مہنگائی کیسے کم ہو گی !

مہنگائی کیسے کم ہو گی !

عوام پہلے ہی بڑھتی مہنگائی سے پر یشان حال تھی کہ حکو مت نے ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر دوسری بار تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ،لیکن اس کے خلاف جب فوری عوامی رد عمل آیا تو قیمت میں 80 روپے کم کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اگر 137 روپے 23 پیسے بڑھا کر 80 روپے کم کر بھی دیا جائے تو عوام کی مشکلات میں کو ئی خاص کمی نہیں آئے گی ، کیو نکہ ایک بار پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ساٹھ فی صد اضافے کے اعلان کی شکل میں سامنے آگیاہے،ظاہر ہے کہ اس کے بعد اشیائے خور و نوش سمیت تمام ضروریات زندگی کی مہنگائی کا سیلاب یقینی ہے، جو کہ غریب اور متوسط طبقوں کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنادے گا۔
اس پرحکومت کا موقف ہے کہ ایران سے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافوں کے بعد اس کے پاس پاکستان میں بھی قیمتیں اتنی حد تک بڑھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا ، اگر چہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی مشکلات بہت بڑھ جائیں گی، لیکن اس کی حکومت کو کوئی خاص پرواہ ہے نہ ہی فیصلہ ساز کچھ سو چ رہے ہیں، عوام مخالف فیصلے ہی کیے جارہے ہیںاور ایک بار پھر عوام کے ساتھ اشرافیہ سے قر بانی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں ، بچت مہم بھی چلائی جارہی ہے ، لیکن یہ سب کچھ سیاسی اور اشتہاری مہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے

، اس ملک میںہر حکو مت اب تک منصفانہ ٹیکس سسٹم رائج نہیں کر پائی ہے تو کیسے معاشی بد حالی کو معاشی استحکام میں بد لنے کی دعوئیدار بن سکتی ہے اور کیسے در پیش بحرانوں پر قابو پا کر عوام کو رلیف دیے سکتی ہے ،اس ملک میںبالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے ہی قومی خزانہ عام آدمی پر بھاری بوجھ ڈال کر بھرا جاتاہے،اس کا ہی نتیجہ ہے کہ خود حکومتی دستاویزات کے مطابق غربت کی شرح گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔
ملک میں ایک طرف غربت بڑھتی جارہی ہے تو دوسری جانب حکو مت کے عوام مخالف فیصلوں کے باعث مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ،حکو مت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے بلند ترین اضافے کے بعد کسی حد تک عوام کے لیے مختلف رعایتوں کا عندیہ دیا ہے ، لیکن اصولی طور پر عوام کو رعایت دینے کا بہترین طریقہ تھا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی مد میں اپنی آمدنی کو مزید بڑھانے سے اجتناب کرتی ،

جیساکہ دیگر ممالک میں کیا جارہا ہے،اس میں سپین کی حکومت کے احسن فیصلے کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اُس نے ملک میں 21 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کیا ہے،وہاں حکومت کے لیے جاری عالمی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہوئی تو اُس نے سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح 21 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی‘ یعنی اپنی آمدن کم کر لی، لیکن اپنے شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالاہے،جبکہ ہمارے ہاں برعکس ہو رہا ہے،یہاں عام آدمی پر بوجھ ڈالا جارہا ہے اور حکومتی شاہ خرچیاں جوں کی توں ہیںاور اشرافیہ کو نوازا جارہا ہے ،مگر یاد رہے کہ آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔
اس وقت ملک میںپٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، اس کے بعد مہنگائی کے طوفان کا انتظار ہے، جو کہ پہاڑی علاقوں کے سیلاب کی طرح اوٹ میں چھپا ٹوٹ پڑنے کو ہے،عالمی ادارے خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے خبردار کر چکے ہیں، مگر ملکی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بے بہا اضافے کے اثرات صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے،

اس کاحکمرانوں کو شاید اندازہ نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کے اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر کس قدر سنگین ہوں گے اور پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام آدمی کے لیے زندگی کس قدر دشوار ہو جائے گی، اس بارے حکمران کوئی خاص فکر مند دکھائی نہیں دیتے ہیں ، حکمران سمجھتے ہیں کہ عوام پر جتنا مرضی بوجھ ڈال دیا جائے ، عوام نہ صرف بر داشت کر جائیں گے ، بلکہ صبربھی کر جائیں گے اور کوئی احتجاج کوئی آواز نہیں اُٹھائیں گے۔
اس کا ثبوت اپوزیشن بھی دیے رہی ہے کہ باہر نکلنے کے بجائے آل پارٹی کا نفرنس بلانے کی باتیں کررہی ہے ، اس کمزور طرز عمل کے بعد عوام مایوس ہیں ، لیکن عوام کا صبر لبر یز ہورہا ہے ، عوام کے اندر حکو مت مخالف جذبہ بڑھ رہا ہے، اس کو محسوس کرتے ہوئے سبسڈی دینے کی باتیں کی جارہی ہیں،

وفاقی وزرائے کرام نے بعض شعبوں اور طبقات کے لیے جس سبسڈی کا اعلانات کررہے ہیں، اس کے طریق کار کے بارے میں خود حکومتی ذمے داران اور پٹرول پمپ مالکان واضح نہیںہیں،یہ طریقہ کار اس قدر گنجلک ہے کہ اس کے فائدہ کے بجائے الٹا نقصا ن ہی ہو گا،اس سے عوام کو کچھ خاص رلیف ملے گا نہ ہی مہنگائی میں کوئی کمی آئے گی ،اس کے ساتھ وزیر اعظم اشرافیہ سے ایک بار پھر قومی مفاد میں قربانی کی درخواست توکررہے ہیں، مگر اس مراعات یافتہ طبقہ کی مراعات میں کمی کا ٹھوس اور واضح اعلان نہیں کیا جارہا ہے ،اس صورتحال میں مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام اور مراعات یافتہ طبقہ میں براہ راست تصادم اور معاشرتی فساد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے، جو کہ ہر چوک چوراہے پر عنقریب نظر بھی آئے گا۔

 

 

Facebook Comments