مذاکرات کامیاب ہوناضروری !
دنیا میں ہر مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے ، لیکن مذاکرات میں جب دیری ہوجائے تو معاملات سلجھنے کے بجائے مذید بگڑ نے لگتے ہیں ،امر یکہ ،ایران جنگ میں بھی ایسا ہی کچھ ہورہا ہے ، تاہم اب پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ایک ایسی پیشرفت ہے
کہ جس نے قیام امن کی کاوشوں کو کسی حد تک تقویت دی ہے ،اگرچہ ایرانی حکام نے امریکہ کی پیش کردہ تجاویز مسترد ی ہیں، اس کے باوجود ایک ماہ کی جنگ کے دوران ایک ایسی پیش رفت معمولی نہیں ہے کہ فریقین مزید طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی چینلز کو موقع دینے پر غور کر نے لگے ہیں، اس حساس معاملے پر پاکستانی دفتر خارجہ نے قیاس آرائیوں سے گریز کی ہدایت کی ہے ، لیکن پسِ پردہ ہونے والی ہلچل، اس بات کی غماز ہے کہ برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔
اگر دیکھا جائے
تو اس تاریخی سفارتی پیش رفت میں پاکستان بالکل تنہا نہیں ہے‘ ترکیہ ، مصر کی عملی کوششوں کے علاوہ سعودی عرب ،قطر جیسے جنگ سے متاثرہ ممالک بھی مسلسل زور دے رہے ہیں کہ خطے کے مسائل کا واحد حل میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے میں ہی ہے،کیو نکہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں اور تنازع کوئی بھی ہو‘ اس کا حتمی فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے، اس گلوبل ویلیج میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں‘ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے شعلے نہ صرف خطے، بلکہ پوری دنیا کے لیے معاشی اور سماجی مسائل پیدا کر رہے ہیں،ماہرین کی رائے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں جنگ کے سبب سپلائی چین اور انرجی بحران کے سبب معاشی تسلسل کو جتنانقصان پہنچ چکا ہے‘
اس سے باہر نکلنے میں کئی سال، بلکہ کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔اس جنگ سے صرف مشر ق وسطی کا خطہ ہی نہیں، ساری دنیا ہی متا ثر ہورہی ہے ، انر جی بحران کے ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضا فہ نے ساری دنیا کے ہی لوگوں کو پر یشان کر دیا ہے ،لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور‘ تیس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں‘ مالی اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کا کوئی تخمینہ ہی نہیں،
ا متحارب ملکوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان اور دیگر غیر جانبدار ممالک کی مخلصانہ کوششوں سے فائدہ اٹھائیں اور پائیدار امن کی راہ ہموار کریں، اس وقت ضد اور انا کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر عالمی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا آسان ہوتا ہے، مگر بھڑکتی آگ کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا ہے، عالمی قوانین کی پاسداری اور ایک دوسرے کے سرحدی تحفظ کی ضمانت ہی بنیادی اصول ہیں، جو کہ دنیا میں امن واستحکام یقینی بنا سکتے ہیں۔
امر یکہ ،اسرائیل نے طاقت کے نشے میں ایران پر حملہ کر کے جو غلطی کی ہے ، اس کا خمیازہ سارے ہی بھگت رہے ہیں ، اس غلطی کی درستگی ایسے ہی ہو گی کہ بااثر ممالک بھی آگے آئیں اور اس معاملے کو پائیدار حل کی طرف بڑھائیں،امر یکہ اور ایران پر دبائو بڑھائیں کہ وہ اپنے روئیوں میں تبدیلی لائیں اور اپنی شرائط میں نر می لائیں ،عالمی امن کیلئے ہر ملک کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانا ہو گا ،
بصورت دیگر عالمی امن مسلسل خطرے کی زد میں ہی رہے گا، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ بداعتمادی اور اشتعال انگیزی کے ماحول میں سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے کہ جس کے ذریعے جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے،یہ شرائط اور مطالبات کا تبادلہ ایک ثانوی معاملہ ہے‘ بنیادی ضرورت مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہے، ایران اور امر یکہ جب تک ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے‘
تب تک غلط فہمیاں دور ہو سکیں گی نہ ہی کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے گا۔اس وقت ایک ایسے ہی فورم کی ضرورت ہے کہ جہاں امریکہ اور ایران اپنے اختلافات پر کھل کر بات کر سکیں اور پاکستان نے ایک ایسا ہی پلیٹ فارم مہیا کر کے امن کو ایک موقع فراہم کیا ہے، اس کی تصدیق بھی دونوں جب سے کی جارہی ہے، یہ پا کستان کے ساتھ متحارب فریقین کی قیادت کا بھی امتحان ہے کہ اس موقع کو عالمی استحکام کی بنیاد بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا ایک بار پھرخطے کو مزید بے یقینی کی صورتحال کی طرف دھکیل دیتے ہیں،
لیکن اس بد لتی صورتحال میں ایسا لگ رہا ہے کہ ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کے بعد ایک دوسرے کو نہ صرف اچھی طرح جان چکے ہیں ، بلکہ سارے دنیا کے اندازے بھی غلط ثابت کر چکے ہیں تو اس کے بعد معالات سلجھانے کیلئے ایک میز پر تو آناہی ہو گا اور مذاکرات کو کامیاب بنانا ہو گا،یہ امر یکہ ،اسرائیل اور ایران کیلئے ایک اچھا موقع ہے کہ پا کستان کے سجائے مذاکرات سے ٹیبل پر بیٹھ کر جنگ کی دلدل سے باہرنکل جائیں ، بصورت دیگر اس جنگ کی پھیلتی آگ سب کو ہی جلا کر راکھ کر دیے گی ۔