بچھڑے رشتوں کی اذیت ایک ماں، تین بیٹے اور ادھورا الوداع

بچھڑے رشتوں کی اذیت ایک ماں، تین بیٹے اور ادھورا الوداع

تحریر: ہارون رشید
کشمیر کی سرزمین صرف تنازعہ نہیں، ایک مسلسل کرب کی کہانی ہے—ایسی کہانی جس میں رشتے زندہ ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے سے کوسوں دور، جیسے تقدیر نے انہیں جدا رہنے کی سزا دے دی ہو۔نوّے کی دہائی میں آزادی کی امید دل میں لیے سرحد پار کرنے والے کشمیری آج عمر کے اُس حصے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان کو اپنے لوگوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ان کے لیے واپسی کے دروازے بند ہیں، اور ان کے پیارے بھی اُن تک نہیں پہنچ سکتے۔ یوں یہ خاندان بکھر کر رہ گئے ہیں—

نہ مکمل جدائی، نہ مکمل ملاپ… بس ایک اذیت ناک درمیان۔گزشتہ روز، میں ایڈیٹر کشمیر لنک جاوید اقبال اور گروپ ایڈیٹراگلاقدم رئیس چوہدری کے ہمراہ معروف کشمیری حریت رہنما الطاف بٹ کی رہائش گاہ پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوا۔ وہاں جو منظر دیکھا، وہ کسی ایک گھر کا نہیں بلکہ پوری ایک قوم کے زخموں کی عکاسی کر رہا تھا۔سرینگر کے علاقے باغ مہتاب میں ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا، مگر بیٹا اپنی ماں کے آخری دیدار سے محروم رہا۔ یہ وہی ماں تھی جس سے الطاف بٹ کی آخری ملاقات 2019 میں ہوئی تھی۔

اس کے بعد حالات نے ایسی دیوار کھڑی کی کہ نہ ملاقات ممکن رہی، نہ آواز۔اس خاندان کی تقدیر بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ ایک بھائی پہلے ہی بھارتی فورسز کی کارروائی میں جان کی بازی ہار چکا، جبکہ دوسرا آج بھی بھارتی جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے—اور اسے اپنی ماں کے جنازے میں شرکت کی اجازت تک نہ دی گئی۔ یوں ایک ماں کے تین بیٹے تھے، مگر اس کے آخری سفر میں کوئی بھی اس کے ساتھ نہ تھا ہمارے سامنے موجود تھے، مگر ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے وہ جسمانی طور پر یہاں اور احساسات کے اعتبار سے کہیں اور ہوں۔ ہر لمحہ جیسے اُن کے اندر ایک بےچینی موجزن تھی

—جیسے کوئی شخص فاصلے کی دیوار توڑ کر آخری بار اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا ہو مگر بےبس ہو۔انہوں نے ایک عجیب کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل انہیں یوں محسوس ہوا جیسے کسی انجانی اداسی نے دل کو گھیر لیا ہو—ایک ایسی بےچینی جس کی کوئی واضح وجہ نہ تھی۔ بعد میں جب خبر ملی تو سمجھ آیا کہ دل پہلے ہی اس صدمے کو محسوس کر چکا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان حقیقت سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔یہ صرف ایک گھر کی داستان نہیں، بلکہ ہزاروں ایسے کشمیریوں کی حقیقت ہے

جن کے رشتے سرحدوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی قبروں پر جا نہیں سکتے، جنازوں کو کندھا نہیں دے سکتے، مگر اپنے دلوں میں غم کا ایک بوجھ ضرور اٹھائے پھرتے ہیں۔یہ مسئلہ صرف زمین کا نہیں، انسانیت کا ہے—رشتوں کا ہے، اور ان آنکھوں کا ہے جو ہر دن اپنے پیاروں کے دیدار کے لیے ترستی ہیں۔اللہ تعالیٰ الطاف بٹ کی والدہ مرحومہ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس صبر آزما امتحان سے گزرنے والے تمام کشمیریوں کو ہمت دے۔ آمین۔

 

 

Facebook Comments