آثار جامع مسجد، آبائی گاؤں، اہل نائط، ہوسپٹنم، ہونور،و آس پاس علاقہ جات ولکی سمسی ہیرانگُی وغیرھم
نقاش نائطی
+966562677707
جامع مسجد تعمیر نؤ ولکی افتتاح کے دعوت نامہ اور آسمان پر محو پرواز کسی پرندے کی آنکھوں دیکھے نقوش کی طرح, دور جدید اڑتے ڈروں کیمرے سے کھینچے گئے نقوش جامع مسجد ولکی دید نے, نارتھ کینرا بوناور تعلقہ کی مشہورخراماں خراماں بہتی شراوتی ندی کنارے, مسلم اکثریتی گاؤں ولکی میں, کپڑے لتھوں میں ڈھکی سرکے آنچل درمیان سے, انتہائی دلکش دلنشیں خوب رؤ دکھتی دلہن کی طرح, ہزاروں ناریل کے درختوں کے جھرمٹ درمیاں سے اپنی دید کراتی نصف صد قبل والی تعمیر جدید جامع مسجد نے, آج سے دس گیارہ سال قبل ہماری نٹ کھٹ انگلیوں کے موبائل کی پیڈ پر, بےہنگم ناچ سے, موبائل اسکرین پر نمودار ہوئے
نقوش نقاش نائطی, اہل نائطہ آبائی دارالحکومت آثار جامعہ مسجد ہوسپٹم ہونور کے جو انمنٹ نقوش ہمارے افکار و اذہان پر دستک دے رہے تھے۔یکم جنوری 2026 از سر نؤ تعمیر جامع مسجد ولکی, ہندستان کے مشہور و معروف عالم دین المحترم حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب دامت برکاتہم جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ہاتھوں افتتاحی لمحات جمع ہزاروں فرزندان ودختران آل نائطہ ساکن ساحل سمندر بھٹکل و آس پاس بھٹکل تک وہی پرانے نقوش ارسال کرتے ان کے اذہان میں بھی اپنے جد امجد کے حسین و تابناک تاریخ ودیعت کرنے کے خیال نے, ہمیں اسے اب ازسر نؤ ان کے حوالے کرنے کا حوصلہ بخشا ہے
تاکہ ہوناور شراوتی ندی کے آس پاس ہوسپٹنم، گیرسوپہ شرالکوپہ، ہیرانگڈی، کوروئے، سمسی، ولکی، منکی، سرلگی،مرڈیشور،ٹینگنگنڈی, بهٹکل، شیرور، بسرور, ، بیندور ، گنگولی، کنڈلور، ہلگیرے، ناگور، اوپنے، کرمنجیشور، کوپ, تونسے، اڈپی تک آباد آل عرب آل نائطہ قوم کی نئی پیڑھی تک, انکے جد امجد کی شاندار مہم جؤ تاریخ کو ودیعت کرسکیں۔اور”اہل عرب آل نائط کے سپوت ہم اہل نائط کو اپنے جد امجد عرب تجار کے شاندار ماضی کے بارے میں آگہی ہو۔اسی لئے ہم نے اپنے مضمون کے ساتھ ہی ساتھ، اس جامع مسجد ہوسپٹنم کے مینار کھندر کی تصویر بھی ترسیل کررہے ہیں۔ اپنے جد امجد کی تاریخ جاننا ہر اہل نائط کے لئے ضروری ہے اور یقینا تابناک تاریخ کو یاد رکھتے ہوئے
, انہی اقدار حصول کی جستجو کرنے والے ہی، مستقبل کی تاریخ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ہمارے مضمون کو پڑھنے کے بعد ہمارے بچپن کے استاد، سابق قاضی بھٹکل المحترم حضرت مولانا ملا اقبال ندوی صاحب علیہ الرحمہ نے چند لفظی جو تاثر ہمیں لکھ بھجا تھا اسے ہم قارئین اہل نائط کے روساء کے سامنے رکھتے ہوئے ان سے استدعا کرتے ہیں کہ محترم قاضی ملا اقبال علیہ الرحمہ تو ہمارے درمیان نہ رہے، لیکن ان کی قلبی تڑپ کو, کوئی بھی صاحب خیر پورا کرتے ہوئے ، ان کی روح کو تسکین پہنچانے کی نہ صرف کوشش کرسکتا ہے بلکہ قوم اہل نائط کی شاندار تاریخ کو زندہ و تابندہ کرسکتا ہے
🔭 اپنی آبائی زمین ( ہوسپٹنم ہوناور ) کو حاصل کرنے کا نقاش نائطی کا دعوت نامہ، میرے دل کی آواز اور تمنا، کاش کوئی اس طرف توجہ دے”!
قاضی بهٹکل،مولوی محمد اقبال ملا صاحب ندوی 📌
قبل رسالت مآب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم سے، عربوں کی ہند سے تجارت کے ثبوت ملتے ہیں. ان ایام بحری سفر جدت پسند آلات ماورائیت والےزمانےمیں,بادبانی کشتیوں پر توکل علی اللہ سفر کئے جاتے تھے۔ ہمارے جد امجد اہل عرب زیادہ تر اہل یمن کو یہ افتخار حاصل تھا کہ وہ اپنی بادبانی کشتی تجارتی قافلوں سے, قدرتی وسائل سے مالامال ھند و فارایسٹ ممالک ملیشیا انڈونیشیا چائینا جاپان سے قدرتی من و سلوی نت نئے اقسام کے مصالحہ جات چاول وغیرہ عدن یمن و صلالہ اومان کی بندرگاہ تک پہنچاتے ہوئے
دوسرے تجار عرب کے ذریعے اس وقت کی ترقی پزیر ایران و یورپ روم و فارس حکومتوں تک ان اجناس کو پہنچائے, وہاں یورپ کی مصنوعات سمیت گیہوں کھجور زیتون و زیت زیتوں عربی گھوڑے بھارت سمیت فارایسٹ ایشیا تک پہنچائے ہوئے, روم و فارس والی اس وقت کی طاقت ورترین حکومتوں اور آسمانی ویدک صہوف اولی اور زبرالاولین والی حضرت آدم و حضرت نوح علیہ السلام کی امت ھند, وفارایسٹ کے درمیان بحری تجارتی پل بنائے ہوئے تھے۔یہ ایک مفروضہ کم حقیقت زیادہ ہے کہ آل عرب تجار توکل علی اللہ نکلتے تھے ان کا خاص مستقر تجارت متعیں پورٹ ہوتے ہوئے بھی,طوفانی ہواؤں کے دوش راستہ بھٹکے کبھی بھٹکل تو کبھی مدراس کلیکیرے, تو کبھی کھمبات احمد آباد گجرات تو کبھی مہاراشٹر کونکن تو کبھی مالابار کے مختلف بندرگاہوں کو بازیاب کرتے رہتے تھے۔
یہاں اپنے تجارتی مستقر پر بھلے ہی آپس میں روابط نہ رہے ہوں لیکن اپنے آبائی وطن عدن صلالہ بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد نوخیز مستقر تجارت بازیابی پر تبادلہ خیال ہوتے تھے۔ پہلی صدی ہجری کے اواخر میں حجاز بن یوسف کے ظلم و ستم سے تنگ آئے ، اہل نائطہ تجارتی ہجرتی قافلوں نے، کمٹہ مرزان ہوناور شراوتی کے آس پاس ہوسپٹنم، گیرسوپہ شرالکوپہ، ہیرانگڈی، کوروئے، سمسی، ولکی، منکی، سرلگی، مرڈیشور، ٹینگنگنڈی،بهٹکل، شیرور، بسرور بیندور ، گنگولی، کنڈلور،ناگور ہلگیرے، اوپنے، کرمنجیشور، کوپ, تونسے موجودہ ہوڈے، اڈپی تک آباد ہو گئے تھے.تاریخ کے اوراق میں دیڑھ ہزار سال قبل کے عرب تجار سرگرمیوں کو گر تلاش کریں تو کمٹہ کے قریب مرزان ملکہ چینابائی فورڈ اور بھٹکل قدرتی بندرگاہ سے عرب ممالک مصالحہ جات کالی مرچ چاول ایکسپورٹ کئے جاتے ہم پاتے ہیں۔
اہل نائط قوم، ہند سے سوتی و سلک کپڑے، کالی مرچ، لال مرچ ، ہلدی زیرہ، سوکھے ثابت لیمون، املی، گرم مسالح جات، چاول ناریل املی و غیرهم، بادبانی کشتیوں میں لاد کر، عرب ممالک لے جاتے تھے اور واپسی سفر پر عرب ممالک سے دنیا بھر میں مشہور عربی گهوڑوں کے علاوہ گیہوں، کھجور ، زیتون، زعفران، نیز روم و فارس یورپی منڈیوں سے لائی اجناس لاکر ہند کے بازاروں میں بیچتے تھے. ہندستانی املی جو دکھنے میں کھجور لگتی تھی تمر الهند (ہندی کهجور) اور ناریل جو ثابت بادام سے قدرے بڑا لیکن بمثل لگتا تها جوز الہند ( ہندی بادام ) کے نام سے ابھی تک ممالک عرب میں مشہور یے.
