ثالثی میں امن کی تلاش !

ثالثی میں امن کی تلاش !

اس خطے میں امر یکہ ،اسرائیل ،ایران جنگ شروع تو ہو گی ، مگر اب ختم ہو نے کو ہی نہیں آرہی ہے ،یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی سنگین بحران ہے ،اس کے اثرات خطے کے ساتھ دنیا بھر میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں، اس نازک صورتحال میں پاکستان نے ثالثی کے لیے آگے بڑھ کر عالمی امن کے لیے جو غیر معمولی کردار ادا کیا ہے، وہ پاکستان کی پوزیشن اور عالمی اہمیت کے فروغ کا باعث بنے گا، ماضی میں عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے درمیان رابطے قائم کرنے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ،تاریخ نے اسے کبھی فراموش نہیں کیااوراس جنگ میں عالمی جنگ روکنے کا کردار بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اگر دیکھا جائے تو پا کستان ہمیشہ سے ہی قیام امن کا دائی رہا ہے ،اس حوالے سے پا کستان کی کائوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہیں ، پا کستان کو جہاں بھی موقع ملا ،اس نے قیام امن کیلئے اپنے مفادات کو بھی دائو پر لگایا ہے ،امر یکہ ایران جنگ رکوانے میں بھی سردھڑ کی بازی لگائی جارہی ہے ، اس مشکل حالات میں فریقین کی رضا مندی سے نہ صرف ثالثی کردار ادا کیا جارہا ہے ، بلکہ تین اہم ممالک کے وزراء خارجہ کا اجلاس بھی کرایا جارہا ہے، پاکستان جس ثالثی کے لیے کوشاں ہے، یہ امریکہ اور ایران کی جاری جنگ کے ہنگامے میں وقت کی سب سے اہم ضرورت اور دانشمندی کا بدیہی تقاضا ہے۔
پاکستان ثالثی میں جس امن کی تلاش کے لیے کوشاں ہے ،یہ امریکہ اور ایران کی جاری جنگ کے ہنگامے میں وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، لیکن اس طرح کی کوشش ایک بار پہلے بھی ہو چکی ہے ،اس کو امر یکہ نے ہی نہ صرف ثبوتاش کر دیا ، بلکہ اپنا اعتماد بھی کھو دیا ہے، اس بار بھی کوشش ہورہی ہے ، لیکن اس میں اعتماد کے فقدان کی جھلک صاف دکھائی دیے رہی ہے ،اس کا اظہار ایران کی جانب سے کیا جارہا ہے ، اگر مذاکرات کے پہلے ہی دور میں بے اعتمادی بحال نہ ہوئی تو یہ اندیشہ موجود ہے

کہ اس جنگ کے پھیلائومیں اضافہ ہوجائے گا، جو کہ پہلے ہی لبنان تک پھیل چکی ہے اور حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر بڑے اور بھر پور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اب یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی خبردار کر دیا گیا ہے کہ اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔امر یکہ اپنے اتحادیوں کو جہاں دھمکا رہا ہے اور اس جنگ میں شامل ہو نے پر مجبور کررہا ہے ، وہیں ایران بھی اپنے حواریوں کو متحرک کررہا ہے،

یمن کے حوثی بحیرہ احمر کی اہم ترین گزر گاہ باب المندب پر بیٹھے ہیں‘ اور اس دوران جب کہ آبنائے ہرمز بند کر کے ایران نے دنیا کی توانائی کی عالمی سپلائی کو اپنی مٹھی میں بند کر رکھا ہے‘ اگریمن کے حوثی باب المندب بھی بند کردیتے ہیںکہ جس کی مشق گزشتہ برسوں بارہا کی جاچکی ہے‘ تو یہ عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک ڈرائونا خواب ہی ہو گا،اس کا ادارک سب کو ہی ہورہا ہے، لیکن صورتحال کی سنگینی جس درجے کو پہنچ چکی ہے، اگر اس میں کمی نہ کی گئی تو یہ دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی جانب سے ثالثی کے اقدامات کی اہمیت اور افادیت ابھر کر سامنے آ تی ہے،تاہم کوئی بھی پیشرفت متحارب فریقین کے اقدامات سے مشروط ہے، اگر وہ جنگ کے میدان کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں گے تو ثالثی کی کوئی بھی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکے گی ،سال بھر میں دوسری بار امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے جاری عمل کے دوران ایران پر حملہ کر دینے سے سفارتکاری کے عمل کو جو ضعف پہنچا ،اس کو ایسے ہی نظر انداز کرنا مشکل ہے،لیکن اب جبکہ اس جنگ کے بھیانک اثرات قابو سے باہر ہو چکے ہیں‘امریکہ کی جانب سے کوئی بھی ایسی حرکت کہ جس سے تاثر جائے کہ امریکہ جنگ بندی کو جنگی حکمت عملی کے لیے استعمال کر رہاہے‘ یہ ثالثی کی کوششوں کو اور بھی زیادہ مشکل بنا سکتاہے۔
یہ وقت جلتی آگ پر تیل ڈلنے کا ہے نہ ہی گڑے مردے اُخھاڑنے کا ہے، بلکہ جلتی ا ٓگ بجھانے کا ہے ، لیکن بھارت اسرائیل ،افغانستان مل کر سازشیں کررہے ہیںاور جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں،جبکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر خطے میں امن کا قیام چاہتا ہے، جو کہ پاکستان کے اپنے استحکام اور سلامتی کے لیے بھی ناگزیر ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی ان کوششوں کا بھرپور ساتھ دے

اور فریقین پر بھی دبائوڈالے کہ جنگ کا راستہ ترک کر کے مذاکرات کی طرف آئیں بصورت دیگر یہ تنازعہ نہ صرف مشرق وسطیٰ تک ہی نہیں رہے گا،بلکہ پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے،اس لیے پاکستان کی موجودہ سفارتی کوششیں بہر صورت ایک امید افزا پیش رفت ہیں، اگر پا کستانی ثالثی میں امن کی تلاش کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف ایک بڑی جنگ ٹل سکتی ہے، بلکہ ان کاوشوں کی بنیاد پر عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بھی مزید بلند ہوگا اور اس خطے کے ساتھ دنیا کو بھی ایک محفوظ اور پرامن مستقبل کا راستہ مل جائے گا۔

 

Facebook Comments