دنیا عالمی جنگ کے دہانے پر۔!
وینزویلا کے بعد تیل کی سیاست کا رخ دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے تیسرے بڑے ملک ایران کی جانب مڑتا دکھائی دے رہا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پرکہ ایرانی عوام آزادی کیلئے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘ ایران میں جاری مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ امریکہ مظاہرین کی ہلاکتوں کو بہانہ بناکر کسی وقت بھی ایران پر حملہ آور ہوکر رجیم چینج کا دیرینہ خواب پورا کرسکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو امریکہ نہ صرف ایران میںاپنی من پسند حکومتِ ایران یعنی سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کو لابٹھائے گا، بلکہ ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی کنٹرول حاصل کرلے گا،اس طرح دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے دو بڑے ممالک وینزویلا اور ایران کے تیل کے ذخائر پر امریکہ قابض ہوجائے گا۔
اس وقت تک امر یکہ اور ایران کے در میان بیا نیہ کی جنگ جاری ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشن پر غور کر رہے ہیں اور ایران سے پورا حساب لیا جائے گا، ادھرایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہناہے کہ دنیا کے ظالم حکمران اپنے عروج اور غرور کے نشے میں ہی اپنے زوال کی بنیاد رکھ دیتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ بھی شدید غرور میں مبتلا ہیں اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اور تکبر کے زعم میں مبتلا حکمران زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے ہیں،صدر ٹرمپ کا انجام بہت جلد فرعون اور نمرود جیسے ظالم حکمرانوں جیسا ہی ہوگا۔
یہ ایران کے موجودہ حالات کے تناظر میں خوش آئند امر ہے کہ امریکی دھمکیوں کے بعد ملک بھر میں نہ صرف حکو مت مخالف احتجاج میں کمی آئی ہے ، بلکہ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر اپنی وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کررہے ہیں، تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی
اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کررہے ہیں، یہ ملک گیر مظاہرے دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد ویکجہتی اور یگانگت کا مظہرہے ،اس ریلی میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ کرائے کے عناصر اور دہشت گردوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
اگر دیکھا جائے توایران میں ہونے والے مظاہرے ایران کا اندرونی معاملہ ہے ، اس پر امر یکی صدر کے پیٹ میں مروڑ کیوں اُٹھ رہے ہیں
پوری دنیا میں عوام اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں، جوکہ ان کا جمہوری حق ہے، گزشتہ ماہ خود امریکا میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے، مگر ایران کے مظاہروں کو جنگ کا جواز قرار دینا کسی بھی طور بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ نہیں ہے،امر یکہ کو ایران کی عوام کا نہیں ،ایران کی خود مختاری کادرد ہے ، جو کہ انقلاب ایران کے بعد سے ہی محسوس کیا جارہا ہے،امریکا اور مغربی طاقتوں کی نظر میں ایرانی قیادت کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے،
امریکا ایران کو اپنے اور اسرائیل کے مفادات اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے ،ایران کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ امریکی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ اسرائیل کو جائز ریاست سمجھتا ہے،یہ ایران کا جرم امریکا کے لیے ناقابل ِ معافی جرم بن گیا ہے۔
اس لیے ہی امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عاید کی ہوئی ہیں، ایرانی اثاثے منجمد کررکھے ہیں، غیر ملکی کمپنیوں کو ایران سے کاروباری سرگرمیوں سے روکا گیا ہے، یہ بھی امریکا کو خدشہ لاحق ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آگئے تو اسرائیل کا ناجائز وجود ہی خطرے سے دوچار ہو جائے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار نہیں رہ سکے گا ،اس لیے امریکی صدر ایران کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، امریکی صدر آج طاقت کے نشے میں جو جارحیت کر نے جا رہے ہیں
،اس کی مہذب دنیا کو کسی طور تائید و حمایت نہیں کرنی چاہیے، امریکی صدر کا طرز عمل دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرے گا، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کے پاسداری اور بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے جرأت مندانہ موقف اختیار کرنا ہو گا، ورنہ دنیا ایک ایسی راہ پر گامزن ہو جائے گی کہ جہاں تیسری عالمی جنگ کے خطرات نظر انداز نہیں کیے جا سکیں گے۔