ایک اہم سوال کیا اہل عرب آل نائط تجار جیسا کے بتایا جاتا ہے کہ ساتھ آٹھ سو سال قبل آکر یہاں بس گئے تھے یا مالبار کوچین مدراس کلیکیرے گجرات احمد آباد کھمبات اور مہاراشٹر کونکن کی طرح ماقبل اسلام ہی سے بھٹکل میں آل نائطہ آباد ہوئے تھے۔ اس کے ثبوت کے طور پر اولا” ان تمام جگہوں کے مسلم۔آباد گھروں کی تعمیر کا پیٹرن یکساں پایا گیا ہے
ثانیا” بھٹکل جماعت المسلمین کے ماتحت محکمہ شرعیہ کے پاس ہرارے بارہ سو سال قبل قضیات حل کئے تحریرا” موجود ریکارڈ جو ذمہ داران محکمہ شرعیہ نے 2009 کے آس پاس بھٹکل دورے پر آئے مسلم پرسنل بورڈ ذمہ داران کے سامنے رکھے انہیں حیرت واستعجاب کا شکار بننے پر مجبور کیا تھا اور ابھی سال دو سال قبل بھٹکل جماعت المسلمین نے بھٹکل اپنی آبادکاری کے ہزار سالہ جشن منانے بھی تھے۔
مدراس کلیکیرے 637CE تعمیر پلیہ جامع مسجد کے ریکارڈ موجود ہیں, ملبارکوچین 639CE تعمیر چیرمین جمعہ مسجد کےآثار و ریکارڈ بھی موجود ہیں اور گجرات کھمبات قبلہ اول بیت المقدس کی طرف رخ کئے جونی مسجد کے اثاراب بھی موجود ہیں اور کونکن مہاراشٹرا اور کرناٹک بھٹکل میں ماسوائے نماز پھتر کے نام سے ایک کالے پھتر موجودگی علاوہ, اس وقت کی کوئی مسجد ریکارڈ فقدان کے وجہ بھٹکل و کونکن میں بھی آل عرب اہل نائطہ وقت رسول ﷺ ہی سے آباد ہیں ہم ثابت نہیں کرپارہے ہیں۔ورنہ کرناٹک بھٹکل مدراس چینائی کلیکیرے کیرالہ ملبار کوچین کونکن مہاراشٹرا اور گجرات احمد آباد سبھی چاروں ریاستوں میں عرب تجار اہل نائطہ اسی وقت ہزار دیڑھ ہزار سال سے آباد تھے
کیرالہ ساکن آل عرب کو ماپلاس کہاجاتا ہے انگریزوں کے خلاف ماپلاس قوم کی جو جھڑپ حرب یا جنگ ہوئی تھی کیرالہ کےقریب بھٹکل رہنے کی وجہ سے اس وقت کیرالہ ماپلاس کی برادری والے بھٹکل آل نائطہ قوم نے بھی انگریزوں سے دشمنی مول لی تھی جس میں شہید مسلمانون کی کوئی تاریخ نہ صحیح, مرکھپ گئے انگریزوں کی قبریں بھٹکل ڈونگر پلی میں آج بھی مرنے والے کے نام کتبے کے ساتھ موجود ہیں
ان ایام میں ہندستان کے مختلف علاقوں میں مختلف راجوں، مہاراجوں، نوابوں اور مسلم بادشاہوں کی حکومتیں قائم تهیں اور ہر کوئی راجہ مہاراجہ نواب کہ سلطان، اپنی اپنی سلطنت کے حدود و اربعہ بڑھانے کی تگ و دو میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہتے تھے۔ اس لئے انہیں جنگ و جدال کے لئے عربی النسل گهوڑوں کی ضرورت پڑتی تھی. جو ایک زمانہ سے عرب تجار انہیں مہیا کرتے تھے.
