امریکہ کے خلاف ایران کا سب سے بڑا معشیتی وار
نقاش نائطی
۔ +966562677707
پچاس ایک سال قبل عالم انسانیت کی دوسری سب سے بڑی حربی قوت یو ایس ایس آر کے ٹوٹ کر بکھرنے کے بعد,جب عالم انسانیت پر صرف صاحب امریکہ کی اکلوتی چودراہٹ کا راج شروع ہوا تھا تو اس وقت تک صاحب امریکہ کا پیٹرول سے مالامال عرب سنی مسلم ملکوں کو مکمل اپنا اسیر بنائے رکھنے کی چال سے عرب ممالک کے درمیان لا بسایاگیا ملک اسرائیل, اپنی معشیتی چالبازیوں سے ایوان صاحب امریکہ پر اپنے اثرات و سازشانہ غلبہ حاصل کئے, قوم یہود نے امریکہ ہی کو آگے کئے,اسکے ہی ملکی وقار ٹویں ٹاور کو اپنے خود ساختہ دہشت گردانہ حملوں کا شکار بنائے اسکا الزام سعودی جنسیہ اسمامہ بن لادن پر ڈالتے ہوئے, دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے ساتھ اپنی شروع کی گئی
جنگ میں, سنی عرب ملکوں سمیت اسلام کے نام سے معرض وجود میں لائی گئی عالم انسانیت کی اولین مسلم ریاست وہ بھی ملت اسلامیہ کی اولین ایٹمی قوت پاکستان کو زبردستی اپنے ساتھ ملائے, انسانیت اور جمہوریت کے دعویدار تمام تر یورپین ملکوں کی حربی قوت کے ساتھ پہلے افغانستان پھر عراق و لیبیا پر حملہ آور ہوئے اور پھر اپنے ذہنی غلام عرب شاہان کو آگے کئے, سومالیہ سوڈان, شام و یمن پر یلغار کئے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو شہید کئے کروائے,عالم انسانیت کو امریکہ کا غلام بنائے, انہیں لوٹے لٹوائے خود قوم یہود امریکہ کے واسطے سے عیش و عشرت سے دنیا پر راج کررہا تھا
لیکن آزاد شیعی مملکت ایران کو تباہ و برباد کرنے کی ہی نیت سے, اسے صاحب امریکہ کے حوالے سے, سابقہ پینتالیس سالوں سے عالمی پابندیوں کا شکار بنائے, اپنے حساب سے اسرائیل و امریکہ ایران کو کمزور سمجھنے کی غلطی جہاں کررہے تھے۔وہیں پیٹرول سے مالامال عرب شاہان کو لوٹنے, امریکہ کی طرف سے, اسرائیل کو عرب خطے پر زبردستی تسلط کئے جانے سے ایشائی خطہ کے روس و چائینا پریشان تھے۔
جس انداز سے عرب ممالک کے درمیان اسرائیل کو لابسا, صاحب امریکہ عرب ممالک کے ساتھ روس و چائینا کو بھی وقت وقت ڈرا دھمکا ریا تھا اسی لئے امریکہ و اسرائیل کی ناک میں نکیل ڈالنے ہی کی نیت سے روس و چائینا نے, عرب کھاڑی سے سٹے ایران کا انتخاب کیا اور غیر قانونی طور کھلے سمندر اس سے تیل لئے نہ صرف ایران کی معشیت کو سنبھالنے میں اسکی مدد کی بالکہ ایران کو تعلیم و تحقیق کی راہ پر ڈالتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کے سامنے ایک قوی تر حربی قوت کی صورت ایران کو ابھرنے کے خوب تر مواقع دئیے۔
