89

دہشت گردی کیسے ختم ہو گی!

دہشت گردی کیسے ختم ہو گی!

ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی بڑھنے لگی ہے ، دہشت گرد براہ راستہ کوئٹہ ،پشاور سے اسلام آباد تک آپہنچے ہیں، طالبان حکومت کی سرپرستی میں افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، پاکستان میں ہر دہشت گرد کارروائی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کا ہی گٹھ جوڑ نظر آ رہاہے ،اس اسلام ا ٓباد دہشت گردی کے واقعہ پروزیر دفاع خواجہ آصف کا بھی کہنا ہے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس حملے میں ملوث دہشت گرد افغانستان آتا جاتا رہا ہے ،اس دہشت گرد حملے میںبھارت اور افغانستان کے درمیان ملی بھگت بڑے واضح انداز میں بے نقاب ہو رہی ہے۔
اس بات پر ایک بڑی تعدادمتفق ہے کہ ملک میں ہونے والی تمام کاروائیوں میں بھارتی ہاتھ ضرور ہوتا ہے اور جب سے بھارت افغان تعلقات میں گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے، اس وقت سے پاکستان کی مغربی سرحد بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘را’’نے افغانستان میں جب سے اپنے پنجے مظبوط کیے ہیں،اس وقت سے ہی پاکستان میں بھارتی و افغانی مداخلت خاصی گہری ہو گئی ہے،پا کستان کے کسی بھی علاقے میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کڑیاں افغانستان سے ہوتی

ہوئی بھارت سے جاملتی ہے ، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو غیر ملکی پشت پناہی حاصل ہے، دشمن پاکستان کے امن، یکجہتی اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ،تاہم اس کے خلاف قوم متحد ہے۔
یہ مانا کہ اس دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے ، مگر اس کے ساتھ دیکھنا پڑے گا کہ سکیورٹی انتظامات میں پائی جانیوالے کمزور کڑیاں کو نسی ہیں ،اس کی نشاندہی پر کام کر نا پڑے گا ،ہر دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے فتنہ الہندوستان ہوتا ہے‘ مگر اس اندیشے کو صرف بیان کر دینا کافی نہیں ہے

‘ اس کے سدباب کے مؤثر اقدامات بھی ہونے چاہئیں،حالیہ کچھ عرصے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لے کروفاقی دارالحکومت تک دہشت گردی کے منحوس سائے قومی تشخص اور پاکستان کے معاشی امکانات کیلئے بھی بڑا خطرہ ہیں،اس دہشت گردی کی سازش کو سمجھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ دشمن پاکستان کے ابھرتے ہوئے عالمی تشخص اور معاشی ترقی کے مواقع کو گہنانے کیلئے دہشت گردانہ واقعات کی حوصلہ افزائی کررہاہے۔
اس صورتحال کے سدباب کیلئے ملک میں سکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانے اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا درجہ بڑھا نے کی ضرورت ہے ،پاکستان کے امن وسلامتی کو لاحق خطرات قومی سطح پر یکجہتی اور ہم آہنگی کو تقویت دینے کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے خلاف جب قوم کو یک زبان ہو گی

تو ہی قیام امن کی کارروائیوں کو بہتر طور پر انجام دینے میں مدد ملے گی، خیبر پختونخوا‘ بلوچستان اور اب اسلام آباد کی صورتحال دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں دقیقہ فروگزاشت کی متحمل نہیں ہو سکتی، ان اندوہناک واقعات کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کر نا ہوں گے،اگرچہ دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سکیورٹی اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے اور ملک کے طول وعرض میں آپریشن بھی شروع ہو چکے ہیں، تاہم اس جنگ کو جیتنے کیلئے اصل مسائل کی جانب نہ صرف ضروردیکھنا ہو گا، بلکہ ان کے تدارک کا بھی بندوبست کرنا ہو گا۔
ہمیں اپنے نیشنل ایکشن پلان کو بھی روئیوکرنا ہو گا ، اس میں دیکھنا ہو گا کہ کہاں تک عمل درآمد ہورہا ہے اور کہاں پر نہیں ہورہا ہے ، اس ایکشن پلان کے بنانے اور متفقہ طور پر عمل درآمد کر نے کے عہد کا کیا فائدہ کہ اس پر آج تک مکمل عمل درآمد ہی نہیں ہو رہا ہے، اگر ہم نے دہشت گردی کی دلدل سے نکلنا ہے توہمیں مصالحت کا لبادہ اُتارا ہو گا اور اس نیشنل پلان پر منوعن عمل بھی کر نا ہو گا،ورنہ ہم دنیا کے سامنے تماشہ بنیں رہیں گے۔
یہ دنیا کی واحد ریاست ہے ،جوکہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی،جو کہ کچھ جنگجوؤں کے ہاتھوں دنیا میں تماشہ بنی ہوئی ہے، دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی حکمت عملی اختیار کی جائے‘ اس میں طاقت کے استعمال کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، لیکن اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ اس میں سیاسی پہلوؤں اور عوام کی رائے کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے، دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے ،جو کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ایک پلیٹ فارم پر آنے سے ہی قائم ہو سکتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں