موٹیویشن کا انتظار چھوڑو ڈسپلن اپناؤ
کالم نگار
شائستہ مچک
صبح کا الارم بجتا ہے۔۔آپ: آج سے نئی زندگی شروع۔5سیکنڈ بعد۔Snooze۔۔ Snooze again پھر دماغ کہتا ہے:نیند بھی تو ضروری ہے… صحت ہے تو سب ہے۔اور جب آنکھ کھلتی ہے تو سورج بھی کہتا ہے:
Welcome back, legend.
ہم یوٹیوب ویڈیوز save کرتے ہیں، motivational reels like کرتے ہیں،اور خود سے وعدہ کرتے ہیں: بس ایک زبردست موڈ آئے… پھر دنیا ہلا دوں گا۔لیکن سچ یہ ہے:موڈ نہیں آتا… بل آ جاتے ہیں۔ کتاب کھولتے ہیں…دماغ: پہلےماحول بنا لیتے ہیں۔پھر:چائے ضروری ہے۔پھر: چائے کے ساتھ موبائل بھی ہونا چاہیے۔اور 10 منٹ بعد آپ کسی random recipe کودیکھ رہے ہوتے ہیں…جس کا آپ کے future سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا آپ کا NASA سے۔اسی لیے کامیاب لوگ موڈ کے غلام نہیں ہوتے
…وہ ڈسپلن کے مالک ہوتے ہیں۔ذرا غور کریں، اگر پڑھائی، کام یا نماز صرف موڈ پر ہوتی تو شاید دنیا کا نظام تین دن میں بیٹھ جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب لوگ موڈ کے غلام نہیں ہوتے، وہ ڈسپلن کے مالک ہوتے ہیں۔ موٹیویشن دھوکہ کیوں ہے؟ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ موٹیویشن ایک احساس (Emotion) ہے، اور احساسات مستقل نہیں ہوتے۔ کبھی ہائی، کبھی لو۔ اگر آپ اپنی زندگی کو ایک غیر مستقل چیز کے حوالے کر دیں گے،
تو نتیجہ بھی غیر مستقل ہوگا۔اسی لیے دنیا کی کامیاب اقوام جیسے جاپان موٹیویشن پر نہیں، سسٹم اور ڈسپلن پر چلتی ہیں۔ جاپانی اصول: Kaizen (کائزن)جاپان میں ایک مشہور اصول ہے: Kaizen یعنی روز تھوڑا بہتر ہونا۔وہ کہتے ہیں: بڑا کام نہیں، مسلسل کام اہم ہے۔اگر آپ روز صرف 1% بہتر ہوتے جائیں، تو ایک سال میں آپ وہ بن سکتے ہیں جو آج آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ آرمی ڈسپلن: احساس نہیں، حکم فوجی زندگی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:
Feelings don’t matter, duty does.
بارش ہو، سردی ہو یا تھکن سپاہی اٹھتا ہے، کیونکہ وہ موٹیویٹ نہیں بلکہ ٹرینڈ اور ڈسپلنڈ ہوتا ہے۔اسی اصول کو اگر نوجوان اپنی زندگی میں لے آئیں تو ان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔یہ وہ طریقے ہیں جو دنیا بھر کے کامیاب نوجوان استعمال کرتے ہیں:
1. 5 منٹ رول:
کام شروع کرنے کا دل نہ ہو تو خود سے کہو بس 5 منٹ۔ دماغ کو دھوکہ دو، وہ مان جائے گا۔ اکثر 5 منٹ 50 بن جاتے ہیں۔
2. Habit Stacking:
نئی عادت کو پرانی عادت کے ساتھ جوڑ دو۔مثلاً: نماز کے بعد 10 منٹ پڑھائی۔
3. Environment Design:
اگر موبائل ہی دشمن ہے تو اسے دور رکھو۔ کامیابی صرف ارادے سے نہیں، ماحول سے بھی آتی ہے۔
4. Consistency over Intensity:
ایک دن 10 گھنٹے پڑھنے سے بہتر ہے روز 1 گھنٹہ پڑھنا۔
اسلامی نقطہ نظراسلام ہمیں ڈسپلن سکھاتا ہے دن میں پانچ وقت کی نماز ایک بہترین مثال ہے۔یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت موڈ سے نہیں، پابندی سے ہوتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ کو وہ عمل زیادہ پسند ہے جو مستقل ہو، چاہے کم ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ اقبال کا پیغام علامہ اقبالؒ نے نوجوان کو جگانے کے لیے فرمایا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ بلندی موٹیویشن سے نہیں، ڈسپلن، محنت اور استقامت سے آتی ہے۔اصل حقیقت (Wake-Up Call)اگر آپ آج بھی موٹیویشن کا انتظار کر رہے ہیں، تو سچ سن لیں:آپ اپنی زندگی کو delay کر رہے ہیں۔کامیاب لوگ وہ نہیں جو ہر روز موٹیویٹ ہوتے ہیں،بلکہ وہ ہیں جو ہر حال میں کام کرتے ہیں۔موٹیویشن ایک مہمان ہے آتا ہے، چلا جاتا ہے۔ڈسپلن ایک عادت ہے جو آپ کو وہاں لے جاتی ہے جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔آج فیصلہ کریں:میں موڈ کا نہیں، اپنے مقصد کا غلام بنوں گا۔آپ بس comfort zone کے prisoner ہو۔موٹیویشن ایک مہمان ہے آتی ہے، چلی جاتی ہے۔ڈسپلن ایک عادت ہے جو آپ کو منزل تک لے جاتی ہے۔آج فیصلہ کریں:میں موڈ کا نہیں… اپنے مقصد کا غلام بنوں گا۔