Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

نیاسال کیسا رہے گا !

نیاسال کیسا رہے گا !

دنیا بھر میں ہر سال ایک نیاسال آتا ہے ،اور گزراسال چلا جاتا ہے،اس سال بھی ایک نئے سال کا آغاز ہورہا ہے اوراس سال میں بھی ہم ہمیشہ کی طرح دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اپنے داخلی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، ،جبکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مستحکم کرنے کیلئے بھی جدوجہد کر رہا ہے،پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج داخلی سطح پر اقتصادی ترقی اور سماجی استحکام کی جانب قدم بڑھانا ہے،

گزشتہ برسوں میں اقتصادی مشکلات، عالمی معاشی بحران اور داخلی سیاست کی غیر متوازن صورتحال نے پاکستان کے لیے ترقی کے عمل کو کسی حد تک سست کر دیا تھا،تاہم جانے والے سال میں کسی حدتک ایسے اقدامات ضرور ہوئے ہیںکہ جن سے توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں معیشت کی نمو کا ایک نیا دور شروع ہو نے جارہا ہے۔
اس وقت ملک کو بہت سارے چیلنجز کاسامنا ہے، اس میں بڑا چیلنج معاشی ترقی کے ساتھ سیاسی استحکام کو برقرار رکھنا ہے ، کیو نکہ ایک مضبوط سیاسی نظام کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ہے، گزشتہ سال پاکستان نے اپنی سیاسی افق پر نیا رخ اختیار کیا ہے،ساری سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت تو نہ ہو سکی ، لیکن اتحادی جماعتوں کی ہم آہنگی سے ہائبرڈ جمہوریت کسی حدتک چل رہی ہے ،لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اب کئی چیلنجز موجود ہیں،حکو مت ایک طرف سیاسی اور معاشی استحکام کی دعوئیدار ہے

تو دوسری جانب دونوں ہی زمینی حقائق پر دکھائی نہیں دیے رہے ہیں ،عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ ہی اپوزیشن سے مذاکرات کی بیل منڈھیرچڑھی ہے تو کیسے سیاسی استحکام آئے گا اور کیسے معیشت کو بہتر کیا جاسکے گا؟یہ بیرونی ملک آنیاجا نیاں اور بیرونی ممالک سے معاہدے ابھی تک محض خود کو تسلی دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں ،کیو نکہ اس کے مثبت نتائج کہیں دکھائی نہیں دیے رہے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں جو بڑے اقتصادی اور تجارتی تعلقات استوار ہو رہے ہیں، اس میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتاہے ، اس میںچین کے ساتھ سی پیک منصوبے کے تحت معاشی تعلقات کی مضبوطی، اور بھارت سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں، پاکستان کیلئے ایک بڑی کامیابی ہو سکتی ہیں،خاص طور پرپاکستان اور چین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری نہ صرف اقتصادی ترقی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، بلکہ دونوں ممالک کے مابین ایک مضبوط اسٹرٹیجک اتحاد بھی بنتا جا رہا ہے ،اس حکومت نے عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے مختلف سفارتی اقدامات کیے ہیں،

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جہاں ہمیشہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کی بات کی ہے ،وہاں عالمی فورمز پر اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے کی بھی کوششیں جاری رکھی ہے ،پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ میں اپنے کردار کو بھی بہت اہمیت دی ہے اور دنیا کو دکھایا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے شکار ملک کی حیثیت سے دکھائی دیتا ہے، بلکہ اس نے امن قائم کرنے کی خاطر دنیا بھر میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے۔
اگر دیکھا جائے تواس میںنئے سال2026میں عالمی سطح پر جو سب سے بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی،اس میں زیادہ ترماحولیات اور موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے ہوتی نظر آرہی ہیں، پاکستان، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس مسئلے کو اپنے قومی مفاد میں پہلی ترجیح بنا یاہے۔ گلگت بلتستان سے لے کر سندھ کے ساحلی علاقوں تک، پاکستان کے مختلف حصے اب موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے لڑنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے،

یہ عمل پاکستان کی عالمی برادری میں قیادت کی جانب ایک اہم قدم ہو گا، اس سے نہ صرف ملک کی داخلی صورتحال میں بہتری آئے گی، بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو ایک مضبوط ماحول دوست ملک کے طور پر پہچانا جائے گا،ایک اور اہم پہلو جو کہاس سال میں بڑی اہمیت کا حامل ہو گا، وہ اس کی نوجوان نسل کی ترقی اور تعلیم ہے، پاکستان کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے حکومت کو نہ صرف مزید مختلف پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے،بلکہ روز گار کیلئے موقع بھی نکالنے ہوں گے

،کیو نکہ نوجوانوں کے لیے اچھی تعلیم، ہنر مندی، اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ، ملک کے اقتصادی مستقبل کا اہم حصہ بن چکا ہے، ایک کامیاب اور خودمختار پاکستان کا خواب تب ہی پورا ہو سکتا ہے کہ جب اپنی نوجوان نسل کیلئے بہتر مواقع فراہم کریں گے۔پاکستان کے لئے 2026میں بہت ساری پیش گوئیاں کی جارہی ہیں ، نجومی حضرات ہر سال کی طر ح اس سال بھی اپنی دکانداری چمکارہے ہیں ، زمین آسمان ملارہے ہیں اور بتارہے ہیں کہ یہ سال پا کستان کیلئے ایک تبدیلی کاسال ہو گا ، جبکہ اس سال پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات اور عالمی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہو گی ،

ہمیںعالمی سطح پر ایک مضبوط اقتصادی، سیاسی، اور اسٹرٹیجک کردار ادا کرنے کیلئے مسلسل محنت کرنا ہوگی ،اس کے ساتھ اپنے عوام کی فلاح و بہبود، امن و امان، اور انصاف کی فراہمی کو بھی ترجیح دینا ہو گی ،ہمیں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہو گا، ٓزمائے کو ایک پیج پر لانے کے بجائے عوام کو اپنے پیج پر لانا ہو گا ،اپنی ذات سے نکل کر قومی مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ہو گا اور ایک دوسرے کو مائنس پلس کر نے کے بجائے ایک دوسرے کو خوش دلی سے قبول کر نا ہو گا ، اس کے بعد ہی ایک ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی طرف بڑھا جاسکے گا اور پاکستان کیلئے 2026ء کا نیا سال ایک تبدیلی کا سال ثابت کیا جاسکے گا

۔

Exit mobile version