ووٹ کی عزت ، جمہوریت اور نیا پاکستان
ووٹ کی عزت ، جمہوریت اور نیا پاکستان ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار سے محرومی کے بعد جمہوریت کی سمجھ آتی ہے یہی سیاستدان آمریت کی شفقت سے اقتدار کی سیڑھی چڑھتے ہیں تو پھر اپنے ہی “محسنوں”
تازہ ترین
ووٹ کی عزت ، جمہوریت اور نیا پاکستان ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار سے محرومی کے بعد جمہوریت کی سمجھ آتی ہے یہی سیاستدان آمریت کی شفقت سے اقتدار کی سیڑھی چڑھتے ہیں تو پھر اپنے ہی “محسنوں”
سیاسی تصادم میں درمیانی راستہ ! تحریر:شاہد ندیم احمد سیاست میں تصادم جمہوریت کیلئے کوئی نیک فال نہیںہے، اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن اِس لئے کہا جاتا ہے کہ اِس میں خیر کے پہلو غالب ہیں، دو فریق
مسائل تعلیم نسواں تعلیم سے دوری ،خدا سے دوری،خداسے دوری ،جہالت وگمراہی کا راستہ۔تعلیم انسانیت کے آداب سیکھاتی ہے۔تعلیم حقیقت سے انسان کوروشناس کراتی ہے۔تعلیم انسان کواپنے خالقِ حقیقی
درجن تیرہ (حرف اعظم :عثمان عمردارز چیمہ) ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی میں بزنس کے طلباء کو بزنس پر تحقیق کرنے کے لیے کہا گیا۔ تحقیق کی غرض سے طالب علم انارکلی لاہور میں گئے وہاں پر اُنہوں نے دیکھا کہ
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا جمہور کی آواز ایم سرورصدیقی شاید اب سوچنا محال، بات کرنا مشکل اور سمجھانا یقینا اس سے بھی مشکل مرحلہ ہے ، قحط الرجال ہے ،یا اخلاقی اقدار کے امین خال خال رہ گئے ہیں
کیا ہم اطاعت الہی کیلئے تیار ہیں۔۔۔؟ تحریر:فرزانہ خورشید ” اے ایمان والو ایسے بن جاؤ (کہ اللہ کے احکام کی پابندی کے لیے )ہر وقت تیار ہو۔”(القرآن) سورۃ المائدہ۸اگر ہم سب اپنا محاسبہ
“چاپلوسی ایک بیماری ہے“ کومل شہزادی ,سیالکوٹ چاپلوسی کے مترادف الفاظ میں خوشامد کرنا۔ منانا۔ چمکارن وغیرہ شامل ہیں-موجودہ دور کی سب سے خطرناک بیماریوں میں ایک خطر ناک بیماری چاپلوسی ہے-اس دائرہ
سانحہ آرمی پبلک سکول ہم نہیں بھولیں گے۔۔!! تحریر : شجاعت خان احمدانی سلام میرا عظیم ان شہید بچوں کو جو اپنی جیت کی خاطر مارے گئے قارئین کرام! دسمبر آتے ہی آرمی پبلک سکول کا واقعہ یاد آ
حکومت گرانے کی بجائے جمہوریت بچائیں ! تحریر:شاہد ندیم احمد پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف تحریک کا پہلا رائونڈ بخیر و خوبی مکمل ہو گیا،اس حکومت مخالف تحریک کا مقصد موجودہ حکمرانوںکو گھر بھیجنا ہے،پی
’’ ایک اور عہد ساز شخصیت الوداع‘‘ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر جو انتہائی افسوسناک تھی پر نظر پڑی تو مجھے تقریبا 31 سال قبل جب راقم صحافت کی حرف ابجد سے شناسائی کیلئے تحرک کر رہا تھا کا منظر