سیاست میں برادری، علاقائی و صوبائی تعصب اور انتہا پسندی کے بجائے قابلیت اور اخلاقیات کی ضرورت و اہمیت
محمد فرقان حیات
سیاست میں برادری، علاقائی و صوبائی تعصب اور انتہا پسندی کے بجائے قابلیت اور اخلاقیات کی ضرورت و اہمیت
آزاد جموں و کشمیر میں موجودہ قانون ساز اسمبلی کی مدت جولائی 2026 میں مکمل ہو رہی ہے، یوں یہ سال انتخابی سال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذاتی طور پر میرا عملی سیاست سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ میں پاکستان سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد گزشتہ ایک سال سے برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ پولیٹکس میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میرے والد محترم عملی سیاست میں موجود ہیں، جس کے باعث میں سیاست کے عمل، اس کے رویّوں اور اثرات کو قریب سے دیکھنے کا موقع پاتا ہوں۔
برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں برادری، علاقائی اور صوبائی تعصب ایک زہرِ قاتل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حالیہ عالمی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیاست میں انتہا پسندی کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جس کی مثال ہمیں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات سے لے کر امریکہ کے صدارتی انتخابات تک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تبدیلی کی لہر سے متاثر ہو کر ہم بھی سیاست میں انتہا پسندی کے اس رجحان سے پیچھے نہیں رہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی جماعتوں کا کردار محدود ہوتا جا رہا ہے اور نظریاتی سیاست شدید طور پر متاثر ہو چکی ہے
۔ نظریات اور سیاسی جماعتوں کی جگہ شخصیات مضبوط ہوتی جا رہی ہیں، اور ہم شخصیات کی پیروی میں اندھی تقلید کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ اپنے پسندیدہ لیڈر کی خوبیوں کا دفاع کرنا ایک مثبت عمل ہے، مگر ان کی خامیوں کو بھی اچھائیوں اور جدید دور کی مجبوریوں کے طور پر پیش کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔
انتخابی ایام میں نہ ہم کارکردگی دیکھتے ہیں اور نہ ہی قابلیت۔ ہم اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں رشتے ناطے تک بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ ذاتی دشمنیاں پال لیتے ہیں جو برسوں چلتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے
کہ جن کے لیے ہم یہ سب کچھ کرتے ہیں، وہ ہر پانچ سال بعد اپنے ذاتی مفادات کے تحت اپنی وابستگیاں اور دوستیاں تبدیل کر لیتے ہیں۔ کبھی ایک جماعت، کبھی دوسری جماعت، اور ہر نئی سیاسی جماعت کو نیا سیاسی قبلہ بنا کر اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے سیاست میں نظریات کی جگہ ڈیلی ویجز اور “نظریۂ ضرورت” نے لے لی ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے کارکنوں کی تربیت اور سیاسی نشوونما پر توجہ دینے کے بجائے ہر پانچ سال بعد الیکشن کے وقت ادھر اُدھر سے امیدوار اکٹھے کر لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہی پانچ سالہ مدت میں متعدد وزرائے اعظم تبدیل ہوتے ہیں اور اراکینِ اسمبلی بھی کئی جماعتیں اور دھڑے بدل لیتے ہیں۔
میرا یہ سب لکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری ہرگز نہیں، بلکہ میں صرف اپنے معاشرے اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاست کی حقیقی تصویر کشی کر رہا ہوں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن لوگوں کے لیے ہم سیاست میں اپنے رشتے، تعلقات اور خاندانی روایات تک قربان کر دیتے ہیں، ان کا نہ کوئی مستقل نظریہ ہوتا ہے، نہ مستقل سوچ، نہ مستقل وابستگی۔
انتخابی سیاست میں ایک دوسرے پر بے ہودہ الزام تراشی، گالم گلوچ اور رنگ برنگے القابات دینا معمول بن چکا ہے، اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہمارے رویّوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انتخابات میں میرٹ کی بنیاد پر، اپنے علاقے کی بہتری اور ترقی کے لیے بہترین منشور رکھنے والی جماعت اور عوام دوست، باصلاحیت امیدوار کا انتخاب کریں۔
ہمیں چاہیے
کہ سیاست کے نام پر بلاوجہ اپنے رشتے، تعلقات اور سماجی معاملات خراب نہ کریں، اور نہ ہی اپنے خاندانوں کی اچھی روایات کو داغدار کریں—خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو الیکشن کے بعد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں، چاہے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے سخت مخالف ہی کیوں نہ رہے ہوں۔
سیاست میں اخلاقیات کی غیر معمولی اہمیت ہے، اور آج کے اس پُرآشوب، نفسانفسی اور نظریاتی انتشار کے دور میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ کسی بھی قوم کی کامیاب زندگی میں اخلاق ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں، بلکہ یہ تمام مذاہب اور معاشروں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل خوبی بھی اخلاق ہی ہے۔
جب قیادت اخلاقیات سے آراستہ ہو تو وہ اپنے ساتھیوں اور معاشرے کو بھی اخلاقی اقدار منتقل کرتی ہے، اور اگر قیادت اخلاقیات سے عاری ہو تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں نفرت، عداوت، رنجشیں اور دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔ اخلاق کا مطلب صرف اپنے سے بڑے یا پسندیدہ شخص سے اچھا برتاؤ کرنا نہیں، بلکہ اس شخص سے بھی حسنِ سلوک کرنا ہے جو آپ سے اختلاف رکھتا ہو یا معاشرتی طور پر کمزور حیثیت رکھتا ہو۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو آج سے پندرہ سو سال قبل نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں جو عظیم سیاسی و سماجی انقلاب برپا کیا، اس کی بنیاد اخلاقیات پر تھی۔ آپ ﷺ نے سخت ترین مخالفت، اذیتوں اور بے ہودگیوں کے باوجود اخلاقیات کا عملی نمونہ پیش کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آج ہمیں اپنے لیڈروں کی اندھی تعریفوں کے بجائے ان کے کردار، اخلاق اور کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نظریات اور قیادت کی پیروی ضرور کریں، مگر برادری، علاقائی یا ذاتی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلیت، دیانت اور کارکردگی کی بنیاد پر۔
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں جب بیمار ہوتے ہیں تو برادری نہیں بلکہ قابل ڈاکٹر تلاش کرتے ہیں، قانونی مسئلے میں قابل وکیل، اور بچوں کی تعلیم کے لیے بہترین استاد یا عالم دین کا انتخاب کرتے ہیں۔ مگر جب بات اپنے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی ہوتی ہے، تو ہم قابلیت کے بجائے برادری اور علاقے کی بنیاد پر نااہل قیادت منتخب کر لیتے ہیں—اور پھر اپنے مسائل کے حل کے لیے عوامی ایکشن کمیٹیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاست میں قابلیت اور اخلاقیات کو ترجیح دینا ہو گی۔ یہی ہمارے معاشرے، آزاد جموں و کشمیر اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

