کیا مسلمان کانگرئس کے غلام ہیں؟
نقاش نائطی
۔ +966562677707
سابقہ بارہ سالہ سنگھی رام راجیہ میں, جہاں آل انڈیا کانگریس,اپنی بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے وہ اپنے صدا کے بھروسہ لائق ووٹرس 400 ملین ہم مسلمانوں کوانکے جائز حق و مقام سے محروم رکھے, خود اپنی بقاء کی جنگ کو اور مشکل تر کئے جارہے ہیں۔ مسلمان آزادی ھند کے بعد سے قابل اعتماد کانگریس کے ساتھ و اسکے مددگار تھے لیکن دہلی کانگریسی نرسمہاراؤ حکومت نے, بابری مسجد شہادت کے وقت, دوبارہ اسی مقام پر بابری مسجد قائم کر دیئے جانے والے اپنے جھوٹے وعدے سے اور بعد بابری مسجد شہادت ممبئی, فساد میں ہم مسلمانوں کو, طاقت کے بل پر کچل کر رکھ دئیے جانے والے انکے فیصلوں سےنالاں, 2014 ایک مرتبہ سنگھی مودی جی کو اقتدار پر بٹھانے کی غلطی سے خود جانتے بوجھتے جو سیاسی خودکشی کرلی تھی اس کی بھرپائی کے لئے,بھارتیہ مسلمان , جس طرح سے بنا شرط کانگریس کی ہمنوائی کرنے لگے ہیں ۔ اس سے کانگریس پارٹی کو لگنے لگا ہے
کہ مسلمان اب کانگریس کو چھوڑ بی جے پی کے پالے میں جانے والے نہیں ہیں, اسی لئے ہزار حیلے بہانوں سے , وہ ہم مسلمانوں کو, ہمیں اپنے حقوق ہی سے ماورا رکھے, سیاسی طور ہمیں دیوار سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں۔
ڈاونگیرے مسلم اقلیت کو انہیں ملنے والے حقوق سے جس بے رحمانہ انداز ماورا رکھے, انہیں مایوس چھوڑا گیا ہے اسکے لئے ,مسلم اقلیت کانگریس کو اس ضمنی انتخاب ووٹ دیتے انہیں کامیاب کرنے کے بجائے, کسی آزاد مسلم امیدوار کو اپنے مسلم ووٹ ڈالے, بھلے ہی مسلم امیدوار جیت نہ پائے کانگرئس کو بھی شکشت فاش دئیے وہ کانگرئس کو ہم مسلم ووٹروں کو اپنے حقوق نظر انداز کئے جانے کے لئے, سبق سکھانے کے موڈ میں لگتے ہیں۔ اب کی بار اس ضمنی انتخاب کانگریس کی ہار سے کرناٹک کانگرئس کو کوئی بڑا نقصان الٹ پھیر تو نہیں ہوگا,لیکن مسلم ووٹروں کو انکے جائز حقوق انہیں نہ دئیے جانے سے, کانگرئس کو ہونے والے نقصان سے انہیں احساس تو کرایا جاسکتا ہے۔
عالمی سطح دو بڑی حربی قوت اسرائیل و امریکہ کے ایک ساتھ سابقہ چالیس سال سے عالمی پابندیاں جھیل رہے, امریکی ایک ڈالر مقابلہ ساڑھے تین لاکھ ایرانی ریال تک پہنچے کم تر اور کمزور تر ملک ایران سے حربی جنگ زبردستی نازل کئے پس منظر میں, کمزور تر ایران کے ہاتھوں, میزائیل و ڈرون مار کھائے, شکشت فاش کھاتے اور تقریبا” فلسطینی غازہ طرز اسرائیل کی تباہ و برباد ہوتے پس منظر ,امریکی شکست قبول کرنے کے جو اشارے عالمی۔میڈیا سے مل رہے ہیں, ایک بات جو اظہر من الشمس کی طرح ثابت ہوتی ہے کہ کسی کو بھی کمزور تر سمجھے اسے یک و تنہاچھوڑنا, طاقتور کے خلاف ماحول پیدا ہوتے اسکی تنزلی کے خدشات سامنے اتے منظر نامے نے, بھارت کےہم مسلمانوں میں بھی اپنے جائز حقوق بازیابی کے حوصلے پیدا کئے ہیں ۔ میدان انتخاب سے طاقتور تر کانگرئسی باغی امیدوار پہلوان کو قائل کئے انتخابی رن بھومی سے باہر کئے جانے کے باوجود, ایس ڈی پی امیدوار کے حق میں یا کسی اور مسلم امیدوار کے حق میں, کم و بیش 90% مسلم ووٹ ڈلوانے مسلم لیڈر شب کامیاب ہوتی ہے
تو, مستقبل کے سیاسی گلیاروں میں, ہم مسلمانوں کو اہمیت دیتے ہمیں اپنے حقوق ملے, ہمیں بھی, مین آسٹریم سیاست میں اپنے جوہر دکھلانے کا مناسب موقع مل سکتا ہے۔ ایک بات یاد رہے مسلم ووٹ نوٹا یا مختلف امیدواروں میں بٹتے,اپنے بے وقعت مسلم ووٹوں سے,بی جے پی کے لئے جیت کی راہیں کھول دئیے جانے سے اچھا ہے کسی بھی ایک مسلم امیدوار کے بارے میں بالاتفاق فیصلہ لئے, یکطرفہ اسکے حق میں ووٹ ڈالے, بھلے ہی بی جے پی جیتے ہم اپنی یکجہتی بتانے درشانے کامئاب ہم رہ سکتے ہیں۔
اس سے آل انڈیا کانگرئس کو مسلم ووٹروں کی اہمیت کا اندازہ ہوجائیگا اور مستقبل میں مسلم امیدواروں کے لئے ترقیاتی راہیں کھلیں گی اس کےاثار لگتے ہیں۔ اپنی کوتاہی سے میدان ہاتھ سے نکلنے کے بعد, اب چڑیا چگ گئی کھیت افسوس کرتے بیٹھنے سے اچھا مسلم قیادت مل بیٹھ اتفاق سے, کوئی ایک ٹھوس فیصلہ لے۔ چاہے اس کے نتائج اچھے بھلے جو بھی آئیں اجتماعی فیصلوں سے وقتی نقصان ہوتا بھلے ہی نظر آئے, اسکے دیرپا اچھے نتائج مسلم امہ کو دیکھنے مل سکتے ہیں وما التوفیق الا باللہ