔ قصور انکا نہیں وہ تو اقتدار کے بھوکے بھیڑئیے ہیں ہی لیکن ہم ان سنگھی لٹیروں کو کیوں اقتدار پر چپکے رہنے انکی مدد کررہے ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔
کیا ہم اس انہونی واقعہ کو بھول گئے جب آزادی ھند کے بعد پہلی مرتبہ دیش کی عدالت عالیہ کے چار معتبر ترین جج صاحبان آزاد میڈیا پر آکر انہی مودی مہان اور انکے سنگھی ٹولے کی طرف سے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا الزام لگایا تھا۔ مندرجہ ذیل دی گئی 2018 کی سب سے بڑی سرخی بٹورتی خبر”سپریم کورٹ ججر کا عوامی عدالت انصاف کی مانگ” کے بعد والے 8 لمبے سالوں میں کیا ہم نے دیش کی آزاد عدلیہ عالیہ کو آزادانہ فیصلے دیتے پایاہے؟

یا سنگھی حکومتی دباؤوالے فیصلے دئیے، بعد ریٹائرمنٹ سنگھی حکومتی انعام رشوت لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے پایا ہے؟یہ اور بات ہے, وقفہ وقفہ سے چھوٹے چٹ پٹ معاملات میں سنگھی حکومت کے خلاف فیصلے دئیے جاتے, عدلیہ پر عوامی بھروسہ قائم رکھتے پھر اپنے ریٹائرمنٹ کے وقت سنگھی حکومتی حق میں بڑے فیصلے دیتے ہوئے, حکومتی انعام پانے کی ہوڑ میں جج صاحبان کو دیش کی عام جنتا نے پایا ہے؟

سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے کورٹ کے کام کاج کے حوالے سے سب سے اہم، براہ راست چیلنج اور، توسیعی طور پر، جمہوری آزادی پر تشویش، 12 جنوری 2018 کو پیش آئی۔

اس دن، سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں (جسٹس جستی چلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن لوکور، اور کورین جوزف) نے ایک بے مثال پریس کانفرنس کی، جس میں کہا گیا کہ سنگجی چار سالہ رام راجیہ میں, سپریم کورٹ کا نظم و ضبط ٹھیک نہیں ہے اور یہ کہ آزاد عدلیہ کے بغیر “جمہوریت زندہ نہیں رہے گی”۔
سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے ادارے کے کام کاج کے حوالے سے سب سے اہم، براہ راست چیلنج اور، توسیعی طور پر، جمہوری آزادی پر تشویش، 12 جنوری 2018 کو پیش آئی

اس واقعہ پر آٹھ لمبے سال گزرنے کے بعد بھی, ہزاروں سالہ آسمانی ویدک گنگا جمنی نیز عالم کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت ھند میں کیا واقعی دیش کی عدلیہ آزاد ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے خصوصا دیش کی اعلی تعلیم یافتہ سول سوسائیٹی سے منسلک افراد جے این یو مسلم ایکٹیوسٹ عمر خالد اور اسکے مسلم ساتھیوں سمیت دیش کےبہادر آئی اے ایس آفیسر سنجیو بھٹ کو بغیر ٹرائیل بغیر ضمانت دس سے پچیس سال جیل میں سڑائے رکھنے والے خود ساختہ ایشور کے اوتار وشؤگرو والی سنگھی رام راجیہ پالیسیز اندرا گاندھی والی سترہ اٹھارہ مہینے والے ایمرجینسی سے خطرناک بغیر اعلان شدہ سنگھی نازی ایمرجینسی ہے

کے نہیں؟ یہ دیش واسیوں کو طہ کرنا ہے ۔یاد رکھیں کوئی جابر حکمران خود سے اپنے ظالمانہ نازی حکومت کو ازخود ختم نہیں کرتا ہے،اس کے لئے ایک نہ ایک دن تو دیش کی عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہی پڑتا ہے۔ کیا بھارت واسیوں نے پڑوسی سری لنکا اور بنگلہ دیش کے عوامی انقلاب بعد ان ملکوں کی ترقی پزیری کو نہیں دیکھا ہے؟ کیا اب بھی دیش واسی 140 کروڑ عوام ہزاروں سالہ سونے کی چڑئا بھارت کو امریکی انگرئز سامراج کے ہاتھوں بیچ دئیے جاتے، سنگھی حکمرانوں کو, اقتدار کے ایوانوں سے باہر پھینکے, مہان بھارت کو حقیقی آزادی دلوانے سڑکوں پر نہیں نکلیں گے؟ وما علینا الا البلاغ
دیش کے قابل آئی اے ایس آفیسر آخر کس قانون کی دفعات کے تحت سابقہ 24 لمبے سالوں سے گجرات جیل میں بند سڑائے جارہے ہیں؟ کیا اس مہان دیش میں ایشور کے خود ساختہ اوتار کے خلاف قانون وعدلیہ اندھی ہوچکی پے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں