ایمان کامل کے تقاضے کچھ کھوکر کچھ پانا ہوتا ہے
نقاش نائطی
۔ +966562677707
ساٹھ ستر سالہ دنیوی زندگی کے مقابلے، رفاء عام خیراتی شفایابی تعلیمی ادارے قائم کئے تاابد جنت والی زندگانی پانے کی ہوڑ ہم مسلم امہ میں کب شروع ہوگی؟ مفت جنت کے متمنی تو ہرکوئی پائے جاتے ہیں لیکن اپنی کمائی دولت خرچ کئے, کون جنت حصول کے دعویدار بننے کا متمنی پایا جاتا ہے؟
ہندستان کے چار بڑے دکھی انسانیت کی فری خدمات میں مشغول ہاسپٹل مندرجہ ذیل ہیں جو اپنے اپنے طور کروڑوں روئیے سرمایہ کاری کئے, اپنی بعد الموت لامنتھی زندگانی سنوارنے میں منہمک ہیں۔ سب سے اہم ان چاروں بڑے فری خدمات دیتے ہاسپیٹل کو دکھی انسانیت کی بھلائی کےلئے بنانے والوں کا تعلق صرف اور صرف سناتن دھرمی ھندو مذہب ہی سے ہے۔ اس میں ایک بھی اس دیش میں امن و چین شانتی سے رہنے والے ہم نام نہاد 300 ملین مسلمانون میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے۔سناتنی ھندو (وحدانیتی) دھرم ہزاروں سال سے اس بھارت میں رہتے ہوئے زمانے کی تغیر پسندی جھیلتے جھیلتے, اب سناتن دھرمی سے مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا ارچنا کرنے والے مشرک دین میں تبدیل ہوچکا ہے
جس کے موجودہ عقیدے مطابق کسی کے مرنےکےبعد,اس کی موجودہ زندگی بالکیہ ختم ہوجاتی ہے لیکن اس دنیوی زندگی میں اس سے سرزد ہوئے نیک و بد اعمال کی بنیاد پر, پرماتمہ اسے دوسری زندگی, اچھے ہا برے جانور کی شکل میں دوبارہ زندہ کرتے ہوئے اس کے اچھے برے کرموں کی سزا و جزا دے دیتے ہیں۔ جبکہ ہم مسلمانوں کے ایمان ویقین مطابق اس پچاس ساٹھ ستر سالہ زندگی کے خاتمہ بعد, روز محشر حساب کتاب ہونے تک, ہمیں قبر و عالم برزخ کی زندگی بہ ہوش و ہواش زندہ رکھا جاتا ہے اور روز محشر والے دن اچھے برے اعمال کے ساتھ بندے کے بندے پر حقوق کا حساب ہونے کے بعد تا ابد رہنے کے لئے ہمیں آرام و چین سے رہنے لائق جنت مزحمت کی جاتی ہے یا جلتے تڑپتے رہنے کے لئے جہنم واصل کیا جاتا ہے۔ یہی کچھ سناتن دھرمیوں کا بھی ابتدائی عقیدہ تھا۔
لیکن انہی ھندوؤں کے موجودہ عقیدے مطابق, بعد الموت دوبارہ جنم لئے جانے والے دوسرے جنم اچھی زندگانی پانے کے جھوٹے بھرم میں ہی, وہ مرتے مرتے دکھی انسانیت کے لئے فری ہاسپیٹل فری مدارس و کالجز اور فری کھانے پینے والے بھنڈار گھر تعمیر کئے چلے جاتے ہیں۔ لیکن ہم نام نہاد مسلمان اپنے ابتدائی چھ کلمات اس یقین و ایمان باوجود کہ ساتھ ستر سالہ زندگی بعد والی موت کے بعد ہمارے دنیا میں رہتے, انسانیت کی بھلائی والے کئے اچھے کام, انعام کی صورت نہ صرف قبر و عالم برزخ والی ہزارہا لاکھوں سالہ زندگی میں ہمیں سکون کے ساتھ جنت کی فرحت بخش باد نسیم کے سائے میں رہنے دیا
