ماں گود سے جنت تک ایک نسل کی تعمیر کا راز 78

ماں گود سے جنت تک ایک نسل کی تعمیر کا راز

ماں گود سے جنت تک ایک نسل کی تعمیر کا راز

تحریر شائستہ مچک
تمہید ماں آج خود سے سوال کرو.اے ماں کیا تم صرف بچوں کو بڑا کر رہی ہو؟ یا تم ایک ایسی نسل تیار کر رہی ہو جو کل تمہاری قبر کو روشن کرے گی؟ آج کا انسان کامیابی کو تنخواہ ڈگری اور شہرت سے ناپتا ہے۔مگر اسلام کامیابی کو سجدے کردار اور جوابدہی سے ناپتا ہے۔تمہاری گود میں صرف بچہ نہیں مستقبل سو رہا ہے۔جدید نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ بچے کی شخصیت کا بڑا حصہ زندگی کے ابتدائی سالوں میں تشکیل پاتا ہے۔ ماہرِ نفسیات John Bowlby کے مطابق ماں اور بچے کا جذباتی تعلق بچے کے اعتماد خوف تعلقات اور فیصلوں کی بنیاد رکھتا ہے۔اگر بچہ محبت تحفظ اور قبولیت محسوس کرے گا

تو وہ مضبوط شخصیت کا مالک بنے گا۔اگر اسے مسلسل تنقید خوف یا عدم توجہ ملے تو وہ یا تو باغی ہوگا یا ٹوٹا ہوا۔اسلام صدیوں پہلے یہ حقیقت بیان کر چکا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے بچوں سے شفقت کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کی گود میں بچے بیٹھتے، وہ نماز میں سجدہ طویل کر دیتے تاکہ بچہ آرام سے کھیل لے۔یہ پیغام تھا:رحمت کمزوری نہیں تربیت کی بنیاد ہے۔اسلام میں ماں کا مقام ذمہ داری کا اعلان حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق ایک شخص نے پوچھا میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں تین مرتبہ پھر تمہارا باپ (صحیح بخاری)یہ تکرار صرف عزت نہیں بلکہ ذمہ داری کا اعلان ہے۔گویا ماں کی قربانی صرف جسمانی نہیں جذباتی روحانی اور ذہنی بھی ہے۔تربیت صرف دنیا نہیں دونوں جہانوں کی ہےآج کی ماں اکثر ایک دوڑ میں ہے بچہ اچھے اسکول میں ہو اچھی انگریزی بولے اچھا کیریئر بنائے۔مگر سوال یہ ہے کیا وہ اللہ کو پہچانتا ہے؟ کیا اسے سچ بولنے کی قیمت معلوم ہے؟ کیا اسے معلوم ہے کہ تنہائی میں بھی ایک رب دیکھ رہا ہے؟ اسلامی تربیت تین ستونوں پر کھڑی ہے 1 ایمان 2 کردار3 صلاحیت
اگر صرف صلاحیت ہو اور ایمان نہ ہو تو ذہین مگر بے رحم نسل پیدا ہوتی ہے۔اگر صرف جذبات ہوں اور کردار نہ ہو تو کمزور شخصیت بنتی ہے۔اگر ایمان ہو کردار ہو اور مہارت بھی ہو تو امت بنتی ہے۔سلطان محمد فاتحؒ ماں کی گود سے تاریخ تک۔سلطان محمد فاتح کی مثال صرف ایک فاتح کی کہانی نہیں ایک ماں کی بصیرت کی داستان ہے۔بچپن سے ان کے دل میں وہ حدیث بسائی گئی جس میں قسطنطنیہ کی فتح کی خوشخبری تھی۔

انہیں یہ سکھایا گیا کہ وہ صرف ایک شہزادہ نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔ان کی تربیت میں سلطان محمد فاتح کی والدہ نے بچپن ہی سے ان کے دل میں یہ حدیث بٹھا دی تھی۔ انہیں یہ احساس دلایا گیا کہ وہ صرف ایک شہزادہ نہیں بلکہ امت کے ایک مشن کا حصہ ہیں۔ان کی تربیت کے بنیادی عناصر قرآن حفظ کروایا گیا حدیث سے محبت پیدا کی گئی،

