پا کستان کی تایخی سفارتی فتح !

پا کستان کی تایخی سفارتی فتح !

ایران اور امریکہ میں دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی اور پائیدار امن کیلئے جمعہ کو اسلام آباد میں فریقین کے مذاکرات پر اتفاق ایک ایسی سفارتی پیشرفت ہے کہ جس نے پاکستان کو عالمی بساط پر ایک اہم سیاسی کھلاڑی کے طور پر معتبر مقام دلایاہے، اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی خاموش سفارتکاری اور بیک چینل ڈپلومیسی کے تمام حربے کارفرما تھے، جو کہ بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کو معتبر بناتے ہیں،

اگر چہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا آغاز جنگ کے آغاز کیساتھ ہی ہو گیا تھا اور جیسے جیسے جنگ میں شدت آتی گئی‘ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی گئیں، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہنگامی دورے‘ دوست ممالک سے ٹیلیفونک رابطے‘ اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس اور پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا‘ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تسلسل کی ایسی کڑیاں ہیں، جو کہ کشیدگی کے اتار چڑھائو کے باوجود جاری رہیں اور آخر کار ایک ایسے موقع پر‘ جب کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر تھی ،پاکستان کی بارُسوخ سفارتی کوششوں نے امن کی ایسی کلید تلاش کر لی کہ جس کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔
اگر دیکھا جائے تو اس جنگ سے خطہ کا قیام امن ہی نہیں ، پوری دنیا کا قیام امن تباہی کے دھانے پر تھا ، امر یکہ اسر ائیل جنگ نہ صرف طوالت اختیار کرتی جارہی تھی ، بلکہ اس جنگ کی دلدل میں دوسرے ممالک کو بھی دھکیلنے جارہی تھی ، اس موقع پر پا کستان نے نہ صرف علاقائی ممالک کو جنگ میں کودنے سے روکا ، بلکہ انہیں اس بات پر بھی قائل کیا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ،بلکہ معاشی تباہی کا آغاز ثابت ہو گی،

اس پورے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کا متوازن اور غیر جانبدارانہ کردار رہا ہے،اگر بین الاقوامی تعلقات میں کوئی ملک کسی ایک بلاک کا حصہ بن جائے تو اسکی ثالثی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، لیکن پاکستان نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ہی ساتھ اپنے تعلقات کو اس طرح متوازن رکھا کہ متحارب فریقین نے اسلام آباد کی سہولت کاری کو نہ صرف تسلیم کیا ،بلکہ امن مذاکرات کو جاری رکھنے کیلئے فوری جنگ بندی پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں پا کستان کے نہ صرف جنگ بندی کرانے کے کرادر کو سرہا جارہا ہے، بلکہ مذاکرات کا ٹیبل سجانے پر خرج تحسین پیش کیا جارہا ہے،

یہ جی سی سی‘ یورپی یونین‘ ترکیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے امن پسند کردار کی تحسین، پاکستان کیلئے ایک نئے عالمی کردار کا بھی پیام ہے ،تاہم ضروری ہے کہ مربوط قومی حکمت عملی کے ذریعے اس غیر معمولی کامیابی کو اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور ایک نئے معاشی دور کا بھی پیش خیمہ بنایا جائے، حالیہ کامیابی سے پیدا ہونیوالے مثبت تاثر کو سیاسی پولرائزیشن کم کرنے اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل کیلئے بھی بروئے کار لانا چاہیے،اس موقع پر اپوزیشن نے اپنا سیاسی جلسہ منسوخ کر کے ایک اچھا پیغام دیا ہے ،

حکو مت کو بھی ہاتھ بڑھانا چاہئے اور اپوزیشن کو اپنے ساتھ نہ صرف بیٹھانا چاہئے ، بلکہ ایک اپنے مذاکرات کا ٹیبل بھی سجانا چاہئے ،اس سے ملک کے اندر اور باہر ملک مخالفین کے سارے عزائم خاک میں مل جائیں گے۔گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے معرکہ حق کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوایا اور اب امنِ عالم کی خاطر اپنی سفارتی صلاحیتوں کو دنیا سے منوا کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان عسکری‘ سفارتی اور سیاسی توازن کے ایسے امتزاج کا حامل ہے، جوکہ پیچیدہ عالمی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

،یہ سفارتی کامیابی جو پاکستان کے حصے میں آئی ہے،یہ سٹرٹیجک خود مختاری کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی امن کی خاطر بڑے سے بڑا کردار ادا کرنے کی پوری اہلیت بھی رکھتا ہے،اس سے قبل پا کستان پر اتنا یقین کیا جاتا تھا نہ ہی اس قابل سمجھا جاتا تھا ، لیکن اس تاریخی سفارتی فتح کے بعد سے پا کستان پر نہ صرف یقین کیا جانے لگا ہے ، بلکہ اپنے معاملات کے حل کیلئے پا کستان کی جانب اُمید بھر نظروں سے دیکھا بھی جانے لگا ہے ۔
یہ مقام پا کستان نے بڑی مشکل اور بڑی جد جہد سے حاصل کیا ہے ، تواس پر پاکستان کے عوام کو بھی فخر محسوس کرنے کا پورا حق ہے،

یہ کامیابی نہ صرف ہماری قیادت کی بصیرت کا نتیجہ ہے ،بلکہ ایک قوم کے اجتماعی شعور کی عکاسی بھی کرتی ہے،لیکن اس سے آگے کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے،اس جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا، ایک کٹھن مرحلہ ہوگا، اس میں ابھی کئی آزمائشیں آئیں گی، لیکن پہلا اور سب سے مشکل قدم اٹھایا جا چکا ہے، اس کا سہرا پاکستان کے ہی سر جاتا ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے پاکستان کو بڑی عزت ملی اور اس کے مخالفین کا سارا غرور ایسا خاک ہوا ہے کہ جس کا شاید ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، آج پاکستان نہ صرف اپنے خطے، بلکہ پوری دنیا میں امن کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے۔

 

Facebook Comments