سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیاکیا !
سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیاکیا ! تحریر:شاہد ندیم احمد ملک میں سیاسی گرما گرمی اپنے عروج پر ہے ،حزب اقتدار اور اختلاف ایک دوسرے کو دبانے اور گرانے کیلئے آخری حدیں عبور کرنے لگے ہیں ،اس
تازہ ترین
سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیاکیا ! تحریر:شاہد ندیم احمد ملک میں سیاسی گرما گرمی اپنے عروج پر ہے ،حزب اقتدار اور اختلاف ایک دوسرے کو دبانے اور گرانے کیلئے آخری حدیں عبور کرنے لگے ہیں ،اس
مذہبی و سیاسی اشرافیہ اور عوام 1973 کا آئین پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا متفقہ آئین ہے جو ریاست کے تمام شہریوں کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی طرح کی غیر منصفانہ درجہ بندی
ووٹ کی عزت ، جمہوریت اور نیا پاکستان ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار سے محرومی کے بعد جمہوریت کی سمجھ آتی ہے یہی سیاستدان آمریت کی شفقت سے اقتدار کی سیڑھی چڑھتے ہیں تو پھر اپنے ہی “محسنوں”
سیاسی تصادم میں درمیانی راستہ ! تحریر:شاہد ندیم احمد سیاست میں تصادم جمہوریت کیلئے کوئی نیک فال نہیںہے، اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن اِس لئے کہا جاتا ہے کہ اِس میں خیر کے پہلو غالب ہیں، دو فریق
مسائل تعلیم نسواں تعلیم سے دوری ،خدا سے دوری،خداسے دوری ،جہالت وگمراہی کا راستہ۔تعلیم انسانیت کے آداب سیکھاتی ہے۔تعلیم حقیقت سے انسان کوروشناس کراتی ہے۔تعلیم انسان کواپنے خالقِ حقیقی
درجن تیرہ (حرف اعظم :عثمان عمردارز چیمہ) ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی میں بزنس کے طلباء کو بزنس پر تحقیق کرنے کے لیے کہا گیا۔ تحقیق کی غرض سے طالب علم انارکلی لاہور میں گئے وہاں پر اُنہوں نے دیکھا کہ
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا جمہور کی آواز ایم سرورصدیقی شاید اب سوچنا محال، بات کرنا مشکل اور سمجھانا یقینا اس سے بھی مشکل مرحلہ ہے ، قحط الرجال ہے ،یا اخلاقی اقدار کے امین خال خال رہ گئے ہیں
کیا ہم اطاعت الہی کیلئے تیار ہیں۔۔۔؟ تحریر:فرزانہ خورشید ” اے ایمان والو ایسے بن جاؤ (کہ اللہ کے احکام کی پابندی کے لیے )ہر وقت تیار ہو۔”(القرآن) سورۃ المائدہ۸اگر ہم سب اپنا محاسبہ
“چاپلوسی ایک بیماری ہے“ کومل شہزادی ,سیالکوٹ چاپلوسی کے مترادف الفاظ میں خوشامد کرنا۔ منانا۔ چمکارن وغیرہ شامل ہیں-موجودہ دور کی سب سے خطرناک بیماریوں میں ایک خطر ناک بیماری چاپلوسی ہے-اس دائرہ
سانحہ آرمی پبلک سکول ہم نہیں بھولیں گے۔۔!! تحریر : شجاعت خان احمدانی سلام میرا عظیم ان شہید بچوں کو جو اپنی جیت کی خاطر مارے گئے قارئین کرام! دسمبر آتے ہی آرمی پبلک سکول کا واقعہ یاد آ