77

دہشت گردی اور بچوں کی ذہن سازی!

دہشت گردی اور بچوں کی ذہن سازی!

ملک میںفتنہ الہندوستان کو سختی سے کچلا جارہا ہے، اس کے باوجود ملک دشمن قوتیں مختلف طر یقوں سے دہشت گردانہ کاروئیوں سے باز نہیں آرہی ہیں ، دہشت گرد عناصرجہاں نوجوانوں کو ور غلارہے ہیں ۔وہیں کم سن بچوں کو نہ صرف اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں ، بلکہ سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی بھی کررہے ہیں،گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک کم عمر لڑکی کو خودکش حملے کے منصوبے سے بچا لیا‘

جو کہ دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے جھانسے میں آ کر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئی تھی، اگر یہ بروقت کارروائی نہ ہوتی تو نہ صرف ایک معصوم لڑکی کی جان جاتی، بلکہ کراچی بھی ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتا تھا۔یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے اور اسلام کے ہی نام پر معصوم لوگوں کو ور غلایا جارہا ہے ، جبکہ اسلام میںخودکش حملہ جائز ہے نہ انسانیت اجازت دیتی ہے ، اس کی پٹھان، بلوچ روایات میں بھی کوئی گنجائش نہیں ہے،

اس کے باوجود پہلے نوجوانوں کو اکسایا جارہا تھا اور اب معصوم بچوں کے ذہنوں کو بھی متاثر کیا جارہا ہے ، اس واقعہ میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے بچی کے ذہن کو آہستہ آہستہ متاثر کیا گیااوربچی والدہ سے چھپ کر موبائل فون استعمال کرتی رہی ہے ، دہشت گرد ہینڈلرز نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا، ایک ہینڈلر نے ہمدردی اور مدد کے بہانے رابطہ قائم کیا اور بعد ازاں اسے خودکش حملے پر اکسانا شروع کر دیا،اس بچی کی زہن سازی کر کے جھوٹ بول کر کراچی بھیجا گیا، تاہم پولیس ناکوں پر سخت چیکنگ کے باعث ہینڈلر اسے مطلوبہ مقام تک پہنچانے میں ناکام رہے

اور یوں ساری سازش بے نقاب ہو گئی، بچی نے پورے نیٹ ورک، رابطوں اور طریقہ واردات کی تفصیلات فراہم کر دی ، اس کے بعد کم عمری کے پیش نظر فوری طور پر اس کے خاندان کو طلب کیا گیا، بچی کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی اور اسے مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ تفتیش کا عمل بدستور جاری ہے۔
یہ سیکورٹی اداروں کی بڑی ہی قابل تحسین کاروائی ہے کہ جس کے باعث ایک معصوم بچی کی جان اورکراچی ایک بڑی تباہی سے بچ گیا ،لیکن اس ناسور کا سد باب تب ہی ممکن ہو گا ، کہ جب ہر کوئی اپنی ذمہ داری کا احساس کر ے گا ،اس واقعہ میں واضح ہو گیاہے کہ دہشت گرد اب اپنے مذموم مقاصد کیلئے چھوٹے بچوں کو بھی استعمال کر رہے ہیں،لیکن اس کے ساتھ ہی بھی واضح ہورہا ہے کہ والدین کہاں کوتاہی کررہے ہیں اور کہاں ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرپارہی ہے ، یہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہے

کہ اپنے بچوں کے فون کے استعمال کو چیک کریں ،ان کی روز مرہ مصروفیات پر نظر رکھیں اور ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سوشل میڈ یا پر نفرت انگیز اور شدت پسندانہ مواد کے خلاف اقدامات کرے ، لیکن کوئی بھی اپنی ذمہ داری بطریق احسن پوری نہیں کررہا ہے ، اس لیے ہی دہشت گردعناصر اپنی کاروئیوں میں بڑی حدتک کا میاب ہورہے ہیں ۔
اس واقعہ کے بعد ہر ایک کوہی اپنا محاسبہ کر نا ہوگا اور ایک نئی حکمت عملی کے تحت ا ٓگے بڑھنا ہو گا ، حکومت کو جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز اور شدت پسندانہ مواد کے خلاف اقدامات کو مزید سخت اور مشتبہ اکاو نٹس بند کرنا ہوں گے ، تاکہ بچوں تک نقصان دہ مواد نہ پہنچ سکے، وہاں غربت‘ جہالت‘ پسماندگی اور ناانصافی کا بھی خاتمہ کرنا ہو گا‘ اگر ایک طرف سوشل میڈ یا کے خلاف ادارے فعال نہیں ہوں گے

اور دوسری طرف جہالت‘ پسماندگی اور ناانصافی بڑھتی رہے گی تو کیسے دہشت گردوں کی کاروائیوں کو روکا جاسکے گا اور کیسے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جاسکے گا، اس دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کر نے کیلئے ہر ایک کو آگے بڑھ کر سیکورٹی اداروں کا ساتھ دینا ہو گا ۔
اس میں شک نہیں کہ عوام سیکورٹی اداروں کے شانہ بشانہ نہ صرف کھڑے ہیں ، بلکہ اپنی جانوں کی قربانیاں بھی پیش کررہے ہیں ، اس کا اظہار وزیر اعظم شہباز شر یف نے اپنے بیانیہ میں بھی کیا ہے کہ پوری قوم، افواج پا کستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم مل کر دہشت گری نہ صرف خاتمہ کر یں گے ، بلکہ ملک دشمن قوتوں کو بھی منہ توڑ جواب دیں گے ، لیکن یہ سب کچھ تبھی ممکن ہو گا کہ جب سب لوگ اپنی ذمہ داریوں سے سنجید گی سے عہدا برا ہوں گے ،ایک دوسرے پر الزامات اور ذمہ داریاں ڈالنے سے بد امنی میں مزیداضافہ ہو گااور سماج اور ریاست دشمن عناصر کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں