نثار شاہ اور جاوید مغل کی بلیک میلنگ سے تنگ مظلوم پریس کلب پہنچ گئے
اسلام گڑھ(نامہ نگار) نثار شاہ اور جاوید مغل کی بلیک میلنگ سے تنگ مظلوم پریس کلب پہنچ گئے۔نثار شاہ اور جاوید مغل بلیک میل کر کے پیسوں کا مطالبہ کرتے رہے۔ پیسے نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔بلیک میلنگ کی ویڈیو آڈیوز بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق مظہر محمود ولد رحمت خان،مقصود حسین ولد ستار محمد ساکن ڈنگالیاں نے چنار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
کہا کہ ہم غریب و کمزور لوگ ہیں ہمیں اپنے عزیزوں نے مالی مدد کی جس پر ہم اپنی جدی جائیداد پر مکان بنا رہے تھے۔ ہمیں دھ شاملات پر پابندی اور دفعہ 144 کے نفاذ کا علم نہ تھا جس پر محکمہ مال نے ہمارا کام بند کروایا اور ایف آئی آر کرا دی، نثار شاہ نامی شخص نے وہ تصاویر اور خبر سوشل میڈیا پر لگا دی بعد ازیں اس نے کہا کہ آپ محکمہ مال کے پٹواری پر الزام لگائیں کہ اس نے مکان تعمیر کرانے کے نام پر ہم سے 1 لاکھ روپیہ لیا ہے میں وہ 1 لاکھ محکمہ مال سے واپس لے کر دوں گا اور وہ ہم آپس رقم آدھی آدھی کریں گے۔
یہی روش اپنائے ہوئے نثار شاہ اور جاوید مغل تحصیلدر اسلام گڑھ کے سامنے پیش ہوئے اور پٹواری کے 1 لاکھ روپے لینے کی شکایت لگائی جس پر تحصیلدار اسلام گڑھ نے مجھے طلب کیا اور پوچھا کہ تم نے پٹواری کو کتنے پیسے دیئے ہیں میں نے انکار کیا کہ محکمہ مال نے ہم سے کوئی پیسے ہیں جس پر تحصیلدار نے نثار شاہ اور جاوید مغل کو ڈانٹ پلائی اور دفتر سے نکال دیا۔ جس پر نثار شاہ اور جاوید مغل سیخ پاء ہو گئے اور مجھ سے تحصیلدار کے سامنے معافی مانگو اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ میں نے گاڑی کی قسط دینی ہے مجھے پیسے دو اور لاکھ روپے کی ڈیمانٹ کرنے لگ گیا ہم اس سے پہلے نثار شاہ کو جانتے ہی نہ تھے
مگر ہمارا مکان بنانا جرم بن گیا نثار شاہ ہمیں بار بار فون کرنے لگا اور بلیک میل کرنے لگا کہ اگر تم ہمیں پیسے نہیں دیتے تو تمہارا مکان محکمہ مال کے ذریعہ گرا دیں گے۔ جس وجہ سے ہمارا پورا خاندان شدید ذہنی پریشانی کا شکار تھا جس پر ہم نے نثار شاہ اور جاوید مغل کے عملی پاؤں تک پکڑے کہ ہمیں معاف کر دو ہم غریب لوگ ہیں ہمیں لوگوں نے مدد کی ہے اور مکان بنا رہے ہیں ہمارے پاس تم کو پیسے دینے کے لیے کچھ نہیں۔ موصوف ہمیں بار بار فون کرتا رہا ہے ہم نے دس ہزار روپے دیئے بھی ہیں
جس کا حلف بھی دے سکتے ہیں۔ ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں حتیٰ کہ موصوف نے تحصیلدار اسلام گڑھ کے سامنے اس بات کی حامی بھری ہے کہ محکمہ مال پر الزام انھوں نے خود لگایا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو صحافت کے نام پر عام لوگوں سمیت سرکاری اداروں کو بھی بلیک میل کرتے ہیں۔ ذمہ دار اداروں بالخصوص آئی جی آزادکشمیر،ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میرپور سے مطالبہ کرتے ہیں
کہ دونوں بلیک میلروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ساتھ ہی انھوں نے کمشنر میرپور و ڈپٹی کمشنر میرہور سے بھی مطالبہ کیا کہ صحافت کے نام پر بلیک میلنگ کو بند کرایا جائے تاکہ غریب و کمزور لوگ ایسے لوگوں سے محفوظ رہ سکیں۔

