نفرت کی سیاست
نفرت کی سیاست جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی پاکستان کی پوری تاریخ سیاسی محاذ آرائی سے بھری پڑی ہے مخالفین نے ایک دوسرے کو کبھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا سیاسی محاذ آرائی کا ایک طویل دور
تازہ ترین
نفرت کی سیاست جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی پاکستان کی پوری تاریخ سیاسی محاذ آرائی سے بھری پڑی ہے مخالفین نے ایک دوسرے کو کبھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا سیاسی محاذ آرائی کا ایک طویل دور
مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں! اتحادی حکو مت عر صہ دراز سے ایک کے بعد ایک بیانیہ کی تلاش میں سر گرداں ہے ،جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ایک نیا بیانیہ تشکیل پا چکا ہے کہ گولی کیوں چلائی؟ اس سے قبل
معاف کرنا اور آگے بڑھنا ہے ! اہل سیاست مذاکرات کی باتیں تو بہت کرتے رہتے ہیں ،مگر جب مذاکرت کر نے کی بات آتی ہے تو ادھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں ،جبکہ مذاکرات ہی سیاسی مسائل کے حل اور درپیش بحران
مذاکرات سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے! حکو مت اور تحریک انصاف مذاکرات کر نے پر آما دہ ہو گئے ہیں ،حکومت اور تحریک انصاف نے قر یب آنے میں کچھ دیر تو کر دی ،مگر یہ اچھی بات ہے کہ دونوں کے در میان
کیاہونے والاہے؟ جمہور کی آواز ایم سرورصدیقی ایک وقت تھا اپوزیشن ۔۔حکومت کے خلاف تحریک چلانے کااعلان کرتی تو عوام میں ایک سنسنی اور برسر ِ اقتدار سیا ستدانوں میں سراسیمگی سی پھیل جاتی حکومت مخالف
کشکول توڑنے کا خواب؟ جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی ایک وقت تھا میاںنوازشریف نے تواتر سے قوم کو یہ نوید سناتے رہے کہ ہم کشکول توڑ دیں گے اور پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلائیں گے اس کے لئے
آمر یت سے کمزور جمہوریت ہی بہتر ہے! ملک میں ابھی احتجاج ہی رک نہیں پایا ہے کہ سول نافرمانی کی باتیں ہو نے لگی ہیں ،تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات کی باتیں کررہی ہے تو دوسری جانب سول نافرمانی کی
گؤ رکھشک ہی گؤماتا ہتیھارے نکلے نقاش نائطی ۔ +966563677707 یوپی سنگھی ادھتیاتھ یوگی مہاراج کے مسلم منافرتی رام راجیہ میں، جہاں یوگی مہاراج کو گؤماتا بچھڑے سے پیار کرتے بھونپو میڈیا ٹی وی پر صدا
کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آئے گی ! ملک ایک ایسے سیاسی بحران کا سامنا کر رہا ہے کہ جس کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس بحران کے خاتمے کے راہ سب جا نتے ہیں اور ما نتے ہیں ، مگر اس
500 سالہ بابری مسجد سے، 2 سالہ بھویہ رام مندر تک قانونی نکتہ نظر سے ۔ نقاش نائطی نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹیلوزن دہلی ۔ +966562677707 “ھندوشدت پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کی ہر مسجد کے نیچے