ہر جان کی قدر کب کی جائے گی !
اس ملک کے مختلف شہر میں کھلے مین ہولز میں معصوم لوگوںکے گرنے کا سلسلہ تھم نہ سکا، متعدد لوگوںکی ہلاکت کے باوجود انتظامیہ نے ہوش کے ناخن لیے نہ ہی صوبائی حکو مت حرکت میں آئی ،ایک اور ماں،بچی کا مین ہول میں گرنے کا واقعہ سامنے آ گیا،کراچی کے بعد شہرلاہور میں ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کا دلخراش واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ تعمیراتی کاموں میں برتی جانے والی انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے،
اس واقعے کا ایک افسوسناک پہلو ابتدائی طور پر انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت تھی‘ اس نے واقعہ کی صحت سے ہی انکار کرتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دے دیا، اس سے ریسکیو آپریشن تاخیر کا شکار ہوا،اور ماں بچی کی کوئی مدد نہیں کی جاسکی ، پنجاب حکومت کی جانب سے توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ،اس نے تعمیراتی سائٹ پر خاطر خواہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے، تاہم یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ ہے نہ ہی شاید آخری ہو گا؟
یہ کتنی بے حسی کی بات ہے کہ گزشتہ چند روز قبل بھاٹی گیٹ علاقے میں ماں اپنی بیٹی سمیت سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہوگئی ، انتظامیہ نے ابتداء میں واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش جاری رکھی اور ماں، بچی کے گرنے کی اطلاع کو جعلی قرار دیا،انتظامیہ کا موقف رہاکہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اس مین ہول میں تیکنیکی طور پرکسی انسان کا ڈوبنا ممکن ہی نہیں ہے ،
ایک طرف پولیس غلط سمت تفتیش کرتی رہی تو دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعے کو میاں بیوی کے جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کرتی رہیں،جبکہ شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو ناصرف حراست میں لے لیا گیا ،بلکہ تشدت کا نشانہ بھی بنایا گیا اور جھوٹ بولا جاتا رہا کہ کسی کو حراست میں نہیں لیا ہے۔ہمارے ہاں پولیس کا کیسا رویہ ہے ،یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ،
اس واقعہ میں بھی پو لیس کی تفتیش کے ساتھ حکو مت کے تر جمانوں کا رویہ بھی سب کے سامنے آیا ہے ، اس کے بعد جب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لیا ہے تو سارے ہی بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں، اعلی افسران کے ساتھ تر جمان بھی شر مندگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، معافی تلافی کے ساتھ استعفیٰ دینے کی باتیں کررہے ہیں ، لیکن ا ستعفیٰ کوئی دیے نہیں رہا ہے ، تاہم وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شر یف خوب برسی ہیں
اور ذمہ داروں کو سخت سزائیںینے کا حکم نامہ جاری بھی فرمایا ہے ، جو کہ ایک اچھا اقدام ہے ، لیکن کیا واقعی ان ذمہ دارین کو ایسی سخت سزا مل پائے گی اور کیا یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن پائے گی ، جبکہ ماضی میں ایسے اعلانات کے کچھ عرصہ بعد ہی ایسے معاملات پر مٹی ڈالی جاتی رہی ہے
اور ذمہ داروں کی دوبارہ بحالی کی جاتی رہی ہے۔اگر دیکھا جائے توہر سال ہی ملک بھر میں درجنوں افراد کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر جاں بحق یا زخمی ہو جاتے ہیں، ایسے حادثات کے بعد حکومت کی جانب سے چند افراد کو معطل کر کے اور کچھ کو سزائیں دیے کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، مگر مسئلے کے مستقل حل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ، جبکہ ہر صوبے میں سیوریج سے متعلقہ الگ محکمہ موجود ہے ،مگر کھلے مین ہولز ان اداروں کی انتظامی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں،
ضروری ہے کہ ان محکموں کو مین ہولز پر بروقت ڈھکن لگانے کا پابند بنایا جائے اور غفلت برتنے پر متعلقہ افراد کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ،علاوہ ازیں تعمیراتی منصوبوں میں حفاظتی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، لاپروائی کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور مٹی ڈال کر آگے بڑھنے کے روئیوں کو ترک کر نا چاہئے ، مشیر وزیر اعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مین ہولکے دھکن لگانا وزیر اعلی کی ذمہ داری نہیں ،متعلقہ ادارے کا کام ہے ، جبکہ وزیر اعلی کہتی ہیں کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ہر صورت پوری کر یں گے ۔
ہمارے ہاں جان کی کوئی قدر ہی نہیں ہے، یہاں کوئی جل کر مر رہا ہے تو کوئی کھلے مین ہو ل میں گررہا ہے اور اہل اقتدار بیا نیہ کی سیاست کررہے ہیں،اس اندوہناک واقعے کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے جس غیرسنجیدہ اور سرد مہری پر مبنی رویے کا مظاہرہ کیا گیا‘ اس نے عوامی اعتماد کوانتہائی متزلزل کیا ہے،یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس پر فوری ایمرجنسی رسپانس درکار تھا‘ اسے متعلقہ اداروں کی جانب سے پہلے جھٹلا یا گیا‘ پھر گھنٹوں تک تاخیری حربے اختیار کیے گئے ،پولیس کا کرداربھی انتہائی افسوس ناک رہاہے،
یہ المناک واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہمارے غیر معمولی حجم کے شہرگورننس کے شدید بحران کا شکار ہیں،اس آبادی سے بڑے شہروں کا انتظام پرانی بنیادوں پر استوار ادارہ جاتی اور وسائل کے بے ہنگم نظام کیساتھ ممکن نہیں ہے،حکو مت جب تک گڈ گورنس اور انتظامی معالات درست نہیں کر ے گی اور ہر جان کی قدر کو یقینی نہیں بنائے گی، عوام کے جان و مال کی تحفظ کر پائے گی نہ ہی عوام کی زندگی میں کوئی تبد یلی لاپائے گی۔

