“غیور قوموں کا دفاع کرایے پر نہیں ہوتا”
“غیور قوموں کا دفاع کرایے پر نہیں ہوتا” تحریر:نعیم الحسن نعیم جب مسلم دنیا پر آزمائش آتی ہے، تو ہمیں سب سے پہلے خود اپنے اتحاد، غیرت، اور خودداری کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے
تازہ ترین
“غیور قوموں کا دفاع کرایے پر نہیں ہوتا” تحریر:نعیم الحسن نعیم جب مسلم دنیا پر آزمائش آتی ہے، تو ہمیں سب سے پہلے خود اپنے اتحاد، غیرت، اور خودداری کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے
مسلم دنیا خاموش نہیں رہے گی ! اسرائیل کے ایران ،شام، لیبااور غزہ پر جاری حملوں کے بعد سے جاریحانہ عزائم کم ہو نے کے بجائے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ، اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عین اس
مشن حصول تعلیم، انجمن حامی المسلمین بھٹکل اور قوم نائط ڈاکٹر محمد فاروق شاہ بندری المعروف نقاش نائطی/ ابن بھٹکلی +966562677707 1258 سقوط بغداد عراق اور 1492 سقوط ہسپانیہ و غرناطہ اسپین بعد، اس
چہرے نہیں ، نظام بدلنا ہو گا ! ملک میں مسائل کی اصل وجہ بے اعتمادی اورگڈ گورننس کا بحران ہے، حکومت کو اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا چاہیئے،لیکن اربوں روپے اپنی ذاتی تشہیر کے لیے اشتہارات پر لگائے
کپڑوں سے پہچاننے کا مودی جی کا منفی گر، مصیبت زدگان کی۔مدد کرتے مثبت انداز پہچان میں آگئے ہیں ۔ نقاش نائطی ۔ +966562677707 کسی کے اخلاق و اعلی کردار کو گر پہچاننا ہو تو، انہیں مصیبت کے وقت ہم آپ
روح کی تازگی کا سفر تحریر: عفت اعوان ایڈووکیٹ زندگی کے کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو صرف فاصلے طے نہیں کرتے بلکہ دل اور روح پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ عوامی لائرز فورم شیخوپورہ کے وکلاء کے ساتھ
از سر نو تر جیحات کے تعین کی ضرورت ! ملک ایک بار پھر قدرتی آفات اور سیلاب میں گھرا ہے،ہم ہر چند سال بعد قدرتی آفات اور سیلاب کا سنتے اور اسے دیکھتے آرہے ہیں،اس میں کوئی نئے عوامل نہیں، وہی
فی زمانہ سائینسی اقدار پر کھرا اترنے والا دیں آسمانی ہی اصل دین خداوندی ہے ۔ نقاش نائطی ۔ ×966572677707 جس کو بڑی عزت تکریم عقیدت سے ڈھول باجےکی دھنوں کے ساتھ اپنے اعزہ و اقرباء کی موجودگی میں,
پاک ایران دہشت گردی کیخلاف تعاون کا عزم ! پاکستان اور ایران دونوں ہی اسلامی برادر ممالک کئی عشروں سے دہشت گردی کے سنگین چیلنج کا سامنا کررہے ہیں،اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیا ن بعض غلط
پاکستان پولیس اور ایک عام عورت (تحریر: سمیرا فرخ یو۔کے) بڑے کہا کرتے تھے خدا تھانے نہ لے جائے اور سوشل میڈیا نے پولیس کا جو چہرا دکھا رکھا تھا اُس سے ڈر لگتا تھا جیسے کوئی وطن کے عوام کے مُحافظ