خواتین یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے؟
خواتین یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے؟ مسز نائلہ مشتاق دھون ایڈووکیٹ لاھور ہائی کورٹ لاہور۔ سابقہ فنانس سیکرٹری تحصیل بار پپلاں. اس بات میں کوئی شک نہیں کے کوئی بھی معاشرہ عورت کی تعلیم کے بغیر ترقی
تازہ ترین
خواتین یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے؟ مسز نائلہ مشتاق دھون ایڈووکیٹ لاھور ہائی کورٹ لاہور۔ سابقہ فنانس سیکرٹری تحصیل بار پپلاں. اس بات میں کوئی شک نہیں کے کوئی بھی معاشرہ عورت کی تعلیم کے بغیر ترقی
مارے گمنام ہیرو تحریر حنا وہاب کراچی کوئی بھی ملک جہاں سرحدوں اور حدود پر محیط ہوتا ہے وہیں وہ اپنے بسنے والوں کی شناخت اور مان پر بھی دلالت رکھتا ہے۔ اسکا کوئی بھی شعبہ ہو وہ اسے استحکام و
قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنے کی سزا بھی، عبرت ناک ہوا کرتی ہے” نقاش نائطی +966504960485 https://www.bitchute.com/video/euMT6jUwXhym/ حیدر آباد سے نشر ہونے والے مشہور اردو نیوز پورٹل
نئی نسل کا نمائندہ سید رفاقت علی گیلانی سچ /عبدالجبار گجر لیہ شہر کی نشست پر بہت کم سیاستدانوں کے حصے میں یہ اعزاز آیا ہے جو پہلی بار عوام میں گئے اور عوام نے جیت کا تاج ان کے سر پر رکھ دیا سید
رنگِ نوا نوید ملک ایک شاہین کا قتل ضیا الحق اعوان کا تعلق ضلع سدھنوتی کشمیر کے نواحی علاقے دھار دھرچھ سے تھا۔وہ ایک دبلا پتلا، خوب رو نوجوان تھا۔بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اسی لیے بہت لاڈلا
کہاں گئے وہ چمنستان بھارت کے محبت چین و آشتی کے دن؟ نقاش نائطی ۔ +966504960485 آج بعد ظہرمختلف بزم واٹس پر، توضیع وقت گزاری کر رہے تھے کہ ایک خبر پر نظر مرکوز ہوئی۔ ہم سے عمر میں کچھ چھوٹے مگر،
پتلی اور کٹھ پتلی جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی ماضی میں ایک بات تواتر سے کہی جاتی رہی ہے کہ انسان ہی انسانوںکا دشمن ہے حالانکہ دنیا میں بنی نوع انسانیت کی بھلائی کے لئے گراںقدرکام ہواہے جس کے
ہم اورہمارے مسیحا تحریر : محمد آصف کھنڈ شعبہ میڈیکل ایک مقدس پیشہ تصور کیا جاتا تھا بلکہ تھا بھی لیکن جب تک ایک ڈاکٹر لالچ حوس اور مفاد پرستی سے دور تھا۔جب سے انسانی ہمدردی کوچ کر گئی ہے تب سے
سیکیولر و مذہبی جنونی، دو سانڈوں کی فرضی لڑائی میں غریب جنتا برباد نقاش نائطی ۔ +966504960485 گاؤں دیہات کے لوگ جو کمانے کے لئے شہروں میں آگئے تھے مالک کی مہربانی سے ان میں سے دو چار لوگ خوب پیسے
فتوے اور تقوے کا فرق ایک وقت تھا ہمارے اسلاف تقوہ اختیار کرتے ہوئے ذرا ذرا سے ذاتی عمل پر بھی کتنے خوف خدا رکھتے تھے اورآج عام مسلمان تو کجا، بڑے بڑے علماء کرام بھی اپنے ان مدارس میں جہاں دعوت