مرتے مرتے بھی اپنے اوصولوں کو نہ چھوڑنے والے,علی حسن حسین نیز سانحہ کربلا کو اپنا مذہبی اثاث سمجھنے والے ایرانی شیعہ مسلموں نے, کسی بھی تفکر کے پیش نظر, اسلامی جہادی جذبات کو اپنی عزت و وقار زندگی سروائیول کے لئے چنا اور جیسا کہ ہم نے اپنے مسلسل لکھے جانے والے آگہی پیغامات سے اپنے قارئین کے گوش گزار کئے جیسا انتہائی حکمت عملی سے اپنے ازلی دشمن صاحب امریکہ ہی کے اسلوب پر عمل پیرا بیرون ایران, لبنان فلسطین یمن و شام و عراق کئی ایک ملکوں میں اپنی تفکری اثاث, حماس حوثی حذب اللہ, انصار اللہ جیسی حربی تنظیمیں قائم کئے , اپنا ایک حربی نیٹ ور جہاں قائم کئے,عرب ممالک میں صاحب امریکہ کی طرف سے قائم کئے متعددحربی بیسز کے لئے خطرہ کی گھنٹی کی طرح اسرائیل و امریکہ کے ساتھ ہمہ وقت دست و پیکار رہے اپنے وجود کی اہمیت منوانے رہے
اپنے آپ کو چائینا و روس کی حربی و ہیومن انٹیلیجنس معلومات مدد سے خود کو اتنا مضبوط کئے رکھا کہ اسرائیل و امریکہ کے 28 فروری ایران پر حملہ آوری بعد اسرائیل کے اندر اہم حربی ٹارگیٹ پر تو عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر مسلسل ڈرون و میزائیل حملوں سے کچھ ایسی تباہی مچائی کہ صاحب امریکہ کو اہنی شکست تسلیم کئے, اپنے زیر اثر رہے پاکستان و مصر سعودیہ اور ترکیہ کو درمیان میں ڈالے,جنگ بندی عقد اعلان کرنے مجبور ہونا پڑا۔ ایران نے اس انچالیس روزہ جنگ میں کچھ ایسی چالیں امریکہ کے خلاف چلیں کہ امریکہ کے پاس ایران کر ایٹمی حملہ کے علاوہ اپنی عزت وآطرو بچانے اور راہ ہی نہ رہی ۔ایران کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ایران کی حربی مدد کررہے
روس و چائینا کو بھی صاحب امریکہ کے,اپنی شکشت سے حواس باختہ ایران پر,ایٹمی حملہ کا خدشہ تھا اس لئے انہوں نے, صاحب امریکہ کو کھلے طور یہ دھمکی دے دی تھی کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف غیر روایتی ٹیکٹیکل ہتھیار یعنی ایٹمی ھتیار استعمال کریگا تو ایران کے حربی شریک ہونے کے ناطے وہ ایران کے ساتھ کھل کر سامنے آئے لڑنے تیار پائے جائینگے اس کا مطلب صاف تھا کہ ایران پر ایٹمی ہتھیار برسائے اسے زیر کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھی امریکہ کے خلاف وہی ہتھیار استعمال کرنے مجبور ہوجائیں گے۔ اس سے عالمی ایٹمی جنگ شروع ہوتے پوری انسانیت کے خلاف خطرہ سامنے آتے پس منظر میں, امریکی کانگریس کو بھی اپنے صدر مملکت کو ایٹمی حملے سے ماورا رہنے سختی سے کہنے کہ نوبت آگئی
کچھ اس طرح سے صاحب امریکہ اپنے ہی گھر سینٹ میں,اس کی گھیرا بندی سے بوکھلائے ایران کی شرطوں پر جنگ بندی کرنے راضی ہوگئے ۔ گو اسرائیل اس جنگ بندی کے صریح خلاف رائے رکھتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے حربی صلاحیتوں سے ایران کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہے بالکہ اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن کے لئے آگے کنواں پیچھے کھائی ہی نظر آتی ہے جنگ بندی کی صورت اسکے اسرائیلی عوام کے اسکے خلاف سڑکیں جام کئے اسکا ناطقہ بند کئے جانے کا اسے خطرہ لاحق ہے
