تصادم سے بہر صورت بچا جائے !
تصادم سے بہر صورت بچا جائے ! تحریر:شاہد ندیم احمد ملکی سیاست میں افہام و تفہیم، تحمل، رواداری اور برداشت کی جگہ اشتعال انگیزی مبازرت طلبی اور ایک دوسرے کی توہین و تضحیک کی جو روایت چل پڑی ہے ،اس
تازہ ترین
تصادم سے بہر صورت بچا جائے ! تحریر:شاہد ندیم احمد ملکی سیاست میں افہام و تفہیم، تحمل، رواداری اور برداشت کی جگہ اشتعال انگیزی مبازرت طلبی اور ایک دوسرے کی توہین و تضحیک کی جو روایت چل پڑی ہے ،اس
“لوگ کیا کہیں گے -ہمارا معاشرتی اور نفسیاتی المیہ “ از کومل شہزادی ،سیالکوٹ کلچر لاطینی لفظ کلتورا سے ماخذ ہے جو کہ خود کو لیرے سے نکلا ہے جس کا مطلب کاشت کرنا ہے -کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرز
“مسیحا کے منتظر مسیحا “ سندھ، پنجاب، بلوچستان، کے پی کے بشمول گلگت بلتستان میں قائم میڈیکل کالجز خود مختار ادارہ کے طور پر کام کر رہے ہیں، طلبائ و طالبات کی عملی تربیت کیلئے متعلقہ
’’سینٹ الیکشن ، حکومت اور اپوزیشن‘‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ سینیٹ کے نصف ممبران 11 مارچ تک اپنی آئینی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے تو سینیٹ کی
پوائنٹ سکورنگ کی بجائے قومی ڈائیلاگ! تحریر:شاہد ندیم احمد تحریک انصاف حکومت کی طرف سے عندیہ دیا گیا کہ سینیٹ کے انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرائے جاسکتے ہیں ،جس کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع
’’سینٹ الیکشن ، حکومت اور اپوزیشن‘‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ سینیٹ کے نصف ممبران 11 مارچ تک اپنی آئینی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے تو سینیٹ کی
وزیر اعظم مین آف دی میچ رہیں گے! تحریر:شاہد ندیم احمد تحریک انصاف حکومت کا ادھا وقت گزرچکا ،ادھاوقت باقی ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے وزارتوں کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ
جب آئے گا عمران ۔سب کی نکالے گا جان لائے گا آٹا چینی پٹرول کا بحران۔بنے گا نیا پاکستان آج کی بات ) شاہ باباحبیب عارف کیساتھ اسد عمر کو پی ٹی آئی کا دماغ بھی کہا جاتا تھا جو آپوزیشن میں ہوتے ہوئے
سیاست کی بندگلی سے نکلنے کا راستہ ! تحریر:شاہد ندیم احمد ہمارے معاشرے میںہر کو ئی مسائل کا قصوروار حکومت کو ٹھہرا کر اپنا فرض ادا کردیتا ہے یا نظام کے خراب ہونے کا رونا رو کر سارا الزام حکومت پر
پس پردہ مطلوبہ صحافت کی قوت ہردور میںمسلم رہی ہے۔خواہ وہ مارشل لاء کا تاریک دور ہو نام نہاد بے لگام جمہوریت کا۔جہاں آزادی انسان کا مقدر ہو وہاں چند ذمہ داریاں بھی اس کے حصے میں آتی ہیں۔ مطلوبہ