ہوناور اور منکی کے بیچ میں واقع اس وقت کا مشہور شہر ہوسپٹنم کو دراصل اہل عرب اہل نائط کی حکومتی ریاست کے صدر مقام کا رتبہ حاصل تھا. یہاں پر کثیر تعداد میں آہل نائط آباد تھے، یہیں سے ہند بھر کے راجوں مہاراجوں نوابوں اور بادشاہوں کو عربی گهوڑے ترسیل کئے جاتے تھے. مختلف علاقوں میں رسد کی بحفاظت ترسیل کے لئے اہل نائط کی اپنی فوج بھی تھی. روز افزوں اہل نائط کی اس علاقے میں بڑھتی طاقت سے جنوب کے اس وقت کے سب سے طاقتور راجہ وجے نگر کو بڑی فکر لاحق تھی . 547 سال قبل وجے نگر کے راجہ نے اہل نائط کی بڑھتی طاقت کو ختم کرنے کے لئے ہوسپٹنم پر اچانک چڑھائی کی جس میں اہل نائط کو شکست فاش ہوئی تهی.ایک اندازہ کے مطابق اس لڑائی میں دس ہزار اہل نائط شہید ہوئے تھے.
ان شہیدوں کی دریا برد نعشیں جو بهٹکل کے ساحل پر آلگی تهیں بهٹکل ساحل سمندر پر لائیٹ ہاوس کے مقابل والے ساحل پر پہاڑی کے دامن میں سات شہید درگاہ نام سے ابھی تک موجود یے.اور گوا جاتے ہوئےکاروار کالی ندی کنارے شاہ کرم الدین درگاہ بھی شہدائے ہوسپٹنم بتائی جاتی ہے۔یہان یوسپٹنم سے وجے نگر راجہ کی افواج کے ہاتھوں شکشت فاش کے بعد آل نائطہ تجار گوا کے ساحل کو آباد کئے وہاں سے عرب ممالک تجارت شروع کئے ہوئے تھے۔
اس وقت برباد و ویران کئے گئے ہمارے آباء واجداد کے گاؤں ہوسپٹنم میں ابھی، کچھ دیے پہلے تک ہمارے بزرگوں نے مسجد و قبرستان کے آثار دیکھے تھے. لیکن فروری 2016 کے دوسرے ہفتہ ایک دینی سفر، سرسی سے واپسی پر ہم نے ہوسپٹنم جاکر اپنی آنکهوں سے ان کهنڈرات کی دید کا قصد کیا۔ جہاں پر ساڑھے پانچ سو سال قبل ہمارے آباء و اجداد نے،اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی. ہوناور سے بهٹکل آتے ہوئے ناخدا محلہ مسجد کے بعد، ہائی وے کے سیدھے الٹے سیدھے ہاتھ پر قائم چرچ کے بعد، منکی اڈگونجی، گون ونتے، شمبھو گوڈا کے گاؤں سے کافی پہلے الٹے ہاتھ پر، ہوسپٹنم کا بہت بڑا سمنٹ کا بورڈ یے. ہائی وے سے ایک تا دیڑه کلومیٹر اندر الٹے ہاتھ پر اس تاریخی مسجد کے آثار کے نام پر ایک بہت بڑے مینار کا کهنڈر حسرت و یاس سے، اسے تعمیر کرنے والے اہل نائط کی، آس پاس بسنے والی پیٹرو ڈالر سے مالامال خوش حال، آل نائط کا منتظر، شکوہ کرتا نظر آیا کہ “کاش کوئی تو صاحب حیثئیت فرزند نائط، اس طرف آئیگا 547 سال قبل تک اللہ و اکبر کی صدائیں بلند ہونے والے ان ٹوٹے پوٹهے کهنڈر نما میناروں کو دیکھ کر، ان کا ایمانی جوش ٹهاٹیں ماریگا، اور وہ اس مقدس اراضی پر قابض صنم کے پچاریوں کو کچھ دے دلا کر، یا ان سے اس زمین کو خرید کر اسے آزاد کریگا. اور اس علاقے میں پھر سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرنےوالے مسلمانوں کو آباد کرائے گا. اور اپنے اہل نائط باپ دادا کے بسائے گاؤں کو پھر سے بسائے گا، تاکہ انکی ارواح کو سکون و چین میسر ہو”
