عدالتی جنگ جیتنے کے بعد بھی سیاسی اخلاقیات کا امتحان:
عدالتی جنگ جیتنے کے بعد بھی سیاسی اخلاقیات کا امتحان: ✍️ تحریر: چوہدری فضل حسین چوہدری یاسین اور ابرار قریشی کے درمیان تنازعہ — کیا جرمانہ معاف ہونا چاہیے تھا؟ برطانیہ کی ہائی کورٹ نے حالیہ دنوں
تازہ ترین
عدالتی جنگ جیتنے کے بعد بھی سیاسی اخلاقیات کا امتحان: ✍️ تحریر: چوہدری فضل حسین چوہدری یاسین اور ابرار قریشی کے درمیان تنازعہ — کیا جرمانہ معاف ہونا چاہیے تھا؟ برطانیہ کی ہائی کورٹ نے حالیہ دنوں
موسمیاتی تبدیلی اور ہماری ذمہ داریاں تحریر سید واجد حسین شاہ اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او نے کہا ہے متواتر موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ برس دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ خشک
کچھ یادیں۔ کچھ باتیں جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی ٭سعادت حسن منٹو چند دوستوں کے ساتھ لکشمی چوک سے گزر رہے تھے۔ رتن سینما کے پاس ایک نوجوان نظرآ یا جو ریڑھی پرآم رکھے بیچ رہا تھا۔ چھیل چھبیلا
خواجہ غلام فریدؒ۔۔ ایک الہامی شاعر دھوپ چھا ؤں الیاس محمد حسین پہلی بارپٹھانے خان کو ٹی وی پر دیکھا وہ ایک کافی میڈا عشقَ وی توں میڈا یار وی توں۔میڈا دین وی توں ایمان وی توں۔ میڈا جسم وی توں
ہم شرمندہ ہیں جمہور کی آواز ایم سرور صدیقی غزہ کے بھوک سے بلکتے بچوں کی جو تصویریں سوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں انہیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتاہے خوراک کی کمی، پانی کی بندش اور اسرائیلی مظالم نے
تعلیم کیلئے تشدد ضروری نہیں ! پاکستان میںدوسرے کئی حوالوں کی طرح تعلیم و تدریس کے حوالے سے استاد کی مار بھی ایک روایتی جملہ رہاہے کہ اگر کسی کو بچپن میں استاد کی مار پڑ گئی ہوتی تو وہ ایسا نہ
مسلم معاشرے میں تعلیمی معیار بڑھانے، بھٹکل رابطہ تعلیمی ایوارڈ نے، بہت اچھا کردار ادا کیا ہے نقاش نائطی ۔ +00966562677707 اسلامی تعلیمات اتحاد اور عملی اجتماعیت ہی کی تعلیم دیتی ہے، یہ وہی تعلیم
ڈگن لگی جے جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی شاکا ہمارا محلے دارتھا وہ صحیح معنوںمیں کاج کانہ کام کا ۔۔ دشمن اناج کا کی عملی تفسیرتھا ایک دن اس کی ماںبھاگتی، دوڑتی ہماری سوشل ویلفیئرکے دفتر پہنچی حال
کالی کلوٹی کالی مرچ ؟ دھوپ چھا ؤں الیاس محمد حسین کالی مرچ کو کھانوںکو مزیدار بنانے کے لئے استعمال کیا جاتاہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہونے والی ہے کہ کالی مرچ، دراصل ایک پھل ہے۔ جی ہاں! اور
چودھویں صدی کے مجدد جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی سفینہ بڑی تیزی سے مسافت طے کررہاتھا یہ سفینہ حجازِمقدس کی طرف رواں دواںتھا اس لئے مسلمان بڑے جوش و جذبہ سے عبادت میں مصروف تھے ایک کونے میں نورانی