جائیگا بالکہ بعد محشر تاابد رہنے جنت بھی عطا کی جائیگی ان تمام خدائی وعدوں باوجود, ہم حلال حرام کسی بھی طریق بے تحاشا دولت سمیٹےبیسیوں پچاسوں کروڑ اپنی اولاد کے لئے چھوڑ جانے کو ترجیح دیتے پائے جاتے ہیں بنسبت اچھے, دکھی انسانیت کی صدا بھلائی کے لئے, ایسے فری شفا خانے,بڑت ہاسپیٹل مدارس و کالج یا فری کھانے پینے والے لنچ ہوم یا سردارجی کے بنائے فری کھان پان بھنڈار گھر بنانے کو ترجیح دیتے پائے کم ہی جاتے ہیں۔
ورنہ ہم بیس فیصد آبادی تناسب باوجود عام ھندوبھائیوں کی بنسبت دولت و جائیداد ہم مسلمانون کے پاس کچھ کم نہیں پائی جاتی ہے۔فی زمانہ کسی بھی طریق دولت سمیٹتی ہوس زد اعلی تعلیم یافتہ دوائی ساز مافیہ لوٹ کھسوٹ پس منظر والے پر آشوب ماحول میں غریب و مفلس دکھی انسانیت کے لئے محدود وسائل اچھے علاج معالجے مہیا کئے سکون سے رہنا ناگزیر جہاں بن گیا ہے وہاں اتنے وسیع ہندستان میں ان بڑے چار فری ہاسپیٹل میں پچاس فیصد نہ صحیح مفت سروس ایک تو بڑا مسلم مینیج ہاسپٹل مصروف عمل پایا جاتا۔
اللہ کے رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کی وفات ارضی بعد صرف 212 سال کےاندر صحراء عرب پانی عدم دستیابی مسلم امہ کی حالت زار کو دیکھے,، محسوس کئے مکہ المکرمہ تک پہاڑ کھود پانی لانے والا یہ عظیم منصوبہ ہارون الرشید کی ملکہ، زبیدہ بنت جعفر نے 801 سے 809 عیسوی سال دوران تعمیر کیا تھا۔ جو اپنی سخاوت، دینداری اور تعمیراتی کاموں کے لیے مشہور تھیں نہر زبیدہ مکہ مکرمہ سے تقریباً 36-40 کلومیٹر دور شمال مشرق میں وادی حنین (جبال طاد اور وادی نعمان) کے چشموں سے کھود کر لائی گئی تھی،
جو حجاج اور اہل مکہ کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ بنی۔اسی طرح سے مسلم امہ میں دینی تعلیم اثاث عصری تعلیم حصول آسان بنانے کے لئےدنیا کی پہلی مسلم یونیورسٹی مراکش کے شہر فیز میں آپ ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرما چلے جانے کے 270 سال بعد 859 عیسوی میں ایک مسلمان خاتون فاطمہ الفہری جسے فاطمہ نے اپنے ذاتی ورثے سے قائم کیا تھا۔جو القارویین یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے
جسے تعلیمی ادارہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کی قدیم ترین مسلسل چلنے والی یونیورسٹی تسلیم کیا گیا ہے، گویا ان ساڑھے بارہ سو سالوں میں امت مسلمہ نے ایسے مخیر سپوت و دختر کو نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ نہر زبیدہ یا قراوئیین تعلیم گاہ یا کوئی ایسا عالمی سطح کا کوئی فری ہاسپیٹل ہی تعمیر کئے دکھی انسانیت کے لئے وقف کیا ہو۔ شافی کل امراض اللہ رب العزت ہی سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانون کو ایسے رفاء عام تعلیمی و شفا بخشی ادارے قائم کئے دکھی انسانیت کی مفت شفایابی کا بندوبست کئے جانے کی توفیق عطا کرے وما التوفئق الا باللہ
1) جسٹس کے ھیچ ھیگڈے فری ہاسپیٹل منگلور