1469 یعنی آج سے 547 سال قبل ہم سے بزور قوت چهینی گئی ہماری املاک کو، بزور قوت بازو نہ صحیح، بزور قوت زر ، خرید کر اسے ایک مرتبہ پھر آباد کرنےکی، کیا ہماری ذمہ داری نہیں یے؟ ایک مرتبہ بحیثئیت مسجد نماز قائم کی گئی جگہ، تا قیامت مسجد ہی رہتی یے یہ تو سنا تھا. لیکن یہ کیا ہمارے ابا و اجداد نے جس مسجد میں باجماعت نمازیں کئی صد تک پڑھی تهیں آج اس جگہ پر صنم کے پجاریوں کے بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں. اس ظلم عظیم کے لئے کوئی اور ( ہندو بھائی) نہیں ہم خود ہی ذمہ دار ہیں. ہم نے تو ساڑھے پانچ سو سال تک اس جگہ کو پلٹ کر دیکھنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی تھی، جہاں کبھی ہمارے آباء واجداد کی سلطنت قائم تهی. جہاں سے ہمارے ابا و اجداد ہند بھر سے تجارت کیا کرتے تھے. ہند بھر کے راجوں، مہاراجوں، نوابوں، بادشاہوں، سے ان کے تجارتی تعلقات تھے. جہاں کی آب و ہوا نغمہ توحید سے منور تھی، جہاں کی فضاؤں میں روزانہ پانچ وقت اللہ و اکبر کی صدائیں گونجا کرتی تهیں.
ہم اہل نائط ہونے پر تفخر کرنے والے آل نائط تو بڑے خود غرض نکلے. ہم نے پلٹ کر اپنی ویران مسجدوں قبرستانوں کو ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ ہم سے تو وہ صنم کے پجاری ہندو بهائی اچھے ہیں جنہوں نے آج ساڑھے پانچ سو سالوں تک ہماری مسجدوں کے کهنڈرات کی حفاظت کی ہے۔اگر وہ چاہتے تو ہمارے جد امجد آل عرب کی تعمیر اس جامع مسجد کے منار کھنڈر کو زمین بوس کر اسلامی اقدار کی نشانی مٹا سکتے تھے۔ اس ٹوٹے پھوٹے مینار پر نیچے داخلی دروازہ اور پہلی منزل پر جانے کے لئے دروازہ کے آثار بتاتے ہیں کہ ساڑھے پانچ سو سال والی جامع مسجد کتنی عالیشان رہی ہوگی زمانےکی ستم ظریفی ساتھ خصوصا” ھند و پاک بٹوارے بعد, مسلم دشمن نفرتی آندھی نے پوری جامع مسجد کے ایک ایک پھتر کو چرائے آس پاس بسی بسائے مشرکین کی دیواروں کا شاید حصہ بن چکے ہیں ۔لیکن ان کفار و مشرکین کا ہمیں شکریہ ادا کرنا پڑے گا کہ انہوں نے پتہ نہیں کس سبب سے جامع مسجد کے مابین دیوار اراضی کو اور مسجد کے مینار کو جوں کا توں چھوڑا ہوا ہے
