سولر پا لیسی میں تبد یلی کی سازش !
اس ملک میں آنے والی ہرحکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے،اس دور حکو مت میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے‘ سلیبزکے دائوپیچ اور بجلی کے بلوں پر نت نئے ٹیکسوں سے گبھرا ئے ہوئے صارفین کو سولر انرجی کی صورت میں عافیت کی ایک صورت نظر آئی اور نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کے تحت سولر انرجی کے چھوٹے پروڈیوسرز جن کے ساتھ بجلی کی خریدو فروخت کے معاہدے کیے گئے
،مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں تبدیلی کے من مانے فیصلے کے بعد سولر صارفین کو ان سبھی فوائد سے محروم کر دیا گیا ہے،اس نیٹ بلنگ کے نام سے آنے والی نئی پالیسی کی رُو سے سولر صارفین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی 26روپے کے پرانے نرخوں کے بجائے اب 11 روپے میں فروخت کریں گے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے 40‘50روپے یونٹ میں وہی بجلی خریدیں گے،یہ حکو مت کی نئی سولر پالیسی بدترین جال ثابت ہوئی ہے،اس نے عوام کے پیسے بھی لگوا دیے اور انہیں ریلیف بھی نہیں مل سکے گا۔
ہمارے ہاں حکومتی سطح پر فیصلے کس طرح وسیع سوچ بچار کے بغیر کیے جاتے اور یکلخت تبدیل بھی ہوجاتے ہیں‘ یہ اقدام اس کی کلاسیک مثال ہے ،مگر اس کے منفی اثرات وسیع تر ہوں گے، اس وقت جب دنیا فوسل فیول کے بجائے ماحول کے لیے محفوظ توانائی کے وسائل کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے‘ سولر انرجی کی حوصلہ شکنی کے حامل فیصلے کے ماحولیاتی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیںہیں،ہماری حکومتیں گرین انرجی کے پُرکشش نعرے تو بہت لگاتی ہیں اور دعوئے بھی کرتے ہیں کہ 2030ء تک نیشنل گرڈ میں قابلِ تجدید وسائل سے پیدا کردہ بجلی کا حصہ 60فیصد تک بڑھا دیا جائے گا ،مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ان کے اپنے ہی دعوئوں پر سوالیہ نشان ہیں،حکو مت کوقابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے لیے چاہیے تھا کہ سولر اور دیگر ماحول دوست وسائل کے لیے زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ،مگر حکومت کے فیصلے ماحول دوست توانائی کی حوصلہ شکنی کے ہی مترادف ہیں۔
اگر دیکھا جائے توحکومت نے نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو یکایک تبدیل کرنے کا جو کام کیا ہے، اس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ گھریلو اور صنعتی صارفین کہ جنہوں نے سولر سسٹم کی تنصیب پر بھاری اخراجات کیے ہیں یا بینکوں سے قرض لے کر سولر سسٹم لگوائے ہیں‘ بجلی کی قیمت فروخت 26 روپے سے 11روپے فی یونٹ کر دیے جانے کے بعد ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ فروخت کے معاہدوں کے بجائے آف گرڈ ہونے کو ترجیح دیں گے،اس کا اثر یہ ہو گا کہ نجی بجلی گھروں کی بے حد مہنگی بجلی کی فروخت یقینی بنانے کیلئے حکومت نے سولر پالیسی میں جو تبدیلیاں کی ہیں‘ ان کے منفی اثرات کی وجہ سے لوگ نیشنل گرڈ پر انحصار بڑھانے کے بجائے اپنی بجلی کی ضرورت میں خود کفالت کی طرف جائیں گے
،اس کے نتیجے میں قومی گرڈ کے سرپلس میں مزید اضافہ ہو گا۔یہ صورتحال نجی بجلی گھروں کیساتھ کیے گئے ناقص فیصلوں کی پیداوار ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ خرابی کو اس کے نقطہ آغاز سے درست کرنے کی کوشش کی جائے‘ نہ کہ ناقص فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ملکی معیشت اور اعتماد کو قربان کیا جائے اورعوام پر آنے بہا نے بوجھ نہ ڈالا جائے ، مگر عوام کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے ،عوام سے ہی رلیف چھینا جارہا ہے ، بڑے ما فیاز کی لڑائی میں بے چارے عوام پس رہے ہیں ،ایک طرف سو لر ز مافیاہے تو دوسری جانب آئی پی پی مافیا، یہ دونوں ہی اپنا فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور عام صاف کو رگڑا لگا رہے ہیں ، حکو مت کبھی ایک کا ساتھ دیے رہی ہے تو کبھی دوسرے کو فائدہ پہنچارہی ہے اور یہ دنوں ہی حکو مت کے حواری ہیں اور دونوں ہی حکو مت میں بیٹھے ہوئے ہیں تو پھر حکومت ان کا نقصان کیسے بر داشت کر سکتی ہے ، اس لیے ایک بار پھر عوامی مفاد کا لا لیبل لگا کر عوامی مفاد میں ایک ایسی نئی سولر پا لیسی بنائی گئی ہے کہ جس میں سستی بجلی بنا کر مہنگی بجلی خریدیے گی۔
یہ ماننا ہی پڑے گا کہ یہ سو لر پا لیسی عوام کے ساتھ ظلم اور بربریت کے مترادف ہے اور حکومت وقت کے خلاف بھی ایک گہری سازش ہے ، جو کہ اس کے اپنے ہی اندر بیٹھے لوگ کررہے ہیں ،اس ناکام بنانا چاہیے ، حکومت ایک طرد دن رات عوام کو ریلیف دینے کے دعوے اور وعدے کررہی ہے تو دوسری جانب عوام کا خون نچوڑنے کے لیے نت نئی اور ناقابل عمل پالیسیاں مسلط کی جا رہی ہیں، کیونکہ اس نئی سولر پالیسی سے جہاں سولر صارفین متاثر ہوں گے وہاں معیشت تباہ ہو گی اور تھرمل پاور و فیول امپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچے گا، اگر اس طرح ہی عوامی مفاد کے خلاف پالیسیاں بنتی رہیں توحکو مت مخالف جذبات میں نہ صر اضافہ ہو گا ، بلکہ حکومت وقت کا استحکام بھی خطرے سے دوچار ہو گا۔