اللہ پر توکل سکھایا گیا۔دنیاوی تعلیم (فوجی حکمتِ عملی، سیاست زبانیں) بھی دی گئی۔یعنی تربیت یک رُخی نہیں تھی دنیا اور آخرت دونوں کا توازن تھا۔ان کی والدہ نے انہیں صرف سلطنت کے لیے تیار نہیں کیا بلکہ آخرت کی جوابدہی کا شعور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فتح غرور نہیں بلکہ شکر اور سجدہ میں تبدیل ہوئی۔یہ مثال واضح کرتی ہے باایمان ماں صرف بیٹا پیدا نہیں کرتی، وہ تاریخ پیدا کرتی ہے۔جب قسطنطنیہ فتح ہوا، وہ غرور میں نہیں ڈوبے بلکہ سجدے میں گر گئے۔یہ ہے وہ تربیت جو دنیا بھی جیتتی ہے اور آخرت بھی سنوارتی ہے۔
مشاہدہ: بچے سنتے کم، دیکھتے زیادہ ہیں ماہرِ نفسیات Albert Bandura کے مطابق بچے مشاہدے سے سیکھتے ہیں۔اگر ماں نماز کی پابند ہے، بچہ نماز کو اہم سمجھے گا۔اگر ماں غیبت کرتی ہے، بچہ اسے معمول سمجھے گا۔اگر ماں صبر کرتی ہے، بچہ صبر سیکھے گا۔یاد رکھو:تمہارا کردار تمہاری نصیحت سے زیادہ بلند آواز رکھتا ہے۔ماں، تمہاری دعا نسل بدل سکتی ہےحدیث میں آیا ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد بھی شامل ہے(صحیح مسلم)سوچو…تم اپنے بچے کو صرف یونیورسٹی تک پہنچا رہی ہو؟یا جنت تک؟تم صرف اس کا مستقبل بنا رہی ہو؟

یا اپنا بھی؟آج کی ماں کے لیے سبق اے ماں…اپنے گھر کو صرف آرام گاہ نہ بناؤ اسےایمان گاہ بناؤ۔اپنے بچے کو صرف مقابلہ کرنا نہ سکھاؤ حساب دینا بھی سکھاؤ۔اسے صرف بولنا نہ سکھاؤ سچ بولنا سکھاؤ۔اپنی گود کو بازار کی آوازوں سے بچاؤ۔اس میں قرآن کی آواز بساؤ۔ایک دن تم خاموش قبر میں ہوگی۔لوگ واپس چلے جائیں گے۔صرف تمہاری تربیت زندہ رہے گی۔اگر تمہارا بچہ نماز پڑھ رہا ہوگا تمہاری قبر روشن ہوگی۔اگر وہ ظلم سے بچ رہا ہوگا تمہاری مغفرت کا سبب ہوگا۔اگر وہ کسی کا دل نہیں توڑ رہا ہوگا تمہارے نامۂ اعمال میں نیکی لکھی جا رہی ہوگی۔ماں…تم صرف آج نہیں جی رہی۔تم ابدیت لکھ رہی ہو۔

اپنی گود کو سنبھالو۔کیونکہ یہی گود کل کی امت ہے۔اگر اولاد نیکی پر قائم رہے تو اس کی ہر دعا، ہر سجدہ اور ہر اچھا عمل ماں کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔اسی لیے اسلامی ماں کی نیت صرف یہ نہ ہو کہ میرا بچہ کامیاب ہو،بلکہ یہ ہو کہ میرا بچہ اللہ والا ہودنیا میں باعزت اور آخرت میں سرخرو ہو۔تربیت صرف مستقبل بنانے کا عمل نہیں،یہ ہمیشہ کے انجام کو سنوارنے کی ذمہ داری ہے۔ماں…تم آج جو اپنے بچے کے دل میں ایمان سچائی اور خوفِ خدا بو رہی ہو،کل وہی تمہارے لیے سکونِ قبر اور روشنیِ آخرت بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں