Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

اسلام گڑھ: پیپلز پارٹی کے چوہدری طالب حسین نے خادم حسین کی پریس کانفرنس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے الزامات کی سخت مذمت کی

اسلام گڑھ(نامہ نگار)پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما و کونسلر میونسپل کمیٹی اسلام گڑھ چوہدری طالب حسین نے کہا ہے کہ خادم حسین ولد عبدالستار نامی شخص کی پریس کانفرنس جھوٹی ہے اس کی طرف سے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے میری شخصیت اور ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔عوام گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ عوامی مفادات کے لیے ہمیشہ کام کیا ہے۔خادم حسین خود کرپٹ اور قبضہ مافیا کا سرغنہ ہے

جس نے خود خالصہ سرکار کی زمین پر مکان بنایا ہوا ہے اور خالصہ کنال کا لگ بھگ 48 کنال رقبہ بھی فروخت کر چکا ہے خادم حسین پر 39 لاکھ 75 ہزار کی ریکوری کا کیس بھی زیر کار ہے۔خادم حسین ثابت شدہ انتشاری، فراڈی اور قبضہ مافیا کا سرغنہ ہے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاوں گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چنار پریس کلب(رجسٹرڈ)تحصیل اسلام گڑھ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔چوہدری خادم حسین نے اس موقع پر کہا کہ مجھ پر گزشتہ روز خادم حسین ولد عبدالستار کی طرف سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں جھوٹے و بےبنیاد الزامات لگا کر میری شخصیت و ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

میرے ساتھ محمد افضل ولد خوشی محمد پر بھی الزامات لگائے گئے ہیں جس کا جواب وہ خود محکمانہ اور قانونی طور پر دے گا۔ محمد افضل کے والد خوشی محمد نے 1989 ایکٹ کے تحت 25 کنال رقبہ الاٹ کرایا اور 10 کنال رقبہ قبرستان و جنازہ گاہ کے لیے مختص کیا۔محمد افضل کے والد خوشی محمد انسانیت کی خدمت کرنے والی عوامی شخصیت تھے اور درس و تدریس سے منسلک رہے اور اکثریتی بچے ان ہی سے قرآن پاک پڑھے ہیں۔ انھوں نے عوام کی ہر لمحہ مدد کی ان پر الزام تراشی کرنے والوں کو شرم کرنی چاہیے۔ ان الزامات کی میں مذمت کرتا ہوں۔البتہ میں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ موصوف خود کرپٹ اور قبضہ مافیا کے زمرے میں آتا ہے

جس کا ثبوت یہ کہ موصوف نے موضع رڑاہ جاگیر میں رقبہ خالصہ سرکار 231 خسرہ نمبر پر مکان بنایا ہوا ہے۔ مجھ پر الزام ہے کہ میں قبضے کرواتا ہوں انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا ورنہ تفصیل بتاتا البتہ لوگوں کی مدد ضرور کرتا رہا ہوں جس طرح موصوف کی مدد کی موصوف نے 2008 میں مکان بنایا تھا اور آج مجھے پتہ چلاہے کہ وہ مکان بھی خالصہ سرکار پر بنا ہوا ہے میں نے موصوف کی مدد بھی سریا سمیٹ کی شکل میں اس وقت ڈیڑھ 2 لاکھ تک کی کی جس کا میں نے آج تک تقاضہ نہیں کیا اسی طرح باقی کمزور لوگوں کی مدد کرتا رہا ہوں۔

خادم حسین نے خالصہ سرکار پر جو رقبہ جات فروخت کیے ان میں خسرہ نمبر 305 رڑاہ جاگیر 8 کنال، 276 سے 25 کنال، 220 سے 22 کنال 15 مرلہ مزید220 سے 11 کنال 5 مرلے موصوف کی زوجہ کوثر بی بی نے فروخت کیا۔ جن کو عدالت میں خود تسلیم کیا نمبر خسرہ 231 میں خود آباد ہے موصوف نے بھتیجے قمر اقبال نے 6 کنال خالصہ سرکار فروخت کیا۔ اس کے علاوہ مالکیتی رقبے بھی ہڑپ کیے ہیں۔

اس کے سسر سرگودھا میں آباد تھے جو ان پڑھ مگر درویش صفت انسان تھے موصوف نےجعلسازی سے ان سے مختار عام لیا اور ان کا رقبہ ان کی رضامندی کے بغیر فروخت کر دیا۔ لال خان کو جب پتہ چلا تو وہ موصوف کے گھر آئے تو اس نے انھیں آدھی رات کو اپنے گھر سے نکال دیا۔ 6 فروری 2006 کو جاری ہونے والا مختار عام مورخہ 5 مارچ 2007 کو منسوخ ہوا موصوف کو جب ابطال کا علم ہوا تو 6 مارچ کو سسر کے جملہ رقبہ کا ھبہ تیار کیا اور ابطال کے 2 دن بعد 18 کنال 18 مرلہ اپنی بیوی کے نام ھبہ کر دیا اور سسر کے 3 بیٹے اور 13 پوتوں کو جدی جائیداد سے مرحوم کر دیا جو اب تک واپس نہ کیا۔

موصوف کے حقیقی بھائی کا حصہ کا رقبہ بدوں اختیار فروخت کیا اور 9 لاکھ 75 ہزار روپے کھا گیا جس کا بیان حقیقی بھتیجے نے اڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں روبرو اہلیان دھ دیا۔عبدالعزیز ولد غلام دین محمود عرف مودو کی والدہ کا حصہ بھی موصوف ہڑپ کر گیا۔ محکمہ مال سمیت دیگر ادارے ایسے لوگوں سے خوف زدہ نہ ہوں بلکہ اپنے فرائض فرض شناسی اور دیانت داری سے ادا کرتے رہیں۔ موصوف نے 22 ستمبر 2010 کو 4 مختلف سرکاری محکموں کے 4 ملازمین کے خلاف احتساب بیورو درخواست دی۔

جس پر احتساب بیورو نے 2 سال تحقیقات کے بعد 28 ستمبر 2011 کو این او سی جاری کر کے بری کر دیا اور موصوف خادم حسین کے خلاف کلکٹر ضلع کو مالگواری ایکٹ کے تحت 39 لاکھ 75 ہزارریکوری کے لیے لکھا جو آج تک ریکور نہ ہوسکا. موصوف عادی مقدمہ بازی اور انتشاری شخصیت ہے۔محمد ابراہیم نیک عالم محمد عالم عبدالکریم کے خلاف 30 سال تک مقدمہ بازی کی اور کچھ حاصل نہ ہو سکا اور وہ مجبور لوگ اس مقدمہ بازی کی وجہ سے دنیا چھوڑ گئے۔ موصوف کا مساجد کے کام میں رکاوٹ ڈالنا وطیرہ ہے

۔موصوف رڑاہ جاگیر کا رہائشی ہے اور اس کا مواہ میں کوئی تعلق نہیں مگر اس کے باوجود اس نے رڑاہ پل سے چند میٹر کے فاصلے پر تعمیر ہونے والی مسجد پر حکم امتناعی لے لیا اور 8 ماہ بعد خارج ہوا اور کام شروع ہوا۔ وہ آج جامعہ مسجد بلال کے نام سے موجود ہے۔ ڈھوک رڑاہ جاگیر میں مولوی برکت اللہ کی مسجد جو 40 سال قبل تعمیر ہوئی جس کی توسیع ہونی تھی کو بند کروایا اور ابھی تک اس مسجد کا کام بند ہے۔موصوف کے خلاف پڑنے والی ریکوری تاحال نہ ہوسکی ہے موصوف خود عادی انتشاری فرد ہے اور الزامات دوسروں پر لگاتا ہے۔ اسے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

Exit mobile version