شکر یہ پا کستان کی گونج!
دنیا کے امن کو آج جس طرح کے خطرات کا سامنا ہے، ایسے خطرات شاید ہی تاریخ میں پہلے کبھی لاحق ہوئے ہیں،امر یکی صدر نہ صرف دھمکیاں دیے رہے ہیں ، بلکہ اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کررہے ہیں، امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی حالیہ دھمکی میں جہنم جیسے الفاظ کا استعمال اور ایرانی پاور پلانٹس و بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کا اعلان کیا گیا ہے، امریکی صدر کی یہ دھمکی محض ایک عسکری بیان نہیں ، بلکہ عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل بھی ثابت ہو سکتی ہے، آبنائے ہرمز کو کھولنے کے الٹی میٹم نے سٹرٹیجک محاذ آرائی کو ایک ایسے نکتے پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں سے واپسی کا ہر راستہ بارود سے بھری سرنگوں سے ہی گزرتا ہے، اگر واشنگٹن، امریکی صدر کے بیانات کو عملی جامہ پہناتا ہے تو یہ معرکہ پھر کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔
اگر دیکھا جائے تو امر یکی صدر جنگی جنونیت کا ہی شکار نظر آتے ہیں ،وہ جس طرح عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا رہے ہیںاور سول ڈھانچے پر اعلان کر کے حملے کررہے ہیں ،ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دیے رہے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے بھی پیغام جاری کردیاہے ،اُنکا کہناہے کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے 20 گھنٹے ہیں، اگرٹرمپ نے ہتھیار نہ ڈالے تو ان کے اتحادیوں کو پتھر کے زمانے میں بھیج دیا جائے گا، ایران جنگ جیت چکا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،
امر یکہ جو کچھ کررہا ہے ،اس طرح کا طرز عمل جنگ عظیم کے بعد مشاہدے میں نہیں آیا ہے ،یہ سب کچھ ایک ایسے ملک کے سر براہ کررہے ہیں ،جو کہ دنیا کو انسانی حقوق کا سبق پڑھاتے ہیں اور دوسرے ممالک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا کر پا بندیاں لگاتے ہیں ،لیکن اب خود کیا کررہے ہیں ،یہ سب کچھ دنیا دیکھ رہی ہے کہ جو ملک خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا بڑا علم بردار قرار دیتا ہے ، وہی سب سے زیادہ ان اصولوں کو پا مال کررہا ہے ۔
امر یکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر نے سے قبل کسی فورم سے اجازت لی نہ ہی اس نے کسی اپنے اتحادی کو بتایا تھا ،
حالا نکہ سلامتی کو نسل ایک ایسا عالمی فورم ہے ، جو کہ خود امر یکہ نے ہی اپنے اتحادیوں سے مل بنایا تھا ، تا کہ اگر دنیا میں کہیں طاقت کے استعمال کی ضرورت پڑے تو پہلے سلامتی کو نسل میں بحث کے بعد فیصلہ کیا جائے ،لیکن امر یکہ اور اسرائیل ہر عالمی اصول اور ادارے کو روندتے چلے جارہے ہیں،اسرائیل نے پہلے غزہ میں دو برس تک فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کئے رکھی ، پورے علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنادیا ،ایک طرف اسرائیل کی بمباری سے لبنان ، شام سے لے کر بیروت تک محفوظ نہیں تو دوسری جانب امر یکہ نے ایران میں خو نی کھیل شروع کررکھا ہے ،امر یکہ اور اسرائیل مل کر پوری دنیا کا قیام امن تباہ کر نے پر تلے ہوئے ہیں ، یہ کسی کی مان رہے ہیں نہ ہی کسی کی سن رہے ہیں ۔
اس موقع پر یورپی یو نین نے واضح کر دیا ہے کہ امر یکی صدر کی ایران میں بجلی گھروں ، تیل کے کنوئوں اور صاف پانی کے پلانٹوں کو اُڑانے کی دھمکی ،جنگی جرائم کے مترادف ہے ،عالمی قانونی ماہر ین بھی ایسی دھمکی کو جنگی جرم قرار دیے رہے ہیں،کیو نکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جان بوجھ کر تباہی شہریوں کی زندگی پر تباہ کن اثرات ڈال سکتی ہے،اس کے باوجود امر یکی صدر بار بار ایران کو نہ صرف پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دیے رہے ہیں ، بلکہ اس دھمکی پر عمل پیراں بھی ہورہے ہیں
، اس دھمکی سے پہلے ہی امر یکہ اور اسرائیل نے ایران کے پیٹروکیمیکل پلانٹ ، تہران یو نیورسٹی اور گیس اسٹیشن پر حملے کر کے بھاری نقصان پہنچایا ہے،اگر امر یکہ اور اسرائیل نے ایران کے تو نائی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تو اس سے اتنی تباہی اور نقصان کا خدشہ ہے کہ جس کا تصور کر نا ہی محال ہے۔
اس سے پہلے کہ امریکی صدر دھمکیوں کو عملی شکل پہنا دیں اور امریکی حملے جدید انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب بن جائیں‘ اقوامِ عالم کو اپنا عملی کردار ادا کرنا چاہیے، بالخصوص دنیا کے مؤثر ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکی صدر کو انتہائی اقدام اُٹھانے سے روکنا چاہئے، کیونکہ انسانیت کو بچانے کا واحد راستہ امن‘ مذاکرات اور ایک دوسرے کے وجود کا احترام ہے ، اس معاملے میں اپنے تائیں پا کستا ن مسلسل کو شاں رہا ہے کہ کسی طرح سے بھی جنگ بندی ہو جائے ،
اس میں پا کستان اپنی کا میاب ثالثی کے ذریعے پندرہ دن کی جنگ بندی کرانے میں کا میاب ہو گیا ہے ،لیکن ابھی امر یکہ ایران میں مکمل جنگ بندی معاہدہ کرناہے ، اس پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو نہ صرف سراہا جارہا ہے، بلکہ ان پر یقین کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ قیام امن کا معاہدہ کرانے میں بھی کا میاب ہو جائیں گے ،اس کے ساتھ دنیا بھر کے میڈ یا پر شکر یہ پا کستان کی گو نج بھی سنائی دیے رہی ہے ، جو کہ پا کستان کیلئے کسی بڑے نوبل پرائز سے کم نہیں ہے۔