وحشت کے ماحول میں
وحشت کے ماحول میں جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی وہ میرا دوست بہت شغلی ہے افسردہ لوگوںکا مزاج شگفتہ کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کمال ہے لیکن زندگی کے بارے میں اس کاالگ ایک فلسفہ ہے باتوں باتوںمیں کئی
تازہ ترین
وحشت کے ماحول میں جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی وہ میرا دوست بہت شغلی ہے افسردہ لوگوںکا مزاج شگفتہ کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کمال ہے لیکن زندگی کے بارے میں اس کاالگ ایک فلسفہ ہے باتوں باتوںمیں کئی
عشق ِ حقیقی جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی محبت بھی کیا چیزہے جس کے دل میں موجزن ہوجائے دنیا کا ہر عیش و آرام اس کے سامنے ہیچ ہوجاتاہے یہ جذبہ ہر جذبے پر حاوی ہے درویش اپنی دھن میں کہے جارہاتھا یہ
مشروط مذاکرات نہیں چلیں گے! اس مذاکرات کے شور میںتحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا انجام تو وہی ہو گا کہ جس کا اندازہ پہلے سے ہی لگایا جارہا تھا،حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے نہ ہی تحریک
دائرے میں سفر جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی نہ جانے کتنے نفوس ساری زندگی شدید محنت کرتے ہیں حالات نہیں بدلتے جیسے ہرکوشش عبث ہو یوںلگتاہے جیسے انہوںنے انپے سارے لیل و نہار ڈائرے میں سفر کرتے گذار
قانون کی حکمرانی کے تقاضے جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی بلاشبہ پاکستان کے قانون نافذکرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسزنے قیام ِ عمل کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیںیہ قربانیاں تاریخ کا ناقابل ِ
گیڈر کی جب موت آتی ہے تو، وہ شہر کی طرف رخ کرتا ہے ۔ نقاش نائطی ۔ +966562677707 عالمی آبادی کے 2 فیصد قوم یہود کے ہاتھوں، 25 فیصد عالمی آبادی کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے، مسلسل نصف صدی انسانیت سوز
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ! ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو ہی معاشی استحکام لایا جاسکے گا ، اس کا اہل سیاست اور اہل ریاست دونوں کو ہی بخوبی ادراک ہے ،لیکن اس جانب کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی
جمہور اور جمہوریت جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی کیا ہم دنیا میں مذاق نہیں بن رہے؟ جمہوریت کے نتیجہ میں بننے والی دنیا کی پہلی مملکت میںجمہوریت کا مستقبل کیا ہے؟ سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر مشتمل
ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا ہو گا ! حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے،لیکن مزاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی نہیں رہا ہے ، دونوں ہی جانب بے اعتمادی پائی جارہی ہے
فلسطینیوںکی نسل کشی جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی اکیسویں صدی کے جغرافیائی اور جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو 1948 سے پہلے کی سرزمین اسرائیل تقریباً ناقابل شناخت ہے۔ جب ہم جدید دور کے