ڈیسنٹ شخصیت کو “سادہ” کہنے کا سماجی المیہ
ڈاکٹر کومل شہزادی
ہمارا معاشرہ بظاہر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، مگر ذہنی پیمانے اب بھی تضادات کا شکار ہیں۔ یہاں وقار کو کمزوری، خاموشی کو احساسِ کمتری اور سادگی کو نااہلی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو شخص اپنی حدود جانتا ہو، گفتگو میں تہذیب اختیار کرے، لباس میں اعتدال رکھے اور رویّے میں متانت — اسے فوراً “سادہ” کا لیبل دے دیا جاتا ہے۔
یہ “سادہ” کا لفظ بظاہر معصوم لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیات خطرناک ہے۔ اس کا مطلب اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ یہ شخص دنیا داری نہیں جانتا، مقابلہ نہیں کر سکتا، یا سماجی چالاکیوں سے نابلد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ڈیسنسی سادہ لوحی ہے؟ یا ہم نے شخصیت کا معیار ہی بدل دیا ہے؟
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں بلند آواز کو اعتماد اور نمود و نمائش کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے شخصیت کو ایک اسٹیج بنا دیا ہے جہاں ہر شخص اپنی زندگی کا بہترین زاویہ دکھانے میں مصروف ہے۔ جو زیادہ نمایاں ہے وہ زیادہ “اسمارٹ” سمجھا جاتا ہے، اور جو کم بولتا ہے وہ پیچھے رہ گیا تصور ہوتا ہے۔
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ایک معروف قول ہے:
“Confidence is silent. Insecurities are loud.”
اعتماد خاموش ہوتا ہے، عدم تحفظ چیختا ہے۔
اصل اعتماد انسان کے لہجے میں ٹھہراؤ، آنکھوں میں یقین اور عمل میں استقامت سے جھلکتا ہے، نہ کہ دکھاوے سے۔
لیونارڈو ڈاونچی نے کہا تھا:
“Simplicity is the ultimate sophistication.”
سادگی اعلیٰ درجے کی نفاست ہے۔
مگر ہم نے نفاست کو فیشن اور گہرائی کو برانڈز سے جوڑ دیا ہے۔
کردار بمقابلہ ظاہری چمک
ہمارے معاشرے میں اب شخصیت کا تعین لباس، گاڑی، اندازِ گفتگو اور سوشل میڈیا فالوورز سے کیا جاتا ہے۔ جبکہ اصل شخصیت وہ ہے جو تنہائی میں بھی ویسی ہی ہو جیسی محفل میں۔
میلکم فوربس کا قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے:
“Character is how you treat those who can do nothing for you.”
کردار یہ ہے کہ آپ اُن لوگوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں جو آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔
ڈیسنٹ انسان کی پہچان یہی ہے کہ وہ کمزور پر ظلم نہیں کرتا، طاقتور کے سامنے جھکتا نہیں، اور اپنے اصولوں کا سودا نہیں کرتا۔ مگر چونکہ وہ شور نہیں مچاتا، اس لیے وہ نمایاں نہیں ہوتا — اور معاشرہ اسے “سادہ” سمجھ لیتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہمیں یاد دلاتا ہے:
“انسان کی قدر اس کے اخلاق سے پہچانی جاتی ہے، نہ کہ لباس اور ظاہر سے۔”
نفسیاتی پہلو: کیوں چبھتی ہے ڈیسنسی؟
حقیقت یہ ہے کہ ڈیسنٹ شخصیت اکثر ان لوگوں کو بے چین کرتی ہے جو اندر سے غیر مطمئن ہوں۔ کیونکہ وقار خاموشی سے آئینہ دکھاتا ہے۔
جو شخص اپنی حدود کا احترام کرتا ہے، وہ دوسروں کو بھی اپنی حد یاد دلاتا ہے۔
کنفیوشس نے کہا تھا:
“The superior man is modest in his speech, but exceeds in his actions.”
