قانون کی حکمرانی کے تقاضے
قانون کی حکمرانی کے تقاضے جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی بلاشبہ پاکستان کے قانون نافذکرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسزنے قیام ِ عمل کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیںیہ قربانیاں تاریخ کا ناقابل ِ
تازہ ترین
قانون کی حکمرانی کے تقاضے جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی بلاشبہ پاکستان کے قانون نافذکرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسزنے قیام ِ عمل کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیںیہ قربانیاں تاریخ کا ناقابل ِ
گیڈر کی جب موت آتی ہے تو، وہ شہر کی طرف رخ کرتا ہے ۔ نقاش نائطی ۔ +966562677707 عالمی آبادی کے 2 فیصد قوم یہود کے ہاتھوں، 25 فیصد عالمی آبادی کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے، مسلسل نصف صدی انسانیت سوز
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ! ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو ہی معاشی استحکام لایا جاسکے گا ، اس کا اہل سیاست اور اہل ریاست دونوں کو ہی بخوبی ادراک ہے ،لیکن اس جانب کوئی سنجیدہ پیش رفت دکھائی
جمہور اور جمہوریت جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی کیا ہم دنیا میں مذاق نہیں بن رہے؟ جمہوریت کے نتیجہ میں بننے والی دنیا کی پہلی مملکت میںجمہوریت کا مستقبل کیا ہے؟ سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر مشتمل
ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا ہو گا ! حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا سلسلہ چل رہا ہے،لیکن مزاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی نہیں رہا ہے ، دونوں ہی جانب بے اعتمادی پائی جارہی ہے
فلسطینیوںکی نسل کشی جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی اکیسویں صدی کے جغرافیائی اور جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو 1948 سے پہلے کی سرزمین اسرائیل تقریباً ناقابل شناخت ہے۔ جب ہم جدید دور کے
روشن مستقبل کے جھوٹے خواب ! ملک میںبڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری بہت سے دوسرے مسائل کے علاوہ انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے کے پھیلائو کا سبب بھی بن رہی ہے،اس کا زیادہ شکار غریب اور متوسط
فلسطینیوںکی نسل کشی جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی غزہ میں باپ کے جنازے پر بیٹا غم سے نڈھال ،سوشل میڈیا پر مظلوم فلسطینی کی ویڈیو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی ایک صحافی کی جانب سے شیئر کی گئی
عوام بے یقینی کی سولی پرلٹکے ہوئے ہیں ! پا کستان مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کا حل مذاکرات میں ہے ، حکو مت اور اپوزیشن میں مذاکرات ہو رہے ہیں، مگر دونوں جانب سے ہی اٹھنے والی اختلافی آوازوں سے
غربت اور غریب جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی صدیوں پہلے ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ غربت کی وجہ معاشرے میں چند لوگوں کو عطا کردہ ناجائز مراعات (monopoly) ہوتی ہیں ورنہ ہر بیروزگار جائز طریقے سے اپنی