پاکستان امن کا سفیر یا تاریخ کا فیصلہ کن موڑ؟

پاکستان امن کا سفیر یا تاریخ کا فیصلہ کن موڑ؟

تحریر نعیم الحسن نعیم

ایک قوم جو خوابوں سے بنی آزمائشوں سے گزری اور معجزوں میں ڈھل گئی.
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

دنیا کی تاریخ میں کچھ ملک ایسے ہوتے ہیں جو صرف جغرافیہ نہیں ہوتے وہ ایک مکمل احساس ایک مسلسل جدوجہد اور ایک ناقابلِ یقین کہانی بن جاتے ہیں۔ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ہے ایک ایسی ریاست جس کا سفر نقشے سے نہیں خوابوں سے شروع ہوا اور جو آج تک حقیقت کے ہر امتحان سے گزر رہی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں پیدائش سے پہلے ہی فیصلے لکھ دیے گئے تھے جس کے بارے میں کہا گیا تھا

کہ یہ چل نہیں سکے گا جس کے لیے ناکامی کی تاریخیں پہلے سے طے کر دی گئی تھیں مگر وقت نے ہر بار ثابت کیا کہ کچھ قومیں تاریخ کے مطابق نہیں چلتی وہ تاریخ کو اپنے مطابق موڑ دیتی ہیں۔ پاکستان کا آغاز دنیا کی ان انوکھی کہانیوں میں سے ہے جہاں ریاستیں وسائل سے نہیں نظریے سے جنم لیتی ہیں۔
یہ وہ وقت تھا جب نہ مکمل دارالحکومت تھا نہ مضبوط خزانہ نہ منظم ادارے نہ کرنسی کا مستحکم نظام نہ فائلوں کا مکمل ڈھانچہ نہ دفاتر کی رونق مگر ایک چیز تھی جو سب پر بھاری تھی ایمان یقین اور جذبہ
کیکر کی لکڑی سے میزیں بنیں
سبزی منڈی کے کریٹ دفاتر میں بدل گئے اور خالی کاغذوں پر ایک ریاست کا نظام لکھا جانے لگا۔یہ صرف آغاز نہیں تھا یہ ایک نظریے کا عملی اعلان تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا تماشائی تھی.اور پاکستان خواب سے حقیقت بننے کے سفر پر تھا۔ پاکستان کا ابتدائی سفر آسان نہیں تھا۔یہ ایک ایسی ریاست تھی جو جغرافیائی دباؤ میں گھری ہوئی تھی سیاسی عدم استحکام کا شکار تھی معاشی کمزوری سے گزر رہی تھی اور عالمی سطح پر شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی تھی
مگر حیرت یہ ہے

کہ ہر مشکل کے باوجود یہ ریاست ٹوٹی نہیں. بلکہ ہر بار ایک نئے انداز میں کھڑی ہوئی۔دنیا نے بار بار کہا یہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا مگر ہر بار پاکستان نے خاموشی سے جواب دیا اپنے وجود سے۔پاکستان کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس وسائل کم رہے مگر حوصلہ ہمیشہ زیادہ رہا۔یہ وہ قوم ہے جو کم میں زیادہ کرنے کا ہنر رکھتی ہے مشکل میں راستہ نکالنے کی عادی ہے اور ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کہانی صرف ریاست کی کہانی نہیں یہ ایک قوم کی مسلسل جدوجہد کی کہانی ہے۔ دنیا نے بار بار پیشگوئیاں کیں کہ پاکستان ناکام ہو جائے گا۔مگر تاریخ نے ہر بار ان پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا۔ ہر بحران کے بعد یہ ملک ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہوا۔ہر مشکل کے بعد اس کی سمت بدل گئی مگر سفر نہیں رکا۔ یہ وہ ملک ہے