اعلیٰ انسان گفتگو میں منکسر اور عمل میں نمایاں ہوتا ہے۔
ایسا انسان محفل میں چیخ کر نہیں جیتتا، بلکہ کردار سے دل جیتتا ہے۔ مگر ہم نے جیت کا معیار بدل دیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خاص طور پر باوقار عورت کو جلدی “سادہ”، “پرانی سوچ کی” یا “کمزور” کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی حدود میں رہے تو اسے دقیانوسی کہا جاتا ہے، اور اگر وہ حدود توڑے تو اسے جدید کہہ کر سراہا جاتا ہے۔
حالانکہ اصل ترقی حدود توڑنے میں نہیں، بلکہ شعور کے ساتھ جینے میں ہے۔ اقبالؒ نے باوقار زندگی کی تصویر یوں کھینچی:
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے۔
نگاہ کی بلندی کا مطلب تکبر نہیں، بلکہ خودی کا شعور ہے۔
اصل طاقت کہاں ہے؟
اصل طاقت شور میں نہیں، استقامت میں ہے۔
اصل وقار لباس کی مہنگائی میں نہیں، کردار کی سچائی میں ہے۔
اصل اعتماد چیخنے میں نہیں، خاموشی سے درست فیصلے لینے میں ہے۔
ڈیسنٹ انسان معاشرے کی خوبصورتی ہوتا ہے۔ وہ قانون کا احترام کرتا ہے، دوسروں کی عزت کرتا ہے، اور اپنی ذات کو نمائش کا سامان نہیں بناتا۔
سادگی اگر شعور کے ساتھ ہو تو وہ کمزوری نہیں، بلکہ پختگی ہے۔
ہمیں کس تبدیلی کی ضرورت ہے؟
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ:
خاموش رہنا کمزور ہونا نہیں۔
حدود میں رہنا پیچھے رہ جانا نہیں۔
وقار اختیار کرنا احساسِ کمتری نہیں۔
ہمیں شور کے بجائے کردار کو معیار بنانا ہوگا۔
ہمیں دکھاوے کے بجائے دیانت کو ترجیح دینی ہوگی۔
کیونکہ یاد رکھیں:
“Integrity is doing the right thing, even when no one is watching.”
— C.S. Lewis
دیانت داری یہ ہے کہ آپ صحیح کام کریں، چاہے کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے:
ڈیسنٹ ہونا سادہ ہونا نہیں،
بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا ہے۔
وقار کبھی سستا نہیں ہوتا،
اور جو سستا ہو — وہ وقار نہیں ہوتا۔
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں زندگی جینے سے زیادہ دکھانے کا نام بن چکی ہے۔ پہلے کردار گھر کی دیواروں کے اندر پروان چڑھتا تھا، اب اس کی پیمائش اسکرین کی چمک سے کی جاتی ہے۔ پہلے انسان کی پہچان اس کے اخلاق، علم اور رویّے سے ہوتی تھی، اب فالوورز، لائکس اور وائرل ویڈیوز سے کی جاتی ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی قدر “ڈیسنسی” ہے۔
آج اگر کوئی شخص سادہ لباس پہنے، دھیمے لہجے میں بات کرے، اپنی نجی زندگی کو نجی رکھے اور ہر لمحہ سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرے تو اسے فوراً “بورنگ”، “سادہ” یا “غیر متاثر کن” قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا وقار اب اس زمانے میں جرم بن چکا ہے
خاص طور پر عورت پر سوشل میڈیا کا دباؤ زیادہ ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ خود کو “پروجیکٹ” کرو، نمایاں بنو، ورنہ پیچھے رہ جاؤ گی۔ اگر وہ حیا اور وقار کے ساتھ زندگی گزارے تو اسے “سادہ” یا “کم اعتماد” سمجھ لیا جاتا ہے۔
حالانکہ اصل خود اعتمادی اپنی حدود جاننے اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے میں ہے۔
یہ معیار اگر ہم اپنالیں تو دکھاوے کی دوڑ خود بخود ختم ہو جائے گی۔
ڈیسنسی اور دکھاوے کی جنگ میں وقتی فتح شاید دکھاوے کو مل جائے، مگر مستقل عزت ہمیشہ کردار کے حصے میں آتی ہے۔
شور وقتی تالیاں تو بٹور لیتا ہے،
مگر وقار خاموشی سے دل جیتتا ہے۔
اگر ہم نے معیار بدل لیا تو ڈیسنٹ شخص کو سادہ نہیں،
بلکہ باوقار کہا جائے گا۔
اور یاد رکھیے —
زندگی دکھانے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے ہوتی ہے۔