Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

صحت پر سیاست نہیں۔!

قومی بقاکا سوال ہے !

صحت پر سیاست نہیں۔!

ملک کی سیاست میں بانی پی ٹی آئی کی علالت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی علالت پر ایک طرف احتجاج ہورہا ہے تو دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے کچھ ریلیف ملنے اور عمران خان کی حالیہ خاموشی نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو بڑھاوا دیا ہے کہ آیا ان کے ساتھ کوئی ممکنہ ڈیل ہو رہی ہے یا ان کی قانونی و سیاسی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس میں ابھی تک کسی قیاس آرائی کی تصدیق تو نہیں ہو سکی ، لیکن ایک دم سے بدلتے سیاسی حالات و واقعات اشارہ دیے رہے ہیں کہ بیک ڈور مذاکرات کے نتیجہ میں ایک پیج پر کچھ نہ کچھ تبد یلی ضرور ہورہی ہے

،تاہم اس وقت صحت پر سیاست نہیں، بلا تا خیر علاج ہو نا چاہئے۔کوئی مانے نا مانے ،مگر کہیں نہ کہیں بات چل رہی ہے اور برف بھی پگھل رہی ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف کورٹ میں کیس لگنا شروع ہو گئے تودوسری جانب اٹارنی جنرل ناصرف ہاتھ ہولا رکھ رہے ہیں ، بلکہ سپریم کورٹ کو یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں کہ گزشتہ چند ماہ سے متعدد مقدمات کے باعث جیل میں قید عمران کوئی پیغام جاری کر پائے نہ ہی اپنے اہلِخانہ، پارٹی رہنمائوں اور وکیلوں سے ملاقات کر پائے ہیں،

ایک طرف بانی کی علالت کو لے کر حکو مت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیونگ دینے کے موڈ میں نظر آرہی ہے تودوسری جانب ایک دوسرے کے خلاف گولہ باری میں بڑ ی نرمی بھی آتی جارہی ہے ، لیکن یہ کب تک رہی گی ، اس حوالے سے دونوں ہی جانب غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے کہ اگر عمران خان کو دوبارہ اہلِ خانہ تک رسائی یا آزادانہ اظہار کی اجازت مل گئی تو ان کے رد عمل کی نوعیت کیا ہو گی۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو عمران خان کے اگلے اقدام کی پیش گوئی کبھی آسان نہیں رہی ہے ، کیو نکہ وہ ہمیشہ وہی کرتے ہیں ، جو کہ اپنے تائیں بہتر سمجھتے ہیں، ماضی میں وکلا اور اہلِخانہ سے ملاقاتوں کوسیاسی پیغام رسانی کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور بعد ازاں میڈیا گفتگو یا (ٹوئٹر) ایکس پر جاری پوسٹس کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا رہا ہے،اس میں اعلیٰ فوجی قیادت سے متعلق ان کے بیانات اکثر سخت اور جارحانہ ہوتے رہے ہیں،اس کے باعث ہی اڈیالہ جیل میں ان سے اہلِ خانہ، جماعتی قیادت اور وکلا کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی، اگر دوبارہ اہلِ خانہ اور پارٹی ملاقاتوں کی اجازت مل گئی

تو وہ دوبارہ اپنی بہنوں یا پارٹی رہنمائوں کے ذریعے سخت تنقید کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں، یہ بات ہی مختلف حلقوں میں تشویش کا باعث ہے،اس پر کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں بھی نظر نہیں آرہا ہے ،اس لیے بڑی احتیاط کے ساتھ ہر قد اُٹھایا جارہا ہے اور یقین آنے پر ہی بتدریج رلیف دیا جارہا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسی پابندیوں کو کب تک قبول کریں گے اور ان پا بندیوں کے ساتھ چلتے رہیں گے ؟ خیال کیا جاتا ہے کہ عمران خان کیلئے کسی مفاہمت یا بڑی نرمی کی صورت میں اسٹیک ہولڈرز کو ان کے الفاظ پر بھروسہ کرنا ہی ہوگا، پی ٹی آئی قیادت کی اکثریت سیاسی میدان میں قائم رہنے کیلئے کشیدگی میں کمی لانے کی حامی ہے، لیکن اس کی راہ میں عمران خان خود بڑی رکاوٹ رہے ہیں، لیکن کیا وہ اب اپنا رویہ بدلیں گے؟

اس پرپارٹی کے اندر کوئی بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ رہا ہے ،اس وقت کے بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی اندازہ ہی لگا رہا ہے کہ اس بار بات بن جائے گی ، لیکن سینیٹر فیصل واوڈاپنی بات پر بضد ہیں کہ بانی تحریک انصاف کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے نہ بنی گالا شفٹ کیا جارہا ہے، اس پارٹی میں ہر کوئی مینج ہے، اس لیے ایک طریقے سے مائنس ون کی طرف ہی بڑھا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ایک ارینج منٹ کے تحت ہی کیا جا رہا ہے۔
اس وقت اپنے مفاد کے پیش نظر جو کچھ بھی کیا جارہا ہے ،اس سے قطع نظربانی پی ٹی آئی کے علاج میں تاخیر یا غیر شفافیت نہ صرف انسانی ہمدردی کے منافی ہے، بلکہ اس سے سیاسی بدگمانی اور افواہوں کو بھی تقویت ملتی ہے ،حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے علاج کیلئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اس کے ساتھ ایک قیدی کاحق ہے کہ اسکے قریبی عزیزوں کیساتھ ملاقات کا اہتمام کیا جائے، جبکہ اپوزیشن پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے

کہ صحت جیسے حساس معاملے پر اشتعال انگیز بیانات یا عوامی جذبات کو بھڑکانا ملک کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے، سیاسی قائدین کو احساس ہونا چاہیے کہ انکے الفاظ اور لب و لہجہ براہِ راست کارکنوں اور عوامی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے بیانات جو نظام پر عدم اعتماد یا تصادم کی فضا پیدا کریں‘ وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر طویل مدت میں نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
یہ وقت اختلافات بڑھانے کا نہیں ،اختلافات اور تنائوکم کرنے کا ہے،اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے، جوکہ انسانی ہمدردی‘ آئینی ذمہ داری اور سیاسی تحمل پر مبنی ہو،سیاسی قیادت کیلئے ضروری ہے کہ اپنے لب و لہجے میں شائستگی اور اعتدال برقرار رکھے ،

بیان بازی میں شدت وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتی ہیں، مگر اسکے اثرات معاشرتی تقسیم اور سیاسی تنائوکی صورت میں سامنے آتے ہیں،قومی قیادت کا منصب تقاضا کرتا ہے کہ اختلاف کے باوجود اس بنیادی انسانی اصول پر متفق ہوجائیں کہ بیماری سیاست کا موضوع نہیں ،بلکہ خدمت اور ذمہ داری کا امتحان ہے ، اس معاملے پر سیاسی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرے‘ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھے اور اپوزیشن ذمہ دارانہ رویہ اپنائے تو ملکی سیاست میں ایک مثبت مثال قائم ہو سکتی ہے۔

Exit mobile version