جس کے لیے ہر بار کہا گیا یہ آخری موقع ہے مگر ہر بار یہ نیا آغاز بن گیا۔ پاکستان کا ایٹمی سفر دنیا کی ان کہانیوں میں سے ہے جو شور سے نہیں بلکہ صبر سے لکھی جاتی ہیں یہ سفر. دہائیوں کی محنت مسلسل دباؤ عالمی مخالفت اور اندرونی عزم کا نتیجہ تھا۔
جب دنیا نے پابندیاں لگائیں دباؤ ڈالا اور روکنے کی کوشش کی تب پاکستان نے شور نہیں کیا۔اس نے خاموشی سے اپنا راستہ جاری رکھا۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب دنیا کو ماننا پڑا کہ کچھ قومیں اعلان نہیں کرتیں وہ خاموشی سے تاریخ لکھتی ہیں۔
ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان عالمی بحث کا مرکز بن گیا۔اسے مختلف نام دیے گئے خطرہ چیلنج غیر یقینی ریاست مگر پاکستان نے ردعمل میں شور نہیں کیا۔اس نے سیاست کے بجائے استحکام کو چنا بیانات کے بجائے عمل کو اپنایا اور تنازع کے بجائے توازن کو ترجیح دی۔یہی خاموشی اس کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔
2026 میں دنیا ایک بار پھر ایک بڑے بحران میں داخل ہوئی۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئی۔
یہ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں تھا یہ ایک عالمی بحران بن گیا توانائی کا بحران عالمی تجارت کی سست روی اور جغرافیائی عدم استحکام دنیا ایک بار پھر غیر یقینی مستقبل کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اس بحران میں پاکستان نے ایک بار پھر وہ کردار ادا کیا جو اس کی پہچان بنتا جا رہا ہے پل کا کردار یہ کردار شور سے نہیں بلکہ حکمت سے ادا کیا گیا طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے قائم ہوا اور اعلان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوا پاکستان نے بیک چینل سفارتکاری کی فریقین کو قریب لایا اور مذاکرات کی راہ ہموار کی اسلام آباد اب صرف ایک دارالحکومت نہیں رہا.یہ عالمی سفارتکاری کا ایک ابھرتا ہوا مرکز بن چکا ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں دشمن میز پر بیٹھتے ہیں اختلاف مکالمے میں بدلتا ہے اور جنگ امن کی طرف قدم بڑھاتی ہے یہ پاکستان کی خاموش سفارتی کامیابی ہے جب ایران اور امریکہ کے وفود اسلام آباد پہنچے تو یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی یہ تاریخ کا ایک نیا دروازہ تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں دشمنی کے بیچ مکالمہ آیا بند راستے کھلے اور امید نے جگہ بنائی ایجنڈا مشکل تھا اعتماد کمزور تھا مگر امید موجود تھی اور امید ہمیشہ سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے پاکستان کی سیاسی قیادت نے اس بحران میں ایک متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کیا۔وزیراعظم کی سطح پر پیغام واضح تھا پاکستان جنگ کا حصہ نہیں پاکستان امن کا راستہ ہے۔یہی وژن پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔

پاکستان کی عسکری قیادت نے اس پورے عمل میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ملکی دفاع کو مضبوط رکھتے ہوئے خطے میں توازن قائم رکھنا ایک حساس ذمہ داری تھی۔یہ کردار نظر نہیں آتا مگر اثر ہمیشہ چھوڑتا ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی حقیقت شاید یہی ہے کہ یہ بیک وقت کمزور بھی ہے اور طاقتور بھی۔کمزور معیشت مضبوط سفارتکاری محدود وسائل مگر وسیع اثرات یہ تضاد نہیں یہ توازن ہے

پاکستان کی اصل تصویر اس کی قوم ہے۔ وہ قوم جو مشکل میں بھی زندہ رہتی ہے کم میں بھی خوش رہتی ہے اور ہر حال میں امید رکھتی ہے یہی قوم اس ملک کی اصل طاقت ہے۔
پاکستان آج بھی دنیا کے لیے ایک سوال ہے مگر حقیقت میں یہ ایک جواب ہے۔ ایک ایسا جواب جو ہر بحران کے بعد زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جسے بار بار آزمایا گیا مگر ہر بار اس نے خود کو دوبارہ ثابت کیا۔
پاکستان صرف ایک ملک نہیں یہ ایک مسلسل لکھی جانے والی کہانی ہے. جہاں ہر باب مشکل سے شروع ہوتا ہے مگر امید پر ختم ہوتا ہے۔اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے یہ ملک معجزہ نہیں مانگتا یہ خود معجزہ ہے۔
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

 

 

Facebook Comments