شہر کی خاموش چیخیں آنکھوں دیکھا حال
شہر کی خاموش چیخیں آنکھوں دیکھا حال تحریر نعیم الحسن نعیم شہر کی روشنیوں میں زندگی کی دھڑکنیں گونج رہی ہیں۔ بازار کی روشنیاں گاڑیوں کے ہارن چائے کی بھاپ اور دکانوں کی بھری ہوئی قطاریں سب کچھ ایسے
تازہ ترین
شہر کی خاموش چیخیں آنکھوں دیکھا حال تحریر نعیم الحسن نعیم شہر کی روشنیوں میں زندگی کی دھڑکنیں گونج رہی ہیں۔ بازار کی روشنیاں گاڑیوں کے ہارن چائے کی بھاپ اور دکانوں کی بھری ہوئی قطاریں سب کچھ ایسے
فی زمانہ انسانی معاشرے میں کینسر جیسے مہلک اسقام تیزی سے کیوں پھیل رہے ہیں؟ نقاش نائطی ۔ ×966562677707 فون ٹاورز (موبائل کے ماسٹ) سے نکلنے والی ریڈیو فریکوئنسی شعاعوں کے سامنے آنے والے درختوں میں
ماسٹر آف ون کےبجائےماسٹر آف آل, اقوام ہی امامت عالم کی دعویداری میں سرخ رو ہوسکتی ہیں نقاش نائطی ۔ +966562677707 1445سال قبل خاتم الانبیاء سرورکونئین محمد مصطفی ﷺ نے, حرب کفار و مشرکین اپنی بقاء
بریانی:-ملک کی علامت بریانی:-ملک کی علامت ویر سنگھوی، ہندوستان ٹائمز 28 اگست 2011 انہی دنوں جب ہم نے یہ مضمون پڑھا تو ہم نے سنگھوی صاحب کو میل لکھ کر شکایت کی تھی کہ آپ کا بریانی پر لکھا مضمون ہر
.قلم سے بندوق تک آزاد کشمیر کے نوجوان کس موڑ پر کھڑے ہیں؟ تحریر نعیم الحسن نعیم ماہِ رمضان وہ مہینہ جس میں آسمانوں سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں دلوں میں نرمی اترتی ہے اور انسان اپنے رب سے لو لگانے کی
کیا اب دیش کی عدالت آزاد ہیں؟ ۔ ابن بھٹکلی ۔ +966562577707 دیش کے قابل آئی اے ایس آفیسر آخر کس قانون کی دفعات کے تحت سابقہ 24 لمبے سالوں سے گجرات جیل میں بند سڑائے جارہے ہیں؟ کیا اس مہان دیش میں
یہ کیسی جمہوریت ہے ! اس ملک میں طاقت کا سر چشمہ عوام ،محض ایک نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، اس ملک میں طاقتور چند خاندان ہیں ،جو کہ ہر دور اقتدار کی ناصرف باریاں لے رہے ہیں، بلکہ اس اقتدار کی
اعلی تعلیم یافتہ انگریزی ادویات ڈاکٹر ومحقیقیں انسانیت کے لئے خطرہ ابن بھٹکلی 966562677707 فی زمانہ دوائی صنعت مافیا سے انسانیت کو جتنا فائیدہ ہورہا ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان انسانیت کو جھیلنا پڑ
قرض کا بوجھ اور عوام ! پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دبائوکا شکار ہے اور اس پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے، لیکن حکو مت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہے
آ میں تجھکو اپنا آنچل بنا لوں ۔ آ میں تجھکو اپنا آنچل بنا لوں ۔ خوشبو کی طرح اپنے من میں بسا لوں۔ رکھوں سنبھال کر دل میں تجھکو۔ ہر بری نظر سے تجھکو بچا لوں ۔ پوجا کروں تیری من مندر کی طرح۔ تجھے