Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

قومی بقاکا سوال ہے !

قومی بقاکا سوال ہے !

قومی بقاکا سوال ہے !

پاکستانی معاشرہ آج کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر مکمل ہی دیوالیہ پن کا شکار نظر آتاہے اور بہت تیزی سے بے انتہا پستی کی طرف گامزن ہے، وہ جس راستے پر رواں دواں ہے، اس کی منزل تاریخ کی بدترین تباہی ہے، کیا کوئی معاشرہ محض جھوٹے نعروں اور خوامخواہ کے تصورات کے بل بوتے پر یکجا رہ سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی قوم علم سے نظر چراتی رہے

اور جہالت کی انگلی پکڑ لے اور نتیجے کے طور پر عظمت کی بلندیوں کو چھولے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہجوم اعتماد اور یقین کی بے حرمتی کرتا رہے اور پھر دنیا کو زیر کرنے کے خواب بھی دیکھتا رہے؟ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ملک میں کرپشن اور کرائم کا ریٹ بڑھتا رہے اور معاشرہ مستحکم ہو جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ حکمران قومی خزانے کو لوٹ کا مال سمجھیںاورادارے خسارے کا شکار ہو جائیںتو ملک کی معاشی اور اقتصادی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے بچ جائے گی؟اس وقت پاکستان کی سیاست اور معیشت بہت سارے پیچیدہ اور گمبھیر مسائل سے دوچار ہے، ان میں سرکاری ملکیتی ادارے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں،ایک بار پھر سال 2024-25 کے اعداد و شمار نے ثابت کر دیا ہے

کہ اگر ان اداروں کی ساخت، انتظام اور احتساب کے نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی خزانہ ایک ایسی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا کہ جس سے نکلنا مزید مشکل ہو جائے گا،ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو 123 ارب روپے کا خالص نقصان ہو ہے ، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی خسارہ 30.6 ارب روپے تھا،یوں محض ایک سال میں ان اداروں کے خالص نقصانات میں تقریباً 300 فی صد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ حکومتی پالیسی سازی اور گورننس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے،لیکن حکومت دعوئیدار ہے کہ اس نے ملکی معیشت کو دلدل سے نکال کر بہتری کی جانب رواں دواں کر دیا ہے۔

اس سرکاری بیانیہ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 فی صد بہتری ہے، مگر اس پرسوال بنتا ہے کہ کیا اس معمولی بہتری کیسے بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے کہ جب مجموعی خسارہ سیکڑوں ارب روپے تک جاپہنچا ہے ،یہ ایساہی ہے کہ جیسے ایک بڑے زخم پر معمولی سی پٹی لگا کر اطمینان کر لیا جائے، جبکہ اندرونی انفیکشن پورے جسم کو ہی کھوکھلا کر رہا ہے،اس بارے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کی رپورٹ نے کئی تلخ حقائق کو بے نقاب کیا ہے،

مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کی مجموعی آمدنی 12.4 ٹریلین روپے رہی، جو کہ بظاہر ایک بڑی رقم ہے، مگر اس آمدنی کا بڑا حصہ منافع میں تبدیل ہونے کے بجائے انتظامی نااہلی، مالی بدعنوانی، تکنیکی نقصانات اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو گیا۔ خاص طور پر تیل کے شعبے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باعث منافع میں کمی ضرور ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عالمی عوامل ہی ان اداروں کی خراب کارکردگی کے ذمے دار ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ دہائیوں سے جاری ناقص حکمرانی، سیاسی مداخلت اور میرٹ کے قتل نے ان اداروں کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ منافع کمانے والے سرکاری اداروں کے مجموعی منافع میں 13 فی صد کمی ہو کر 709.9 ارب روپے رہ جانا بھی ایک تشویش ناک رجحان ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ ادارے، جوکہ قومی خزانے کے لیے سہارا بن سکتے تھے، خود دبائوکا شکار ہو رہے ہیں، دوسری جانب خسارے میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات 2 فی صد کم ہو کر 832.8 ارب روپے ہی رہا،

لیکن اس معمولی کمی کے باوجود مجموعی طور پر سرکاری اداروں کا نتیجہ 122.9 ارب روپے کے خالص نقصان کی صورت میں نکلا، جوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے، ان اعداد و شمار کے پیچھے جو کہانیاں چھپی ہوئی ہیں، وہ ہماری ریاستی انتظامیہ کی ناکامیوں کی ایک طویل فہرست پیش کرتی ہیں،اس کے باعث ہی آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی بار بار پاکستان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے سرکاری اداروں کی اصلاح کرے؛ لیکن اس پر عمل کروانے پر زور نہیں دیتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے توحکومت بھی اشرافیہ مافیا کے ہاتھوں مجبور ایسا کچھ نہیں کررہی ہے کہ جس سے یہ اونے پونے بکنے کے بجائے ٹھیک ہوسکیں، حکو مت بھی باور کروارہی ہے کہ اس مسئلہ کا حل خسارے والے اداروں کو بیچنا ہی ہے،جبکہ ان سرکاری اداروں کو سیاسی بھرتیوں اور اقربا پروری کا گڑھ بنا دیا گیا ، انہیں کاروباری اصولوں کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت چلایا گیا،اس کا نتیجہ نکلاکہ کارکردگی کے بجائے وفاداری معیار بن گئی، اور ادارے مسلسل خسارے میں ڈوبتے چلے گئے، ان خساروں کی قیمت آخرکار عام پاکستانی کو مہنگائی، ٹیکسوں اور کٹوتیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑرہی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اداروں بیچ کر جان چھڑانے کے بجائے ٹھیک کیا جائے، انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے خود مختار، شفاف اور منافع بخش بنایا جائے، لیکن کیا ایسا کچھ کیا جائے گا؟
یہ ایک بڑاہم سوال ہے اور اس کا جواب ہے کہ ایسا کبھی نہیں کیا جائے گا ، اس کے باوجود عام عوام چاہتے ہیں کہ قومی اثاثوں کو اونے پو نے فر وخت کر نے کے بجائے ایک اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت درست کیا جائے ،حکومت کو چاہیے کہ وہ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ کو محض ایک رسمی دستاویز کے طور پر فائلوں میں دفن نہ کرے،

بلکہ اسے عملی اصلاحات کی بنیاد بنائے،این ایچ اے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پاکستان ریلوے اور اسٹیل ملز جیسے اداروں کے لیے واضح روڈ میپ تیار کرے کہ جس میں مالیاتی نظم و ضبط اور بلا امتیازسخت احتساب شامل کیا جائے، اگر آج ہم نے ایسے مشکل فیصلے نہ کیے تو کل قومی خزانہ ان اداروں کے بوجھ تلے دب کر رہ جائے گا، اور ترقی، تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے لیے وسائل دستیاب نہیں رہیں گے، اس ملک کے سرکاری اداروں کی اصلاح،اب ایک معاشی ضرورت نہیں، بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکی ہے۔

Exit mobile version