اس میں کس کی کتنی حصہ داری ہے؟
اس میں کس کی کتنی حصہ داری ہے؟ تحریر: نقاش نائطی ۔ +966562677707 اس عالم میں اپنے طور دکھی انسانیت کی خدمات، اپنے محدود اختیارات باوجود،ہر کوئی کیا کرتا ہے۔ اس سال بی جے پی حکومت کی طرف سے
تازہ ترین
اس میں کس کی کتنی حصہ داری ہے؟ تحریر: نقاش نائطی ۔ +966562677707 اس عالم میں اپنے طور دکھی انسانیت کی خدمات، اپنے محدود اختیارات باوجود،ہر کوئی کیا کرتا ہے۔ اس سال بی جے پی حکومت کی طرف سے
درد کارشتہ تحریر: جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی انسان کا انسانوںکے ساتھ ایک ہی رشتہ ہوتاہے۔ ایک ہی رشتہ ہونا چاہیے دردکارشتہ۔ یہی انسانیت کی معراج ہے۔کسی کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بول کر دیکھئے ایک
بھارت ایک برا ہمسایہ دھوپ چھا ؤں تحریر: الیاس محمد حسین یہ بات تو روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے اس نے ہمیشہ پاکستان کا برا سوچاہے
میں قربان یارسول اللہ ﷺ تحریر: ایم سرورصدیقی یہ کئی صدیوں پر محیط جدو جہد کا خلاصہ ہے کوئی دو چاربرس کی بات نہیں عقیدہ ٔ ختم ِ نبوت ﷺ کے وفاع اورقادیانیوںکو غیر مسلم قرار دینے کے لئے مسلمانوںنے
یہ تیرا پاکستان ہے یا میرا پاکستان ہے؟ اس عظیم ملک پاکستان کو بنانے کے لیے بہت سی مشکلات در پیش آئیں۔دیگر عظیم لوگوںنے جیلیں کاٹیںدیگر عظیم لوگوںنے آگ کے دریا عبور کیے ،کئی عظیم لوگوں نے مال
کشمیرکا مستقبل؟ تحریر: الیاس محمد حسین کشمیرکا مستقبل؟ ہم بچپن سے ہی نعرے لگاتے پھررہے ہیں کہ کشمیر بنے گا بانی ٔ پاکستان نے بھی کشمیرکو شہہ رگ قراردیا تھا پون صدی سے ہزاروں کشمیری بھارتی جارحیت
ٹیکنالوجی کا عفریت تحریر: ایم سرور صدیقی دنیا میں بیشترلوگوں نے بچپن کے دوران اپنی نانی اماں یا دادی جان سے پریوں،جنوںبھوتوںکی کہانیاں سنی ہوں گی ذرا سوچیں جو آپ نے سنا اور ایک تخیل بناکر ذہن
یہ تو چمنستان بھارت کو معشیتی طور برباد ہونا ہی تھا تحریر: نقاش نائطی ۔ +966562677707 آج 8 ستمبر 2021 نوٹ بندی پر پورے 5 سال گزرنے کے بعد بھارت کی معشیتی درگت دیکھ کر، اورگوا اپنے عوامی اعلان
حیات اور حالات۔ تحریر: ایم سرور صدیقی درویش کمال کی شخصیت تھے باتوںہی باتوںمیں ایسی معرفت کی بات کہہ ڈالتے کہ رشک ہوتا کہ کیا نکتہ آفرینی ہے کیا اس اندازسے بھی زندگی کو دیکھا اورپرکھا جاسکتاہے
ہے زندگی کا مقصد ؟ تحریر:الیاس محمد حسین ڈاکٹرموہن سنگھ دیوانہ کمال کے پنجابی شاعر ہیںانہوں نے کیا خوب کہا ہے جیون اے دکھ ونڈانا۔۔ تے اگ بیگانی سڑنا مرنے دی خاطر جینا ۔۔ تے جینے دی خاطر مرنا جیون