آزاد ہندستانی تاریخ کا سب سے ناکام ترین ہوم منسٹر سنگھی گجراتی امیت شاہ
ابن بھٹکلی
۔ +966562677707
اگر کسی منسٹر کے زمام حکومت, کسی وزارت کی ناکامی درشاتا کوئی واقعہ انہونی طور ہی ہو جاتا ہے تو بحیثیت وزیر اس واقعہ یا حادثہ کے معرض وجود آنے پر, اپنی غلطی یا, بے بسی یا ناکامی قبول کئے, عموما” وزیر اسٹغفی دیا کرتے ہیں لیکن ہوم منسٹر امیت شاہ کے زمام حکومت برقرار رہتے, ایک دو نہیں بلکہ انسانیت کو شرمسار کرتے, دہلی فساد 2019 , انکے اپنے ہی, بی جے پی نواز سابق گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال ملک کے الزامات پر یقین کریں تو, ہوم منسٹر کی دانستہ لغزشوں سے معرض وجود لایا گیا,
دیش کی افواج, 40 اردھ سینک بل,سی آر پی ایف کو ویر گتی پراپت کرتا پھلوامہ دہشت گردانہ حملہ ہو, انسانیت کا قتل عام کرتا منی پور فساد ہو, یاہوم منسٹر ہی کی ذمہ داریوں پر انگلی اٹھاتا پہلگام دہشت گردانہ حملہ سمیت, کئی ایک دہشت گردانہ واقعات, بالکہ انسانیت سوز فسادات بھی ہوئے ہیں لیکن ہوم منسٹر امیت شاہ کی تساہلی کے لئے, انہیں ذمہ دار ٹہرانے جانے کے باوجود, انہیں اقتدار سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا پے؟ کیا صرف اس لئے کہ پی ایم مودی چی کے گجرات چیف منسٹر رہتے , انکی رنگ رلیوں کےکچھے چھٹے کی فائیلیں یا راز امیت شاہ کے پاس ہیں؟ سنگھی امیت شاہ ایسے ڈھیٹ ہیں
کہ اپنی ذمہ داری سے استغفی دینے کی بات تو دور, موضوع سے ہٹ کر عوامی انتجابی ریلیوں میں, بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کا شوشہ چھوڑے, دیش واسیوں کی نظروں سے ان کی دانستہ کی گئی کوتاہی پر سے نظریں ہٹوانے کی مذموم کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔ رہی بات بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کی تو 140 کروڑ دیش واسیوں کو اس بات کی حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔کہ 2005 سے 2013 تک, کانگرئسی من موہن سرکار دوران 2005 میں سب سے زیادہ 14,916 تو 2013 میں کم سے کم5,234 اجمالی طور ہر سال 9,400 بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کو گرفتار کئے ان پر کاروائی کی گئی تھی
جبکہ جب سے بھارت پر ھندو ویر سمراٹ 56″ سینے والے مسٹر پھینکو کی مودی امیت شاہ سنگھی ھندو رام راجیہ سرکار آئی ہے اس سنگھی رام راجیہ سرکار میں, 2014 میں سب سے زیادہ 989 اور 2017 سب سے کم 51 ان ساڑھے گیارہ سالوں میں اجمالی طور ہر سال 658 بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کو گرفتار کیا جاسکا ہے ۔ اس کا مطلب یاتوبھارت کی دھرتی پر بنگلہ دیشیوں کی تعداد اتنی کم ہوچکی ہےکہ انتخابی عوامی جلسوں میں صدا بنگلہ دیشیوں کے خلاف نفرتی زہر اگلنے والے دیش کے وزیر داخلہ امیت شاہ,
مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی فورس اور دیش کی 14 لاکھ افواج نیز عالم کی سب سے زیادہ والنٹیر والی آرایس ایس کا پورا ساتھ رہتے ہوئے بھی سنگھی مودی امیت شاہ نفرتی رام راجیہ سرکار , بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کو گرفتار کرنےیا تو ناکام ہورہی ہے یا بنگلہ دیشیوں کو گرفتار کر ان پر کاروائی کرنے کے بجائے, ان سے گھوس لئے, بھارت میں انہیں دانستہ غیر قانونی رہنے دیتے ہوئے, بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کا سلگتا مسئلہ باقی رکھے , سنگھی مودی امیت شاہ رام راجیہ سرکار, انکے خلاف ہر انتخابی جلسوں میں زہر اگلتے ہوئے, دیش وایوں کو بنگلہ دیشی گھس پیٹیوں کا ڈر اور خوف بتائے,
این آر سی, سی اے اے کے متبادل ایف آئی آر کالے قانون کو الیکشن کمیشن کا ہتھیار بنائے, اپنی سنگھی حکومت, 140 کروڑ دیش واسیوں پر زبردستی لاگو رکھنے کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں ہم ایشور بھگوان اللہ سے یہی پرارتھنا کرسکتے ہیں کہ وہ ایشور, اپنےخود ساختہ اوتار کو اپنے پاس بلاتے ہوئے, ہم 140 کروڑ بھارت واسیوں کو مودی جی کے, “سب کا ساتھ اور صرف دو گجراتی پونجی پتیوں کے وکاس” سے آمان دلاتے ہوئے 2014 سے پہلے والے کانگرئس من موہن سنگھ راج جیسے, سب سے تیز ترقی پزیر کانگریسی راج دلادے۔وما الفوفیق الااللہ