اس لئے وہ اس جنگ کو جاری رکھنے کی اپنے طور پوری کوشش کریگا لیکن دنیوی اوصول معاشرت کہ جنگ جو جیتا وہی سکندر مثال مصداق چونکہ اس انچالیس دنوں کی جنگ ایران کی جیت اور اسرائیل و امریکہ کی کھلی شکت عالم انسانیت کے سامنے۵ اظہر من الشمس کیطرح واضح ہوچکہ ہے اس لئے صاحب امریکہ پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے دم چھللے اسرائیل کو اپنے حدود میں لازم عمل جنگ بندی رکھے گا ۔
دوسری طرف ایران اپنی اس امریکہ سے حربی جنگ جیت جانے کے بعد اپنے زیر کنٹرول لائے گئے آبی گزرگاہ ابنائے ہرمز پر, ہر گزرنے والے جہاز سے دوملین ڈالر بقدر قیمت پہلے صرف چینی یوان میں جو لیتا تھا اب چینی یوان کے ساتھ اپنی ایرانی کرنسی میں کروڑہا کروڑ اوصول کئے,سابقہ چالیس سالہ عالمی معشیتی مقاطعہ کی وجہ عالمی معشیتی منڈی میں اپنے کھوئے ہوئے مقام متمیز کو واپس حاصل کرنے کی جستجو میں منہمک لگتا ہے
۔ایک طرف ابنائے ہرمز ٹول ٹیکس آمدنی دوسرے اس پر سے چالیس سالہ عالمی تجارتی ہابندیوں کےختم کئے جانے کے بعد پیٹرول بیچے حاصل ہونے والی آمدنی, تیسرے پینتالیس سال قبل عالمی تجارتی مقاطعہ سے پہلے عالمی بنکوں میں ایران کے ایکاؤنٹ سیل کر ایران کو اس سے استفادے سے محروم رکھے گئے بڑے سرمایہ کے واپس ایران کو ملنے کے بعد ایران کی ملکی کرنسی کئی سو گنا بڑھتے بڑھتے ایران کو حربی و معشیتی طور مظبوط تر ملک بنا چھوڑے گی۔ عالمی کرنسی کی تجارت کرنے والے تجار اگر اپنے ایرانی کرنسی کو خرید رکھتے ہیں تو وہ مستقبل قریب میں ہی ایران کی بڑھتی کرنسی قیمت سے یقینا” مستفید ہوتے پائے جائینگے۔
اپنی ایرانی و چائینیز یوان کرنسی میں پیٹرول خریدنے عالمی ملکوں کو مجبور کرتے ایرانی فیصلے پس منظر میں, کمزور ملک ایران کی طرف سے عالمی حربی و معشیتی قوت صاحب امریکہ پر ایران کا یہ سب سے بڑا اور کاری معشیتی وار ہے جس سے امریکہ پیٹرو ڈالڑ آمدنی سے محروم رہتے معشیتی طور یقینا” امریکہ کمزور ہوتا پایا جائیگا۔ دوسرے سابقہ پچاس پچپن سالوں سے, امریکہ کے ساتھ پیٹرو ڈالر ذلت آمیز عقد بند رہتے,
صاحب امریکہ کے ہاتھوں وقت وقت سے ہزار حیلے بہانوں سے لوٹے جانے والے عرب ممالک , پینتالیس سالہ عالمی معشیتی پابندی کا شکار بنائے بدحال چھوڑے ملک ایران سے انتالیس دنوں کی جنگ میں امریکہ کے شکست فاش کھاتے پس منظر میں , عرب ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے پیٹرو ڈالر عالمی معاہدے کے منقطع ہونے کا اعلان کئے اپنی حربی حفاظتی امریکہ عقد کو بھی ختم کرتے ہوئے ناٹو طرز مسلم ممالک کی حربی مشترکہ مسلم افواج بنانے کامیاب رہتے ہیں تو یقین مانئے اسی کے دہے میں امیر جماعت اسلامی حضرت مولانا مودودی علیہ الرحمہ کی پیشین گوئی کردہ, نصف صد بعد امریکہ کے معشیتی طور کنگال و برباد ہوتے, اپنے یونائیٹیڈ اسٹیٹ اف امریکہ عقد بندی کو ختم کردیئے جاتے 52 آزاد ممالک نقشہ عالم پر ظہور پذیر ہوتے صاحب امریکہ کی چودراہت بالکیہ ختم ہوجائیگی وما التوفیق الا باللہ