فاطمہ جناح پبلک لائبریری میں بدانتظامیوں پرشہریوں کی تشویش
شیخوپورہ (بیورو رپورٹ )
شہر شیخوپورہ کی معروف قدیمی فاطمہ جناح پبلک لائبریری میں بدانتظامیوں کا سلسلہ بڑھنے لگا ہے جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ لاکھوں روپے کے بجٹ اور حالیہ رینویشن کے باوجود نہ تو ممبرشپ میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکا اور نہ ہی ریڈرز کی تعداد میں خاص بہتری آ سکی ہے جس پر شہری علمی و ادبی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق لائبریری کی تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے خطیر رقم خرچ کی گئی مگر متعلقہ انتظامی نااہلی اور مؤثر حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث طلبہ اور شہریوں کی دلچسپی میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ کئی ریڈرز کا کہنا ہے
کہ لائبریری میں جدید کتب، اخبارات اور ریسرچ میٹریل کی کمی ہے جبکہ ڈیجیٹل سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں یہاں تک کہ ریڈرز کے لئے نصب انٹرنیٹ کی سہولت بھی لائبریری کے پہلے حصہ تک ہی میسر ہے جس کی وجہ متعلقہ لائبریری انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور عوامی شکایات پر عدم دلچسپی ہے، اکثر ریڈرز کیساتھ عملہ کی تکرار اور نامناسب رویہ بھی دیکھنے کو آیا ہے اسی بدولت شیخوپورہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات یہاں ممبرشپ اور مطالعہ کرنے سے گریز کررہے ہیں
جسکی ایک اور وجہ اس قدیمی لائبریری کی مناسب تشہیر کا نہ ہونا اور کمپیوٹر و دیگر ڈیجیٹل سہولیات کا فقدان ہے، حالانکہ ماضی کے ادوار میں اس قدیمی لائبریری سے مطالعہ و ریسرچ کرکے شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے بیشمار شخصیات نہ صرف ملک بلکہ عالمی سطح پر نمایاں مقام اور شہرت حاصل کرچکی ہیں
جس سے علاقہ اور اس علمی مرکز کا نام بلند ہوا، یہاں مطالعہ اور ریسرچ کے لئے آنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ ضلعی شیخوپورہ کی سطح پر کم از کم ہر تعلیمی ادارے میں فاطمہ جناح پبلک لائبریری شیخوپورہ کے حوالے سے لیکچرز اور خصوصی آگاہی مہم کا آغاز کرکے اور سرکاری سکولوں و کالجوں کے طلباء و طالبات کو مطالعاتی دورہ جات کرواکے ممبرشپ اور ریگولر ریڈرز کی توجہ بہتر طور پر مرکوز کروائی جاسکتی ہے
جس کے تسلی بخش ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں اور اس لائبریری کو تبھی بہترین مطالعاتی و ریسرچ کے ادارہ کے طور پر جانا جاسکے گا، شہری تعلیمی حلقوں سسر ماہرین علوم و فنون نے اس امر پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور میں لائبریریوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے اور اگر مناسب تشہیر، معیاری کتب کی فراہمی اور آرام دہ مطالعہ کا ماحول یقینی بنایا جائے تو نہ صرف ممبرشپ میں اضافہ ممکن ہے
بلکہ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف بھی راغب کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم علمی و تحقیقی ادارے کی کارکردگی کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامی امور میں بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ سرکاری فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور لائبریری کو دوبارہ علمی ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جا سکے