حیا اور حجاب
حیا اور حجاب تحریر: مسز عصمت اسامہ حیا ِِ، دین اسلام کا امتیازی و صف اور خوبی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حیا دراصل حیات سے ہے۔حیا میں زندگی ہے، ایمان ہے، رونق ہے،خیرو برکت ہے۔انسان جسم و روح کا مرکب
تازہ ترین
حیا اور حجاب تحریر: مسز عصمت اسامہ حیا ِِ، دین اسلام کا امتیازی و صف اور خوبی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حیا دراصل حیات سے ہے۔حیا میں زندگی ہے، ایمان ہے، رونق ہے،خیرو برکت ہے۔انسان جسم و روح کا مرکب
بنیادی انسانی حقوق کشمیر میں دستک دینے سے کیوں گریزاں ہیں؟ تحریر : سید محمد احسن انٹرنیشنل یوتھ اینڈ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ کے بارے میں اعلامیہ ، جس کا اعلان جنرل
جی سی لاہور لیہ کیمپس تحریر ۔محمد عمر شاکر تعلیم کے یکساں مواقع مہیا کرنے ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے اہم ترین ذمہ داری ہے مگر شومئی قسمت کہ قیام پاکستان سے ہی بدلتی سیاسی اور فوجی حکومتوں
باوجود تباہی وبربادی کے نااہل سنگھیوں کو برداشت کیوں کیا جارہا پے؟ احقر فاروق شاہ بندری ۔ نقاش نائطی ۔ +966504960485 ہر لڑکا کیپ ڈرائیور سعادت علی جیسا نہیں ہوتا ہے، جسے لکھنو میں ایک لڑکی نے سر
’’دوبھائیوں کاقتل اور ریاست مدینہ‘‘ تحریر محمد اکرم عامر سرگودھا وٹس ایپ۔۔۔،03063241100 موبائل نمبر،،03008600610 پچھلے برسوں کی بات ہے کہ جب کسی علاقہ میں قتل جیسا سنگین واقعہ ہوتا تھا تو بزرگ
ملکی ترقی اور نوجوان نسل کا کردار تحریر:نعمان حیدرحامی س قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد (اقبال) کسی بھی ملک کے نوجوان بلاشبہ اس کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومیں
ملاوٹ مافیا پر ہاتھ کون ڈالے گا؟ سچ /عبدالجبار گجر محکمہ صحت راشی فوڈ انسپکٹروں کی کرپشن‘کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اندرون شہرلیہ ملاوٹ مافیا کا راج ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کے
روز محشر کے مساکین ہم مسلمان تحریر: نقاش نائطی ۔ +966504960485 کتے کی خصلت سے جب تک ہم مسلمان مبراء نہیں ہوتے ہم آخرت کی کامیابی کیسے پا سکتے ہیں؟ایک بزرگ جارہے تھے تو دیکھا علاقہ کے کوئیں سے لوگ
طالبان اور دارالعلوم دیوبند کا رشتہ تحریر: نقاش نائطی ۔ +966504960485 ایڈوکیٹ اشونی پنڈت مڈگل نہ صرف ھندو برہمن پنڈت ہیں بلکہ آل انڈیا برہمن سماج کے صدر بھی رہتے ہوئے، چونکہ اپنے والد کے دیوبند
زندگی کی ڈور نعمان حیدرحامی شام کا وقت تھا ہر طرف اندھرا چھا رہا تھا۔ حمزہ، زاہرہ اور اس کی امی نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد آپس میں گفت و شنید میں مصروف ہو گئے۔ گفتگو کے دوران امی نے کہا ”