ہند کی تاریخ شاہد یے، ایڈوانی کی رام مندر رتھ یاترا سے قبل تک چمنستان بھارت میں خصوصا جنوب ہندستان میں امن و بھائی چارگی قائم تھی۔ ان دو تین دہوں میں ایک منظم سازش کے تحت سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے گندی ذہنئیت والے سیاست دانوں نے، ہم ہندو مسلم بهائیوں میں, آپس میں منافرت اور دوریاں پیدا کردی ہیں. خصوصا أن دس سالوں میں آپسی منافرت، انتہا تک پہنچا دی گئی یے. ایسے میں ہمارے آباء و اجداد کا قتل عام کر، ان علاقوں سے کوچ کر دوسرے علاقوں میں ہمارے آباء واجداد, آباد ہوجانے کے بعد، ہماری رہائشی املاک و کھیتی باڑی کی زمینوں پر بھلے ہی آغیار نے قبضہ کرلیا ہو. لیکن نصف صد قبل تک قبرستان اور مسجد کی جگہ پر اغیار نے قبضہ نہیں جمایا تھا. غالباً اب دو تین دہوں کے دوران ہمارے آباد و اجداد کے مدفون قبرستان پر اغیار نے قبضہ جما گھر تعمیر کر لئے ہونگے. نصف صد قبل بهٹکل مرڈیشور منکی ولکی کے مسلمان اگر چاہتے تو اس پورے علاقے پر واپس قبضہ حاصل کئے اس جگہ پر مسلم آبادی قائم کرسکتے تھے .
آج سے دس سال قبل ہمارے اس علاقے کا دورہ کرتے وقت تک، ہم نے محسوس کیا کہ فی زمانہ اتنی منافرت کے باوجود ، اس گاؤں کے اکثر ہندو بھائی بہنیں، ساڑهے پانچ سو سال قبل کی مسجد کے آثار کے بارے میں جانتے ہیں جسے ہم آل اہل نائط بھلا بیٹھے ہیں. اس جگہ ایک بڑے صحن کے سرہانے ایک بہت بڑے مینار کے کهنڈرات ابھی تک موجود ہیں. مینار کے کهنڈر سے پتا چلتا یے وہ مسجد کئی منزلہ یا کم از کم دو منزلہ شاندار مسجد ضرور تھی. مینار کے اندر سے اوپر جانے کے لئے پھتر کی سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں. مینار کے اندر جانے کے دروازہ کی کهلی جگہ موجود ہے. اوپری منزل پر بھی دروازہ کا خلاء دوسری منزل کی گواہی دیتا یے. مینار کے پیچھے، صحن غالباً مسجد کا اندرونی حصہ یے جہاں پر اس وقت پنج گانہ نمازیں پڑھائی جاتی تھیں،اس جگہ پر آس پاس کے گھر والوں نے اپنے استعمال کے لئے بیت الخلاء بنائے ہیں، جو غالبا بارہ پندرہ سال قبل ہی بنائے لگتے ہیں. ایسا لگتا یے محکمہ آثار قدیمہ والوں نے اسے محفوظ رکھا تھا. لیکن چونکہ ملکئیت مسلمانوں کی تھی اور مسلمانوں کو اپنے آثار کے بقاء کی فکر نہ تھی، اس لئے ان گذشتہ چند سالوں کی مذہبی منافرت کی آندھی نے، ان ہندو بهائیوں کے ذہن و افکار کو بھی پراگندہ و ماؤف کیا ہوگا اور انہوں نے پانچ سوا پانچ سو سالوں تک ان آثار مسلمانی کی حفاظت کرنے کے بعد، اب کچھ دیے قبل ان پر قبضہ جمالیاہوگا. اور حکومتی ہندو اہلکاروں نے جان بوجھ کر چشم پوشی کی ہوگی.
ہم نے بارہا اس بات کا مشاہدہ کیا یے .شہر بهٹکل میں بڑھتی آبادی اور زمین کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ ہندو بهائیوں نے علاقے کے علاقے مسلمانوں کو بیج کر دوسری جگہ رچ بس گئیے ہیں. لیکن خالی کر جاچکے اور اب مسلمانوں کے آباد علاقوں میں موجود، انکے پرانے مندروں کے آثار کو ایک دو ہندو بھائی تندہی سے روزانہ دیکھ بھال کئے ،اس مندر یا مندر نما ڈھانچے کی حفاظت کیا کرتے ہیں. اور ہم مسلمان ہیں، اپنے آباء و اجداد کے شاندار ماضی کو یاد کرتے ہوئے، ان علاقوں کی مکرر زیارت کر، ان آثار کی بقاء کی کوئی کوشش تک نہیں کر پائےہیں. اللہ ہی ہمیں ہماری لغزش پر ہماری باز پرس نہ کرے اور ہمیں معاف کردے.
دیر آید درست آید. ہمیں قوی امید یے ہمارے آباء و اجداد کی ان املاک پر یقینا اغیار نے قبضہ جما لیا ہوگا، لیکن ان کی ملکئیت تبدیل کی نہیں ہوگی. کم از کم مسجد کی اراضی اور قبرستان کی اراضی تو اوقاف کے تحت ہی ہوگی.اور اگر ہمارا اندازہ صحیح یے. تو اوقاف میں اثر و رسوخ رکھنے والے ہمارے اہل نائط احباب، اس سمت کوشش کریں تو اس مسجد و قبرستان والی جگہ پر تصرف حاصل کیا جاسکتا ہے.اور اس طریق سے ممکن نہ ہو تو کئی ہزار کروڑ کے اہل نائطہ تاجروں کو, اپنے بطن میں رکھنے والی اہل نائط قوم، گر چاہیں تو, اس پورے علاقے کو خرید کر آس پاس کے غریب مسلمانوں کو اس علاقے میں بسایا جا سکتا پے.
اسی آل نائطہ تجار کی اس وقت کی درالحکومت ہوسپٹنم ہوناور کے قریب تر علاقے ولکی کی نصف صد سال پرانی جامع مسجد کو اہل ولکی نے, اس پرانی جامع مسجد کے اقدار کو باقی رکھے کافی بڑے سرمائے سے اسکی تجدید نؤ جو کی ہے جس کا افتتاح آج یکم جنوری جو ہورہا ہے اس کے لئے سب سے پہلے ولکی کے ساکن آل نائطہ احباب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ اس حسین موقع پر ولکی منکی مررڈیشور بھٹکل و اطراف بھٹکل کے اہل نائطہ کافی احباب جو یہاں جمع ہیں وہ اپنی پہلی فرصت میں اپنے جد امجد آل عرب اہل نائطہ کے تجارتی مستقر سلطنت ہوسپٹم ہونور جاکر ایک مرتبہ اپنی آنکھوں سے ساڑھے پانچ سو سال قبل والی جامع مسجد کے کھنڈرات کو دیکھیں اور جامع مسجد کے مینار کے کھنڈر دیکھ دل میں کسک تڑپ جاگ اٹھتی ہے تو پھر اس کے حصول کی کوششیں کی جائیں اور جامع مسجد کو حاصل کئے اسی جگہ پر دوبارہ جامع مسجد ہوسپٹنم تعمیر کی جائے اورساتھ والی آراضی خرید کے اس کے قرب تر آباد روشن آباد کاسرکوڈ کے کچھ مسلمانوں کو وہاں لیجاکر بسایا جائے تاکہ ہوسپٹنم جامع مسجد کو دوبارہ ویران نہ کیا جاسکے۔ یاد رہے ایک مرتبہ تعمیرمسجد تاقیامت مسجد ہی رہتی ہے اوراسے غیر آباد چھوڑے جانے پر کل قیامت کے دن ہم سے سوال کیاجاسکتا ہے۔ومالتوفیق الا باللہ

